Our writers

Vices of the western world

اب اُڑ جا رے پنچھی : تحریر سید امجد حسین بخاری

بخاری میری خاطر صرف ایک کش صرف ایک کش، تم اپنے دوست کی خاطر ایک کش نہیں لگاﺅ گے؟ یہ کلاس کی جانب سے کی جانے والی باربی کیو پارٹی میں میرے ایک بہت قریب دوست کے جملے تھے۔ ایک وقت کو میں نے سوچا کہ ایک کش لگانے میں کیا حرج ہے؟ کیا ہو جائے گا جو میں اپنے دوست کا دل رکھنے کے لئے ایک کش سگریٹ کا لے لوں ؟ لیکن پھر خیال آیا کہ یہ ایک کش ہی اس پرندے کی مانند ہوتا ہے جو اپنی پہلی اُڑان سے خوف زدہ ہوتا ہے مگر جوں ہی وہ اُڑنا شروع کرتا ہے تو اس کی پرواز بلند سے بلند تر ہوتی جاتی ہے۔ اکثر نوجوان اپنے دوستوں کی خاطر ہی نشے کی ابتدا ءکرتے ہیں اور یہ ابتدا رفتہ رفتہ ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں قریبی دوستوں ہی کی وجہ […]

قفس میں رقص‘‘میں رقاص کہانیاں”  تحریر حسیب اعجاز عاشر

قفس میں رقص‘‘میں رقاص کہانیاں” تحریر حسیب اعجاز عاشر

ناسائی سے بات کا آغاز ہو تو میری یاداشت اتنی اچھی تو نہیں مگر جو دل میں گھر کرلیتے ہیں تو اُنکی ہر ادا ہر بات کسی نہ کسی بہانے یاد رہ ہی جاتی ہے ۔یہ10جون 2014کی بات ہے ،جب میں ایک آن لائن بلاگ پر طبع آزمائی میں مصروف تھا تو ’’زندگی اک سفر ہے‘‘ کے عنوان سے ایک دلکش تحریر مجھے موصول ہوئی یہ بڑے خوبصورت انداز میں لکھا گیا سات پیراگراف پر مشتمل ایک کالم تھا،نہیں !بلکہ ملتان سے اسلام آباد تک کا سفرنامہ تھا۔۔،نہیں ۔۔بلکہ یہ بھی نہیں۔۔ وہ ملک و قوم کی حالت زار پرایک محب وطن کا نوحہ تھا،اُس تحریر میں اُسکی حقیقت پسندی،صاف گوئی ،بے لاگ اندازِ بیان نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مجید احمد جائی کو یہ جان کو حیرت ہو گی کہ اُس کی وہ تحریر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے ۔ ۔بس تبھی سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

نو برس پہلے سعودی سہارا، نو برس بعد قطری سہارا: سید سردار احمد پیر زادہ

ٹھیک آج ہی کے دن نواز شریف سات سالہ جبری جلاوطنی کو توڑ کر 25 نومبر 2007ء کو لاہور ایئرپورٹ اترے تھے۔ اس سے تقریباً ایک ماہ قبل بینظیر بھٹو خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آچکی تھیں۔ نواز شریف کی زبردستی وطن واپس آنے کی کوشش کو روکنے کے لئے پرویز مشرف نے پانچ دن پہلے یعنی 20 نومبر 2007ء کو سعودی عرب کا اچانک دورہ کیا جس میں انہوں نے سعودی حکام سے منت کی کہ وہ نواز شریف کو دس برس کی مدت ختم ہونے سے پہلے پاکستان واپس آنے سے روکیں۔ اس پر سعودی حکام نے پرویز مشرف کو روکھا سا جواب دیا کہ ”اگر ڈیموکریٹک سوشلسٹ وومن لیڈر بینظیر بھٹو کو واپس آنے کی اجازت مل سکتی ہے تو کنزرویٹو شریف کو بھی واپس آنے کی اجازت ہونی چاہئے“۔ نواز شریف کی یہ واپسی ایک نئے نواز شریف کی آمد تھی۔ ان کی سیاسی شخصیت […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

کلائیو نے الزامات کو ہی توہین سمجھ کر جان دے دی : سید سردار احمد پیرزادہ

پندرہویں صدی کے برطانیہ کے بادشاہ ہنری سیون کے زمانے سے ویلز برطانیہ کے قریب ایک امیر جاگیر قائم تھی۔ اس جاگیر کا نام کلائیو فیملی سٹیٹ تھا۔ اس جاگیر کے مالک خاندان کی عوامی اور سیاسی خدمات کی طویل ہسٹری تھی۔ ہنری بادشاہ کے خزانے کا نگران آئرش چانسلر بھی اسی خاندان سے تھا جبکہ سولہویں صدی میں بھی اس خاندان کے افراد برطانوی پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں اس جاگیر کا وارث رچرڈ کلائیو نامور وکیل بنا جس کی آمدنی لامحدود تھی۔ وہ اپنی آمدنی سے ریاست کے خزانے میں حصہ بھی ڈالتا۔ اس نے کئی برس پارلیمنٹ میں اپنے حلقے منٹگمری شائر کی نمائندگی بھی کی۔ اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام رابرٹ کلائیو رکھا گیا۔ وہ رچرڈ کلائیو کے تیرہ بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ نوعمری میں ہی رابرٹ کلائیو کے اپنے ہم عمروں سے لڑائی جھگڑے […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

ٹرمپ کی فتح ریجنل شناخت کی فتح ہے: سید سردار احمد پیر زادہ

ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍامریکہ کے نئے منتخب ہونے والے صدر ٹرمپ کی جیت کو ایک اَپ سیٹ کہا جارہا ہے لیکن یہ اَپ سیٹ نہیں ہے بلکہ امریکی انتخابات سے قبل ہونے والے سطحی تجزیؤں کے باعث یہ اَپ سیٹ لگتا ہے۔ امریکی ووٹروں کا حالیہ رجحان اُس تبدیلی کی طرف ایک اور قدم ہے جو دنیا میں بڑی تیزی سے آرہی ہے۔ اس تبدیلی کو تجزیہ نگار محسوس کرنے کی بجائے اَپ سیٹ کہنے لگے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز سے دنیا کو نظریاتی نعروں میں تقسیم کیا گیا جس میں سرمایہ کاری، کمیونزم اور مذہبی نعرے وغیرہ شامل تھے۔ اس کی وجہ کچھ بھی تھی لیکن یہ سب نعرے سرد جنگ کا ایندھن بنے۔ سرد جنگ کے ختم ہونے یعنی بیسویں صدی کے اختتام سے تھوڑا عرصہ پہلے گلوبلائزیشن کی بات کی جانے لگی۔ اس نظریئے کے تحت ریجنل شناخت اور ریجنل ثقافت وغیرہ کو مسترد کیا گیا۔ گویا پوری دنیا […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

کیا بھارت کولڈ وار کی ہسٹری دہرانا چاہتا ہے؟: سید سردار احمد پیر زادہ

انسانوں کی طرح جنگوں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔
انہی میں سے ایک ’’کولڈ وار‘‘ ہے جس کا ذکر سوویت یونین کے خاتمے سے پہلے بہت عام تھا۔ جونہی سوویت یونین ڈوبا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ کولڈ وار کا زمانہ بھی ختم ہوگیا۔ کولڈ وار کے خاتمے کی بات کرنے سے پہلے اس کے آغاز کی بات کرتے ہیں۔ اب سے ٹھیک سات سو برس قبل یعنی چودہویں صدی میں سپین کا ایک مشہور پرنس ’’ڈون جان مینوئل‘‘ ہوگزرا ہے۔ وہ اپنی بہت سی شادیوں کے انتخاب میں اپنی سیاسی اور معاشی ترقی کو ضرور مدنظر رکھتا تھا۔ اس کی شدید خواہش ہوتی کہ اس کی اولاد کا تعلق شاہی خاندانوں سے برقرار رہے۔ وہ اپنے وقت کا امیر ترین اورسب سے طاقتور پرنس بن گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے عہد کے بادشاہ کے مقابلے میں اپنی کرنسی بھی جاری کردی۔ ڈون جان کو لٹریچر کا بہت […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

جنرل مشرف نے کہا، محمد ضیاء الدین صاحب نے سناء: سید سردار احمد پیر زادہ

محترم نصرت جاوید صاحب نے 31 اگست 2016ء کو اپنے کالم ’’مشرف ایم کیو ایم…. ریکارڈ درست ہوگیا‘‘ میں جنرل مشرف کے ایم کیو ایم کو غدار کہنے والے بیان کا واقعہ تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پہلے کالم 25 اگست 2016ء میں لکھا تھا کہ جنرل مشرف کی ایم کیو ایم غدار ہے والی بات انہیں محترم محمد ضیاء الدین صاحب کے ذریعے پتہ چلی جو اُن کے خیال میں اُس افطار پارٹی میں بذاتِ خود موجود تھے لیکن اس ریکارڈ کی درستگی محترم سعود ساحر صاحب نے نصرت جاوید صاحب کو بھیجی گئی ای میل کے ذریعے کرنی چاہی۔ ’’سعود صاحب نے یاد دلایا کہ ضیاء الدین صاحب غالباً ان دنوں لندن میں تھے اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ انہوں نے مجھ سے فون پر بات کی اور اس بات کی تصدیق چاہی کہ کیاواقعی پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو غدار وطن کہا […]

ایک شام ۔۔ غازیوں اور شہیدوں کے نام: حسیب اعجاز عاشرؔ

ایک شام ۔۔ غازیوں اور شہیدوں کے نام: حسیب اعجاز عاشرؔ

چلتا ہے خنجر تو چلے میری رگوں پر                                                            
خودی بیچ کے اپنی میں کبھی جھک نہیں سکتا                                                            
مٹنے کو تو یہ دنیا بھی مٹ سکتی ہے لیکن                                                            
تاریخ کے اوراق سے میں مٹ نہیں سکتا    
چھ ستمبر۱۹۶۵ کو جذبہِ جہاد اور ایمانی قوت سے یک جان ہو کروطنِ عزیز پاکستان کی سالمیت اور قوم کے تحفظ کے لئے عظیم […]

حکمرانوں کچھ تو سوچو ذرا : تحریر ڈاکٹر ایم آئی درانی

حکمرانوں کچھ تو سوچو ذرا : تحریر ڈاکٹر ایم آئی درانی

 کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کو ان کے بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین زمہ داری ہوتی ہے جس میں اپنے عوام کو پانی بجلی گیس اور صحت کی بہتریں اور ارزاں سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کسی کے گھوڑوں اور بلیوں کے لیئے تو ڈاکٹرز اور ادویات کی بھر مار لیکن عام آدمی کو صحت کے نام پر سرکاری اسپتالوں اور پرائیویٹ اسپتالوں میں جس ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چپھا نہیں اسپتالوں کے نام پر مزبعہ خانے جہاں گوشت کے ساتھ کھال بھی اتارنے کے لیئے ہر طرح کے ماہر موجود جہاں کمیشن کے لیئے مہنگے ٹیسٹ سے لیکر غیر ضروری ادویات کی بھرمار بھی اسی زیادتی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں لیکن محکمہ صحت سے لیکر تمام ذمہ دار ادارے اس تمام ظلم و ستم سے لا تعلق نظر آ رہے ہیں […]

اگست بے شمار وبے مثال قربانیوں کا مہینہ:  حسیب اعجاز عاشرؔ

اگست بے شمار وبے مثال قربانیوں کا مہینہ: حسیب اعجاز عاشرؔ

ماہ ِمحرم اسلام کی سربلندی کے لئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جبکہ ماہ ِ اگست میں بھی اس کرہ عرض پر اسلام کے نام پر لی گئی دوسری سلطنت خداداد پاکستان کے حصول اور بقاء و سلامتی کی خاطر بے مثال قربانیوں کی داستانیں دلوں کو گرما دینے والی ہیں۔ایک طرف چاہے ہم اگست میں آزادی کا جشن جتنے بھی جوش و خروش،جذبہ و جنون سے منا لیں مگر اِس آزادی کے حصول میں دی گئی لاکھوں قربانیوں کو کبھی بھی بھولایانہیں جاسکتا، ہجرت کی داستانیں اتنی دلخراش اور طویل ہیں کہ انہیں قرطاس و قلم کی زینت بنانا اِس ناچیز کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ماہ میں تحفظِ پاکستان کے خاطر نچھاور ہونے والیں محبانِ وطن کی جانیں یہ باور کراتیں ہیں کہ کوئی مائی کا لال اس وطن عزیز پر میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
چلیئے تاریخ کے اوراق پلٹتے […]

advertise