Our writers

پاکستان میرے رب کی عطا کردہ نعمت ۔۔۔۔ڈاکٹر ایم آئی درانی

پاکستان میرے رب کی عطا کردہ نعمت ۔۔۔۔ڈاکٹر ایم آئی درانی

کسی زمانے کی بات ہے کہ بندروں کے ایک گروپ کو کہیں سے ایک ناریل مل گیا اب ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کھانے کی چیز ہے یا کھیلنے کی ان بندروں کے بڑے بڑے دانشور بیٹھے کہ یہ کیا چیز ہے لیکن فیصلہ نہ کر پائے کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے ایک ملک میں رواج تھا کہ جب بھی کسی بادشاہ کا انتقال ہوتا تو شہر کے دروازے پر سب سے پہلے آنے والے کو یہ بادشاہ بنا ڈالتے اتفاق کہ بادشاہ کا انتقال ہوا دوسرے دن شہر کی فصیل کا دروازہ کھولا گیا تو ایک زمانے بھر کر بھوکا فقیر وہاں موجود تھا جسے بڑے دھوم دھام سے شہر لایا گیا تخت پر بٹھا کر اسے بادشاہ بنا دیا گیا اور اس سے کہا بادشاہ سلامت حکم کیئجئے کیا خدمت کی جائے بادشاہ جو زمانے کا بھوکا تھا اس نے موقعہ […]

یہ زمین مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت : حسیب اعجاز عاشرؔ

یہ زمین مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت : حسیب اعجاز عاشرؔ

ایک بار پھر پرچم لہرائے جائیں گے،عمارتوں پے شاندارجگ مگ کرتے برقی قمقموں کے سہرے،گھروں میں جھنڈیاں اور سینوں پرجھنڈے سجائے جائیں گے۔پرئیڈ ہو گی اور بوٹوں کی دھمک سے تن بدن میں ایک نئا ولولہ ہلچل مچائے گا۔مزار قائد پے عقیدت کے گلدستے نچھاور ہونگے۔سیاسی قائدین کے حب الوطنی سے سرشار پیغامات اخبارات و خبروں کی زینت بنے گے۔بچوں کے’’جیوے جیوے پاکستان‘‘،’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘، ’’یہ وطن تمہارا ہے‘‘ جیسے گنگناتے خوبصورت ملی نغموں سے ہمارا سینا فخر سے تن جائے گا۔’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے لکھے بینر اُٹھائے اہلیان وطن گزرگاہوں پر دھمال ڈالیں گے ۔ڈھول بجے گے۔توپیں چلیں گی۔آتش بازیوں سے آسمان چمک اُٹھے گا۔رنگ برنگی خصوصی نشریات سے ٹی وی چنیلز دن بھر وطن سے محبت کا دم بھرتے نظر آئیں گے۔سوشل میڈیا پے بھی دلکش ڈیزان کئے ہوئے انفرادی اور اجتماعی مبارکبادوں کے پیغامات کا بھرپور تبادلہ چلتا رہے گا۔دعوتیں اُڑائیں جائیں گی۔مساجد میں […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

سانحہ کوئٹہ کیا لے گیا اور کیا دے گیا؟: سید سردار احمد پیر زادہ

سِول ہسپتال کوئٹہ کا بم دھماکہ کیا لے گیا اور کیا دے گیا؟ اس کا سب سے اہم اور پہلا جواب یہی ہے کہ یہ دھماکہ 72 سے زائد قیمتی جانیں لے گیا۔ اس کے علاوہ یہ دردناک حادثہ ہم سے مزید بھی کچھ لے اور دے گیا ہے۔ آئیے تجزیہ کرتے ہیں۔ مولانا شیرانی اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسمبلی میں بولے ”قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے، مسلح تنظیمیں کس کی ہیں، بتایا جائے۔ اچھے اور برے طالبان کے کیا معنی؟ یہ کرائے کے قاتل ہیں۔ دشمن گھر کے اندر ہیں، دوسروں سے کیا گلہ کریں۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کیوں لیا جارہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ“ مولانا شیرانی کے بعد انہی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ”زبان پر ’را‘ کا لفظ آتے ہی بات ختم ہو جاتی ہے۔ ایجنسیاں کیوں بار بار رک جاتی ہیں اور ہم بری الذمہ ہو جاتے ہیں، اس طرح بری […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

کیا 12 مئی کی ذمہ داری افتخار محمد چوہدری پر بھی آتی ہے؟ : سید سردار احمد پیرزادہ

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے ایسے گورکھ دھندے دفن ہیں جن کی لرزہ خیزی سے انسانیت اور جمہوریت ہاتھ جوڑ کر پناہ مانگتی ہے۔ ایسے کرتوتوں کے بڑے سرغنوں میں ایک نام پرویز مشرف کا بھی ہے۔ یوں تو ان کے گلے میں انسانی اور جمہوری مظالم کے بہت سے طوق پڑے ہیں لیکن 12مئی 2007ء کو کراچی میں ہونے والی خونی ہولی ان کے ماتھے سے ہمیشہ خون ٹپکاتی رہے گی۔ بہت چھوٹے سے ذاتی مفاد کے لئے اس روز کراچی میں جو ہوا وہ دسمبر 1971ء کے مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ کی یاد دلا گیا جب مکتی باہنی اور بھارتی خفیہ ایجنٹوں نے ہر پاکستانی کا نشانہ لے کر ڈھاکہ کی سرسبز مٹی کو سرخ کردیا۔ وہاں کی پولیس اور سیکورٹی کے دوسرے ادارے موت بردار مکتی باہنیوں اور بھارتی ایجنٹوں کے سامنے ’’دروَٹے‘‘ خاموش رہے۔ وہاں کا ایئرپورٹ، ٹی وی سٹیشن، ریڈیو، عدلیہ کی عمارتیں، ریلوے […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

سوچو ذرا! عمران خان جیسا کوئی اور ہوتا تو کیا ہوتا؟ : سید سردار احمد پیرزادہ

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حیران کن حقیقت ہے کہ عمران خان کے ساتھ ایک ایسی خوش قسمتی جڑی ہوئی ہے جو کسی دوسرے سیاست دان کے پاس نہیں ہے۔ یعنی عمران خان جو بھی کرلیں یا کہہ دیں، معمولی تنقید وصول کرنے کے بعد پھر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ سب کچھ کوئی دوسرا سیاست دان کہہ دے یا کرلے تو وہ سیاست دان نہیں رہے گا، اُسے سیاست سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور میڈیا اُسے ماضی کا حصہ بنا دے گا لیکن عمران خان خم ٹھونکے وہیں کے وہیں موجود ہیں۔ آئیے چند مثالیں لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی حالیہ انتخابی مہم کے دوران ترکی میں ناکام فوجی بغاوت پر انہوں نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر پاکستان میں فوج آجائے تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے‘‘۔ یہ محض ایک بیان تھا یا اُن کی دلی آرزو، سب پر اچھی طرح عیاں […]

’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ایک ایمانی علامت : حسیب اعجاز عاشرؔ

’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ایک ایمانی علامت : حسیب اعجاز عاشرؔ

درس و تدریس ہو،رپورٹنگ ہو، کالم نویسی ہو، تبصرہ نگاری ہو،تجزیہ کاری ہو یا پھر شاعری ہی کیوں نہ ہو کامران غنی صباؔ نے ہر میدان میں جدیدیت اور انفرادیت کے زیرِاثر رہتے ہوئے بھرپور قابلِ رشک دادِ آفرین حاصل کی ہے۔میں کوئی تبصرہ نگار، نقاد یا کوئی تجزیہ کار تو نہیں اورشاعری کا شغف تو مجھے بس سننے یا پڑھنے کاہی ہے مگر کامران کی شاعری کے حوالے سے صرف اتنا ضرورکہونگا کہ اِ نکی شاعری میں گہری بصیرت، بالغ نظری،بے ساختگی ،حسن خیال کی معنی آفرینی، احساس کی نزاکت، معنویت، شفافیت، حلاوت، بلند آہنگی ، مسائل حیات کے احاطے، امیدوں کے روشن چراغ، درد مندی، انتہائی وسعت،رنج و مسرت کے علاوہ فلسفیانہ موشگافیوں، صوفیانہ روموز و نکات بھی ملتے ہیں۔مگر انکی لاجواب ایک شاہکار نظم ’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ کے مطالعے سے انکے پاکیزہ قلب و ذہن میں اتر کر انکی نکھرتی سوچ و فکر کو پرکھ کر […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

دھرنے کے لئے سڑک بند کرنے پر آرٹیکل6 لگایا جائے: سید سردار احمد پیرزادہ

اگر کوئی فرد اچھے آموں کے باغ سے تازہ آموں کی پیٹی گھر لے کر آئے، پیٹی کا ڈھکن کھلنے پر اوپر اوپر سے نظر آنے والے آم کہیں کہیں سے گلے سڑے ہوں تو گھر والے آموں کی اوپر کی تہہ ہٹاکر دوسری اور تیسری تہہ سے عمدہ آموں کی توقعات جوڑ لیتے ہیں لیکن تمام آم نکال لینے کے باوجود اگر حسبِ توقع خوش ذائقہ اچھے آم نہ مل سکیں تو گھر والے مایوسی کی کیفیت سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ آم اچھے باغ کے تھے، اچھی قیمت بھی ادا کی پھر بھی آم خراب نکلے۔ کیا یہ اُن کی قسمت تھی یا اِس کا تعلق پیٹی میں آم بھرنے والوں کی بددیانتی سے تھا؟ اس مثال کو ہم اپنے ملک کی جمہوریت سے جوڑتے ہیں۔ سیاست کرنے اور حکومت چلانے کے جدید نظریات میں جمہوریت کو بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے لیکن […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

عظیم ایدھی صاحب کو ’’نشانِ پاکستان‘‘ دیا جائے: سید سردار احمد پیر زادہ

محمد خان جونیجو کی حکومت میں ایک زورآور وفاقی وزیر تھے۔ وہ جونیجو کابینہ کے رکن تھے لیکن انہیں اصل طاقت براہِ راست جنرل ضیاء الحق سے ملتی تھی۔ ایک مرتبہ وہ موصوف وزیر اپنے آبائی گھر کے برآمدے میں کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ اُسی وقت کوٹھی کے مرکزی گیٹ سے ایک بوڑھا داخل ہوا۔ اُس کی کمر حالات کے بوجھ سے پوری طرح جھک چکی تھی۔ اُس کی لاٹھی کی ٹک ٹک نے سب حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ بوڑھا جب وزیر موصوف کے عین سامنے پہنچا تو وزیر صاحب نے مقامی زبان میں اُسے خوش آمدید کہتے ہوئے آنے کی وجہ پوچھی۔ بوڑھے شخص نے وفاقی وزیر کو اپنے جدی پشتی تعلقات یاد کروا کرکہا کہ ’’میں اور میرے ساتھ رہنے والی میری دونسلیں بری طرح مفلسی کا شکار ہیں۔ آپ مہربانی کرکے مجھے کچھ سرکاری امداد دلوا دیں‘‘۔ جونہی اُس بوڑھے کی التجا مکمل […]

دعا سرا سر عبادت ہی عبادت : حسیب اعجاز عاشر

دعا سرا سر عبادت ہی عبادت : حسیب اعجاز عاشر

دعا مانگ لیا کرتو دوا سے پہلے کوئی نہیں دیتا شفاء خدا سے پہلے ’’دُعا‘‘۔۔۔۔’’د ‘‘سے دل پاک ہو ،’’ع‘‘ سے عقیدہ پختہ ہو ،اورپھر’’ الف‘‘ سے اللہ، صرف اللہ اور بس اللہ ،سے رجوع کر لیا جائے تو سارے بیڑے پار لگ جائیں۔۔قول ہے کہ دعا دستک کی طرح ہے اور مسلسل دستک سے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔۔دعا سراسر عبادت ہی عبادت ہے۔دعا اظہار بندگی ہے۔دعا عبادات کا مغز ہے۔دعا انبیاء کی سنت ہے۔دعا مومن کا ہتھیار ہے۔دعائیں تقدیریں بدل دیتیں ہیں۔دعا دین کا ستون ۔دعا آسمان و زمین کا نور ہے۔یہ ایک فطریعمل ہے کہ مومن خوشحالی میں بارگاہِ الہی میں سجدہ شکر پیش کرتا ہے اور پریشانی میں بھی سب سے پہلے اپنے اللہ ہی کو یاد کرتاہے۔اُس سے ہم کلام ہوتا ہے۔گرگراتا ہے ۔روتا ہے۔اوراُسے ایسے منالیتا ہے جیسے ایک ننھا بچہ اپنی ماں سے کوئی اپنی ضرورت منوا لیتا ہے۔اور اللہ تعالی تو اپنے […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

میں وزیراعظم کی عیادت کے لئے لندن جاتا لیکن ۔۔سید سردار احمد پیر زادہ ۔۔۔ پاکستان کی پہلی نا بینا صحافت

ایک زمانے میں ہندوستان پر انگریز بہادر حکومت کرتے تھے۔ اُس وقت یہ روایت عام تھی کہ جب بھی کوئی تہوار ہوتا یا انگریز حاکم بیمار ہوتا تو مقامی نواب، اونچی پگڑیوں والے سفید پوش، جاگیردار اور بڑے بڑے بنئے اُس علاقے کے انگریز بہادر کمشنر کو مبارک باد دینے یا عیادت کرنے اُس کے گھر جاتے۔ کمشنر ہاؤس کے باہر ایک کونے میں مبارک باد دینے والوں یا تیمارداری کرنے والوں کے بیٹھنے کے لئے سٹول اور بینچ وغیرہ رکھے جاتے۔ علاقے کے تمام معززین تیار ہوکر صبح سویرے کمشنر ہاؤس کے قریب اُس احاطے میں پہنچ جاتے۔ سخت گرمی ہوتی یا سخت سردی، موسمی حالات سے بے نیاز یہ معززین انگریز کمشنر صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے چپ چاپ وہاں بیٹھے رہتے۔ سورج زمین سے نکل کر اپنا سفر شروع کرتا اور اپنی منزل کے درمیان پہنچ کر عین سروں پر آجاتا لیکن یہ وفادار معززین […]

advertise