Sayed Sardar Ahmad Pirzada

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

عظیم ایدھی صاحب کو ’’نشانِ پاکستان‘‘ دیا جائے: سید سردار احمد پیر زادہ

محمد خان جونیجو کی حکومت میں ایک زورآور وفاقی وزیر تھے۔ وہ جونیجو کابینہ کے رکن تھے لیکن انہیں اصل طاقت براہِ راست جنرل ضیاء الحق سے ملتی تھی۔ ایک مرتبہ وہ موصوف وزیر اپنے آبائی گھر کے برآمدے میں کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ اُسی وقت کوٹھی کے مرکزی گیٹ سے ایک بوڑھا داخل ہوا۔ اُس کی کمر حالات کے بوجھ سے پوری طرح جھک چکی تھی۔ اُس کی لاٹھی کی ٹک ٹک نے سب حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ بوڑھا جب وزیر موصوف کے عین سامنے پہنچا تو وزیر صاحب نے مقامی زبان میں اُسے خوش آمدید کہتے ہوئے آنے کی وجہ پوچھی۔ بوڑھے شخص نے وفاقی وزیر کو اپنے جدی پشتی تعلقات یاد کروا کرکہا کہ ’’میں اور میرے ساتھ رہنے والی میری دونسلیں بری طرح مفلسی کا شکار ہیں۔ آپ مہربانی کرکے مجھے کچھ سرکاری امداد دلوا دیں‘‘۔ جونہی اُس بوڑھے کی التجا مکمل […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

میں وزیراعظم کی عیادت کے لئے لندن جاتا لیکن ۔۔سید سردار احمد پیر زادہ ۔۔۔ پاکستان کی پہلی نا بینا صحافت

ایک زمانے میں ہندوستان پر انگریز بہادر حکومت کرتے تھے۔ اُس وقت یہ روایت عام تھی کہ جب بھی کوئی تہوار ہوتا یا انگریز حاکم بیمار ہوتا تو مقامی نواب، اونچی پگڑیوں والے سفید پوش، جاگیردار اور بڑے بڑے بنئے اُس علاقے کے انگریز بہادر کمشنر کو مبارک باد دینے یا عیادت کرنے اُس کے گھر جاتے۔ کمشنر ہاؤس کے باہر ایک کونے میں مبارک باد دینے والوں یا تیمارداری کرنے والوں کے بیٹھنے کے لئے سٹول اور بینچ وغیرہ رکھے جاتے۔ علاقے کے تمام معززین تیار ہوکر صبح سویرے کمشنر ہاؤس کے قریب اُس احاطے میں پہنچ جاتے۔ سخت گرمی ہوتی یا سخت سردی، موسمی حالات سے بے نیاز یہ معززین انگریز کمشنر صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے چپ چاپ وہاں بیٹھے رہتے۔ سورج زمین سے نکل کر اپنا سفر شروع کرتا اور اپنی منزل کے درمیان پہنچ کر عین سروں پر آجاتا لیکن یہ وفادار معززین […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

دنوں، ہفتوں اور مہینوں کے اخبارات میں سِول ملٹری کارکردگی

پاکستان میں دو ادارے اہم فیصلے کرسکتے ہیں جن میں سے ایک سِول ادارہ جبکہ دوسرا ملٹری ادارہ کہلاتا ہے۔ سِول ادارے کو سیاست دان رونق بخشتے ہیں اور جمہوریت کی چادر اوڑھ کر حکومت چلانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ملک کے دفاع، اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے اور حساس سٹریٹیجک معاملات پر پروفیشنل اِزم کے باعث ملٹری ادارے بھی اہم فیصلے کرتے ہیں۔ حساس معاملات پر کس کو منصوبہ بندی کرنی چاہئے یا کس کو سٹریٹیجک فیصلے کرنے چاہئیں، حتمی فیصلے کس کے ہوں یا اہم ہدایات کون دے، ملک کو کس ملک کے قریب کرنا ہے یا کس ملک سے بچانا ہے وغیرہ جیسے غیرمعمولی ایشوز پر پاکستان کی تاریخ سِول اور ملٹری اداروں میں کھینچا تانی کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جن کے باعث ملک ناقابلِ تلافی نقصانات بھی اٹھا چکا ہے مگر نہ تو کبھی کوئی مجرم ٹھہرا اور نہ ہی کبھی […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

جمہوریت کے نام پر پنجاب میں ن لیگ کا شکار : سید سردار احمد پیرزادہ

تھوڑا عرصہ بیتا، مسلم لیگ ن کے لئے پیپلز پارٹی کی پالیسی دورنگی تھی۔ ایک میں سندھ کا رنگ جھلکتا تھا، دوسرے میں پنجاب کا کلر نمایاں تھا۔ مسلم لیگ ن کے کسی ایشو پر کوئی بات کرنی ہوتی یا کوئی ردعمل دینا ہوتا تو پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت کا لہجہ کسی حد تک سنجیدہ ہوتا جبکہ اُسی ایشو پر پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت کا نخرہ اکثر تہذیب سے باہر نکل جاتا اور پنجاب والے دلیل کی بجائے ہاتھ ن لیگ کے گریبان میں ڈالنے کے لئے آستینیں چڑھا لیتے۔ اگر 2014ء سے دھرنے، جوڈیشل کمیشن اور دوسرے سیاسی معاملات پر پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں مثلاً آغا سراج درانی، مولا بخش چانڈیو، شہلہ رضا اور شیری رحمان وغیرہ کے مسلم لیگ ن کے بارے میں بیانات دیکھیں تو گھیراؤ جلاؤ اور مارو کی بجائے صرف تنقیدی ہوتے۔ البتہ پیپلز پارٹی سندھ کی نفیسہ شاہ کا مسلم لیگ […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

امریکی صدر نے ملا اختر منصور کو ’’مسٹر منصور‘‘ کیوں کہا؟: سید سردار احمد پیر زادہ

افغان طالبان کے لیڈر ملا اختر منصور کی ہلاکت ایک بڑی خبر تھی لیکن یہ کیسے ہوا؟ کس کے لئے ہوا؟ کس نے مدد کی؟ کس کو پہلے سے پتہ تھا؟ اور کس کو بعد میں پتہ چلا جیسے اہم معاملات ابھی تک خبر بننے کی بجائے ایک راز ہی ہیں۔ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے پیچھے چھپے اِن رازوں سے پردہ اٹھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہی وہ معاملات ہیں جن کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ سامنے نہ آنے والے انہی خفیہ معاملات کے حوالے سے کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں جن کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ ملا اختر منصور پر حملے سے پہلے امریکہ نے اپنے ٹارگٹس کو ہلاک کرنے کا ہمیشہ یہ جواز دیا کہ ’’جو امریکی مفادات اور امریکہ کے خلاف کاروائی کرے گا، امریکہ اُس کے خلاف کاروائی کرے گا‘‘ لیکن ملا اختر منصور پر حالیہ حملے کے بعد اپنی […]

advertise