Haroon Ur Rasheed

آوے کا آوا ن: ہارون الرشید

آوے کا آوا ن: ہارون الرشید

 قبالؔ نے کہا تھا ؎
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے، قوموں کا ضمیر
آزادی کے بعد ہماری ذہنی غلامی اور بے حسی کیا اور بھی بڑھ نہیں گئی ؟ 
خبر آئی کہ گاڑی ایک ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے روانہ ہو گی۔ کچھ دیر میں خبر ملی کہ پنوّں عاقل ابھی پہنچی ہے چھ بجے رحیم یار خان میں آمد اس کی متوقع ہے۔ پھر نوع بہ نوع اطلاعات۔ تاخیر ہی کی‘ کبھی کم کبھی زیادہ۔
ادھر کچھ دن سے ریل پہ سفر کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ کم ہی پڑھ پاتا ہوں‘ مگر کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایرک مارگلوس میرے پسندیدہ اخبار نویس ہیں۔ غیر متعصب‘ معتدل مزاج‘ ہنرمند اور دانا۔ ایک بار انہوں نے کہا تھا : ہوائی جہاز اڑتا ہوا جیل خانہ ہے۔ کار سے سفر کرنے میں آزادی کا احساس زیادہ ہوتا ہے مگر یہ تھکا دینے والا ہے۔ سڑک کے ساتھ […]

جہالت : تحریر ہارون الرشید

جہالت : تحریر ہارون الرشید

بندے اس لیے محروم ہیں کہ تعصب پالتے ہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں مگر بہرحال وہ مقبول ہیں۔ ضد پالتا ہے‘ آدمی ضد پالتا ہے۔ جہالت وہ پالتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ سنائونی آ جاتی ہے۔ ارشاد قرآن کریم میں یہ ہے: ”اے میرے بندو‘ تُم پر افسوس‘‘۔
جناب رفیع الدین ہاشمی نے ڈاکٹر حمید اللہ کو‘ وقت رخصت ہی چائے کی دعوت کیوں دی؟ یہ سوال ذہن میں باقی رہ گیا۔ ظاہر ہے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں۔ اخبار میں مگر یہ نہیں لکھا کہ کب۔ سال‘ موسم اور مہینہ کون سا تھا۔ خیر‘ اس کی اہمیت بھی کیا۔ اہمیت تو ڈاکٹر صاحب کی تھی‘ ان سے نیاز حاصل کرنے کی‘ کچھ سیکھنے لینے اور روشنی کی کچھ کرنیں مستعار لینے کی۔
وہ پیرس میں کیوں براجے؟ آنے والی صدیوں میں اس شہر کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو ڈاکٹر حمید اللہ کا اس میں ذکر ہو گا۔ پیرس میں […]

جشنِ طرب منائو گے کہرام کی طرح: تحریر ہارون الرشید

جشنِ طرب منائو گے کہرام کی طرح: تحریر ہارون الرشید

عسکری اور سیاسی قیادت نے حصول انصاف کا عزم اگر برقرار رکھا تو انشاء اللہ ایک نئے دور کا آغاز جلد ہو گا ؎
آسمان ہو گا‘ سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
دونوں اگرجیت چکے تو پریشان کیوں ہیں؟ عمران خان کے لہجے میں کچھ بشاشت ہے۔ وفاقی وزرا کی پوری ٹولی مگر چڑ چڑے پن کا شکار ہے۔ کسی سے یاد اللہ ہوتی تو عرض کیا جاتا ع
جشنِ طرب منائو گے کہرام کی طرح
عمران خان کا ہدف ثمر خیز عدالتی کارروائی تھی۔ وہ حاصل کر لیاگیا۔ اب اس سے کیا بحث کہ کتنے لوگ گھروں سے نکلے؟ یہی صورتِ حال اگر میاں صاحب کو درپیش ہوتی؟ یاد ہے سب ذرا ذرا! 2007ء میں انہوں نے لندن سے اسلام آباد کا قصد کیاتھا۔ امریکہ اور برطانیہ کے ایما پر‘ جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو میں پیمان ہو چکا تھا۔ نوازشریف جدّہ […]

ہم ستاروں کو چھو سکتے ہیں : ہارون الرشید

ہم ستاروں کو چھو سکتے ہیں : ہارون الرشید

ایک بیدار اور زندہ قوم۔ بار بار یہ طالب علم عرض کرتا ہے‘ فقط فوج نہیں‘ ایک بیدار اور زندہ قوم ہی اپنے وطن کی حفاظت کر سکتی ہے۔ ستاروں کو چھو سکتی ہے۔
دانائوں کے مطابق‘ دو بنیادی اصول ہیں۔ دُشمن کو کبھی کمزور نہ سمجھا جائے‘ ثانیاً وہ جو عمر فاروق اعظمؓ نے ارشاد کیا تھا: جس سے نفرت کرتے ہو‘ اس سے ڈرتے رہو۔
درویش نے پوچھا: لکھنے سے پہلے کیا تُم کوئی دعا پڑھتے ہو‘ عرض کیا: جی ہاں۔ کہا: رسول اکرمﷺ نے ایک دعا تعلیم کی تھی اور فرمایا تھا کہ کسی کام سے پہلے اگر کوئی پڑھے گا تو کبھی ناکام نہ ہو گا۔ اے اللہ‘ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور دنیا میں خواری سے اور آخرت میں عذاب سے محفوظ رکھنا۔ عرض کیا: یہ تو گویا ضمانت ہے‘ سرکارﷺ کی۔ کہا: بالکل۔کچھ دن گزرے تھے تو کہا: لاحول ولا قوۃ الا باللہ […]

شارٹ کٹ ۔۔ تحریر ہارون الرشید

شارٹ کٹ ۔۔ تحریر ہارون الرشید

قسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے‘ جوسچائی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔
نیک نام جسٹس سردار احمد رضا خان کی صدارت میں وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہوا تو کمیشن کے ایک افسر نے اخبار نویسوں کو کمرۂ عدالت سے نکل جانے کا حکم دیا۔ اخبار نویسوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ حکم تحریر طور پر جاری کیا جائے۔ پیپلزپارٹی کے وکیل نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ایک فوجی عدالت ہے؟ پھر تمام وکلا نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو حکم واپس لے لیا گیا۔
عدالتیں خلا میں کام نہیں کرتیں۔ ملک کا مجموعی ماحول اثرانداز ہوتا ہے۔ گزشتہ کمیشن کے مقابلے میں موجودہ بڑی حد تک قابل اعتبار ہے، شدید عوامی تنقید کے ہنگام جس کے ایک ممبر جسٹس کیانی نے فرمایا تھا: اگر بے عزتی […]

عجیب لوگ ۔۔۔۔ ہارون الرشید

عجیب لوگ ۔۔۔۔ ہارون الرشید

عجیب لوگ ہیں ۔دوا نہیں کھاتے ،پرہیز نہیں کرتے ۔کسی معجزے کے انتظار میں رہتے ہیں۔Waiting for Allah
 ۔عارف نے یہ کہا تھا: آدمی کا سب سے بڑا حریف وہ خود ہوتا ہے۔ سرکارؐ کا فرمان ہے کہ سیدھی راہ ایک ہوتی ہے اور ٹیڑھی بہت سی!
اصل موضوعات وہ نہیں جو اخبارات کے صفحۂ اول پر چمک رہے ہیں۔ اپنی جگہ وہ کتنے ہی اہم ہوں، اخبار نویسوں کے لیے بنیادی سوال وہی ہے:نواز شریف حکومت بچ نکلے گی یا نہیں؟
اتوار کی شام معلوم تھا کہ عمران خان پیر کی دوپہر کیا اعلان کریں گے۔ قائم علی شاہ اور ان کے جانشین مراد علی شاہ کی کتّھابھی کل سہ پہر معلوم تھی۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کا انتخاب؟ جناب پرویز رشید اور سید خورشید شاہ کی جوڑی جس کارِ خیر میں مصروف ہو، کوئی بھی اخبار نویس اسے شک کی نظر سے دیکھے گااور تحقیق کرے گا۔پاکستانی سیاستدانوں میں سے ہر […]

میری حسرت میں تو تھا تیری اطاعت کرنا: ہارون الرشید

میری حسرت میں تو تھا تیری اطاعت کرنا: ہارون الرشید

خورشید رضوی کا ایک شعر یہ ہے: ؎
حسرتوں کا بھی کوئی روزِ جزا ہے کہ نہیں
میری حسرت میں تو تھا تیری اطاعت کرنا
ابھی ابھی سگریٹ کا پیکٹ میرے ہاتھ میں تھا۔ بہت ڈھونڈا، نہیں ملا۔ میرے جیسے آدمی کو اگر کسی دفتر کا منیجر بنا دیا جائے تو اس کا کیا ہو گا؟ اسی لیے انتظامی ذمہ داری قبول کرنے سے ہمیشہ گریز کیا۔ ہر آدمی کو شخصیت کے ایک خاص جوہر کے ساتھ پیدا کیا جاتا ہے۔ اسی پر زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ وہی کام اسے کرنا چاہیے، جو بہترین طور پر وہ انجام دے سکتا ہو۔ کتنے ہی نوجوان ہیں جو ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان دیتے اور سرکاری افسر ہو جاتے ہیں۔ کائنات میں زیاں بہت ہے، بہت زیاں ہے۔ اقبالؔ نے پروردگار سے جب فریاد کی تو میرا خیال ہے کہ ان کے ذہن میں […]

ہیٹ ٹرک: ہارون الرشید

ہیٹ ٹرک: ہارون الرشید

معلوم نہیں کہ عمران خان نے ایک اور شادی رچالی یا نہیں ۔ ایک بات البتہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت دن سے وہ تلا بیٹھا ہے ۔ وجوہات ہیں اور واضح ہیں ۔ ان پہ مگر روشنی نہیں ڈالی جا سکتی۔ ذاتی زندگیوں پر گفتگو سے گریز ہی زیبا ہے ۔ بات کرنی ہی پڑے تو ملفوف انداز میں کرنی چاہیے ؎
تفصیل نہ پو چھ ہیں اشارے کافی
یونہی یہ کہانیاں کہی جاتی ہیں
اپنی زندگی کا بہترین زمانہ میں نے کپتان کے ساتھ گزارا… اسے یہ نام میں نے ہی دیا تھا ۔ جب بھرپایا تو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی کہ کشیدگی نہ رہے ۔ باہمی احترام قائم رہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ناکام نہ رہا اور اس میں خود اس کا بھی دخل ہے ۔ الیکشن 2013ء کے بعد چند ماہ وہ ناراض رہا ۔ پھر خود ہی رابطہ کیا ۔ ملاقات پہ اصرار […]

فیصلہ کن مرحلہ: ہارون الرشید

فیصلہ کن مرحلہ: ہارون الرشید

سب سے اہم یہ جناب کپتان! انتقام نہیں قصاص، استعفیٰ نہیں احتساب، جوش و جنون نہیں، حکمت و تدبیر، حکمت و تدبیر جناب والا! فیصلہ کن مرحلہ آ پہنچا۔
اپوزیشن نے بائیکاٹ کیوں کیا؟ سوچا، شاید کوئی حکمتِ عملی ہو۔ ممکن ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر دیں اور عوام کے سامنے جانے کا فیصلہ کریں۔ ایسا تو کچھ نہیں ہوا۔ کوئی گھٹا نہیں اُٹھی کہ ابر برسے۔ اجلاس میں شریک لوگوں سے پوچھا تو کوئی معقول جواب نہ ملا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف، شیخ رشید اور چوہدری پرویز الٰہی سمیت سب لوگ اس اقدام میں شریک تھے۔ تنہا پیپلز پارٹی ذمہ دار نہیں۔ ذہنی افلاس کا مظاہرہ یا بے دلی کا؟ کیا ان کا خیال یہ تھا کہ اگر عمران خان کو موقع ملا تو وہ لیڈر بن کر ابھرے گا؟ اعتزاز احسن کے ہاں اپوزیشن کے اجلاسوں میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے […]

advertise