بچوں کی تربیت ،تعلیم ،استاد اور ہمارا معاشرہ.. چو ہدری افضال بشیر

14045912_1085721191506860_2991092613435093710_n
کہتے ہیں کہ ماں باپ کے بعد استاد کا درجہ بہت بلند ہوتا ہے اور جیسے جیسے سال بیتے جارہے ہیں تعلیم کا معیار بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے پر کیا استاد کی وہی عزت اور وقار ہے جو آج سے پچاس سال پہلے ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ آئے جائزہ لیتے ہیں ہمارے والد محترم کے زمانے میں تعلیم کا معیار کچھ ایسا تھا کہ بس پڑھو جتنی دیر پڑھو استاد اتنے مخلص کے جب تک ایک چیز کلئر نہ ہوجائتے استاد کو چین نہی ملتا تھا اپنا بچہ سمجھ کر استاد بھر پور توجہ دیا کرتے تھے اور جب وہ بچہ پڑھ لکھ کر لائق فائق بن جاتا تو استاد کو اس کریڈٹ دیتا پر آج نہ تو مخلص استاد ہیں نہ ہی وہ شاگرد جو استاد کی عزت کیا کرتے تھے ۔ آخر ان پچاس سالوں میں ایسا کیا ہوا جواستاد اور شاگرد کے ان رشتوں میں ایسا بدلاوُ  آگیا وجوہات تلاش کریں تو سب سے پہلے ٹی وی اس کے بعد موبائل فون اور پھر یہ نیٹ اور پھر پیسہ کمانے کی دوڑ نے ماں باپ اور بچوں میں ایک مصنوعی خلا ُ  پیدا کردیا گویا ایک طرف و ہم ترقی کی منزلوں بتدریج طے کرتے گئے پر درحقیقت بچوں اور ان کے تربیت سے دست بردار ہو گئے ہم نے ترقی تو کی نئی گاڑیاں جدید موبائل نت نئے فیشن کے اسٹائل پر بچوں کو کیا دیا احساس محرومی احساس تنہائ اگر غور کریں تو ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے انہیں جدید دور کی سہولتوں کے ساتھ تھے تربیت کے نام پر کچھ نہی دیا آج کا بچہ صبح پانچ بحے اسکول کیلئے اٹھ جاتا ہے تیار ہوکر ناشتہ بھی نہی کرپاتا کہ وین آجاتی ہے چھ بجے وین میں سوار ہوکر آدھے سوتے آدھے جاگتے میں پورا شہر گھوم کر سات چاہس پر اسکول پہنچتا ہے پھر لگاتار کلاسز لینے کے بعد تقریباً  ڈھائ بجے گھر پہنچ جاتا ہے پھر جلدی جلدی کپڑے بدل کر کھانا کھا کر مدرسے قرآن پڑھ کر کوچنگ سینٹر چلا جاتا ہے وہاں سے فارغ ہونے کے بعد وہ بالکل نڈھال ہوچکا ہوتا ہے کھانا کھانے کے بعد پھر وہ ہوتا ہے اور موبائل یا پھر ٹی وی ماں باپ بھی یہ سوچ کر کے چلو دن بھر تو پڑھتا رہا اب کچھ آرام کرنے دو ۔۔۔پر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا ٹائم تعلیم کو دینے کے باوجود بچے استادوں اور والدین سے دورہوگئے آخر اسکی وجوہات کیا ہیں تو اسکی سب سے بڑی وجہ یہ بوجھ ہے جو کتابوں کی صورت میں بچوں پر ڈالا گیا ہے اور بوجھ کوئ بھی خوشی سے نہی اٹھاتا بچوں کی مشینی لائف آرام کی کمی نے ماں باپ کے ساتھ ساتھ استاد کے درجے کو بھی گھٹا دیا ہر بچہ ماں باپ کو اپنے آرام کا دشمن سمجھتا ہے اور یہی چیز اسے استاد سے بھی دور کرتی گئی وہ انہیں اپنے دوست کے بجائے دشمن سمجھنے لگا اور موبائل فون اور ٹی وی کو اپنا دوست سمجھ کر وقت کا زیاں کرنے لگا ہم نے اسے اعلی تعلیم یافتہ بنانے کیلئے شیڈول میں جکڑ ڈالا جو دراصل سب سے بڑی خرابی کی وجہ ہے آج ہم اپنے بچوں میں وہ پرانی روائیتیں اور اقدار تلاش کرتے ہیں جو تعلیم کے بے جا بوحھ نے ان سے چھین لیں ہیں جب بچہ پہلی درس گاہ ماں کی گود میں رہنے کے بجاٙئےکنڈر گارٹن بھیج دیا گیا ہو شفیق باپ کے بجائے کوچنگ میں تو وہ ماں باپ کا احترام اور استاد کی عزت کرنا کس سے سیکھے گا یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے معاشرہ کو تباہ برباد کیا ہے خدارا اپنے بچوں کو جو مستقبل کے معمار ہیں انہیں وقت دیجئے ان سے جان چھڑانے کے بجائے ان کی تربیت کیلئے وقت نکالئے ورنہ بچے بھول جائیں گے بڑوں کی عزت و احترام اور استاد اور وقت کی قدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں