“ورلڈ ٹیچرزڈے ” ۔۔ اختر سردار چودھری ،

akhtar-sardar-ch
قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والی عظیم ہستی کا نام استاد ہے۔استاد سے مراد ہر وہ انسان ہے جس نے ہم کو کچھ سکھایا یا پڑھایا،جس سے ہم نے خود کچھ سیکھا،وہ ہنر ہو یا علم جو بھی ہو ۔اس میں ایسے استاد بھی ہیں جو شاگرد کو نہیں جانتے ہم نے ان کو پڑھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا ۔یہ بالکل غلط بات ہے کہ ہم صرف اسے استاد کہتے ہیں، جس نے سکول و کالج یا مدرسے میں پڑھایا ہو۔اس دن(عالمی یوم اساتذہ) ہم کو چاہیے اپنے اساتذہ کو خراج تحسین پیش کریں میں ماضی میں دیکھتا ہوں ایسے بہت سے اساتذہ ہیں جو یاد آتے ہیں ۔جنہوں نے ہمارے اندر کوٹ کوٹ (مار مار)کر علم کا شوق پیدا کیا ۔”اساتذہ کا عالمی دن” ہرسال 5 اکتوبرکومنایا جاتا ہے ۔پاکستان میں بھی”ورلڈ ٹیچرزڈے ” کوسلام ٹیچرزڈے کے عنوان سے 2007 ء سے منایا جارہاہے جبکہ اقوام متحدہ نے 1994ء سے اساتذہ کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا تھا ،اس دن اساتذہ کو ان کی اہمیت،ذمہ داری ،ان کے مسائل ،کا ہم سب کو اور خاص کر حکومت کو احساس دلا یا جائے تو یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی اس عالمی دن کو منانے کا مقصد ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور ﷺکو بحیثیت معلم بیان کیا اور نبی ان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں۔” سورۃ البقرۃ اور خود نبی کریم ﷺنے بھی ارشاد فرمایا کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ‘‘ امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ ’’کاش میں ایک معلم ہوتا‘‘۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’جس شخص نے مجھے ایک لفظ سکھایا میں اس کا غلام ہوں اب اس کی مرضی مجھے بیچے ، آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے ‘‘اسلام نے استاد کو ’’روحانی باپ ‘‘قرار دیا ہے ۔
ہمارے ملک میں اساتذہ بہت مشکلات کا شکار ہیں۔ میں سرکاری سکول کے اساتذہ کے بارے میں نہیں کہہ رہا بلکہ پرائیویٹ سکول و کالج کے اساتذہ کے بارے میں عرض کر رہا ہوں ۔ان کو اپنے بچے پالنے کے لیے ٹیوشن پرھانے کے علاوہ بھی کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ کوئی سرکاری ٹیچر اکیڈمی نہ بنا سکے تاکہ پرائیویٹ سکول و کالج کے اساتذہ اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں ۔لیکن جس طرح ہمارے ملک میں ہر کام میں الٹی گنگا بہتی ہے، ایسے ہی اس تعلیم کے شعبے میں بھی ہے کہ سرکاری سکول و کالج کے اساتذہ اکیڈمی بناتے ہیں جیسے سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر پرائیویٹ کلینک بناتے ہیں ۔اس کے علاوہ اساتذہ کو وہ سماجی مرتبہ بھی حاصل نہیں جو ان کا حق ہے ۔
کسی ملک قوم کی ترقی کے لیے اس کے باشندوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔ تعلیم کو ہمارے ملک میں بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے تعلیمی نظام ناقص ہے ۔ اساتذہ کوتنخواہیں کم ملتی ہیں، نصاب تعلیم فرسودہ ہے ۔ پرائیویٹ اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔یونیسکو اور عالمی ادارہ محنت نے سفارش کی ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں ان کی تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے کم از کم اتنی ہونی چائیے۔ کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں ۔
اساتذہ نظام تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس لیے ان کے مالی حالات اگر خراب ہوں گے تو وہ ذہنی سکون سے تعلیم نہ دے سکیں گے ۔سرکاری سکول و کالج میں اساتذہ کے بارے میں ایک شکایت عام پائی جاتی ہے کہ وہ استاد کے کام کو ’’پیغمبری پیشہ‘‘ کہتے تو ہیں لیکن جتنی محنت سے وہ نجی ٹیوشن سینٹرز اور کوچنگ سینٹرز اکیڈمیز میں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ اتنی توجہ وہ اپنی ڈیوٹی میں نہیں دیتے اسی وجہ سے پرائیویٹ سکول وکالج کامیاب ہیں ۔حالانکہ سرکاری اساتذہ کو تنخواہ بھی اچھی ملتی ہے ۔ماضی میں اساتذہ کی تنخواہیں کم تھیں ان کا احترام بہت زیادہ تھا اور وہ محنت سے اپنی ذمہ داری بھی پوری کرتے تھے اب تنخواہوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ لیکن احترام میں کمی ساتھ ساتھ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کر رہے ۔اسی وجہ سے شائد ماضی کی نسبت اب اساتذہ کا احترام اٹھ گیا ہے ۔ہمارے بہت ہی محترم فطری شاعر جناب جبار واصف قوم کے معماروں اور اساتذہ کے پیار و محبت ،خلوص و عظمت کایوں اظہار کرتے ہیں۔
ہماری درسگاہوں میں جو سب اُستاد ہوتے ہیں
حقیقت میں یہی تو قوم کی بنیاد ہوتے ہیں
سُنیں رُوداد ہم جب بھی کسی کی کامیابی کی
ہر اِک رُوداد میں یہ مرکزِ رُوداد ہوتے ہیں
یہی رکھتے ہیں شہرِ علم کی ہر راہ کو روشن
ہمیں منزل پہ پہنچا کر یہ کتنا شاد ہوتے ہیں
بَرَستے ہیں یہ ساوَن کی طرح پیاسی زمینوں پر
انہی کے فیض سے اُجڑے چمن آباد ہوتے ہیں
یہ پستی کو بلندی بخشتے ہیں اپنے کاندھوں کی
انہی کی کھوج سے سب ناموَر ایجاد ہوتے ہیں
جو کرتے ہیں ادَب اُستاد کا پاتے ہیں وہ رِفعَت
جو اِن کے بے ادَب ہوتے ہیں وہ برباد ہوتے ہیں
اگر رُوحانیّت سے باہمی رِشتہ جُڑے واصفؔ
تو پھر شاگر د بھی اُستا د کی اولاد ہوتے ہیں
ماضی قریب کا واقعہ ہے کہ مشہور ادیب مرحوم اشفاق احمد جب روم یونیورسٹی میں پروفیسر تعینات تھے تو ایک دفعہ انکا گاڑی چلاتے ہوئے چلان ہوگیا ،عدالت میں پیشی ہوئی ۔ دورانِ گفتگو جب جج کو پتہ چلا کہ وہ ٹیچر ہیں توجج اپنی کرسی سائیڈ پر کر کے احتراماََکھڑا ہوگیا۔یونیسکو، یونیسف اور تعلیم سے منسلک دیگر اداروں کی جانب سے اساتذہ کے مسائل کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جو انہیں درپیش ہیں۔
مثلاََ اول یہ کہ اساتذہ کو تحفظ دینے اور ان کی کارکردگی کو بہترین بنانے کے لیے پالیسی بنائی جائے۔دوم یہ کہ اس پیشے میں ایسے لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں جو تربیت یافتہ ہوں، جن میں تدریس کا شوق ہو۔سوم یہ کہ جو لوگ یہ پیشہ اختیار کرنا چاہیں انہیں درس و تدریس شروع کرنے سے پہلے تربیت دی جائے ۔چہارم یہ کہ اساتذہ کو ان علاقوں میں بھیجا جائے جہاں پر ان کی ا شدضرورت ہے ۔پنجم یہ کہ ملازمت کے دوران انہیں ہر طریقے سے سپورٹ کیا جائے، اچھی کارکردگی کو سراہا جائے اور ان کے معیار کو جانچنے کا طریقہ کار صاف و شفاف ہو۔ انہیں با اختیار بنایا جائے ۔وغیرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں