جہالت : تحریر ہارون الرشید

haroon-rasheed9-340x160

بندے اس لیے محروم ہیں کہ تعصب پالتے ہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں مگر بہرحال وہ مقبول ہیں۔ ضد پالتا ہے‘ آدمی ضد پالتا ہے۔ جہالت وہ پالتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ سنائونی آ جاتی ہے۔ ارشاد قرآن کریم میں یہ ہے: ”اے میرے بندو‘ تُم پر افسوس‘‘۔
جناب رفیع الدین ہاشمی نے ڈاکٹر حمید اللہ کو‘ وقت رخصت ہی چائے کی دعوت کیوں دی؟ یہ سوال ذہن میں باقی رہ گیا۔ ظاہر ہے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں۔ اخبار میں مگر یہ نہیں لکھا کہ کب۔ سال‘ موسم اور مہینہ کون سا تھا۔ خیر‘ اس کی اہمیت بھی کیا۔ اہمیت تو ڈاکٹر صاحب کی تھی‘ ان سے نیاز حاصل کرنے کی‘ کچھ سیکھنے لینے اور روشنی کی کچھ کرنیں مستعار لینے کی۔
وہ پیرس میں کیوں براجے؟ آنے والی صدیوں میں اس شہر کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو ڈاکٹر حمید اللہ کا اس میں ذکر ہو گا۔ پیرس میں کوئی بات ہے‘ جو دنیا کے کسی اور شہر میں نہیں۔ کیوں ہے؟ یہ نکتہ طارق پیرزادہ نے آشکار کیا۔ آج نہیں‘ یہ اس زمانے میں بسایا گیا‘ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ تھا۔ شاید ان کے فوراً بعد کا۔ عامیوں نے نہیں‘ طارق پیرزادہ کے بقول‘ اسے اولیا نے آباد کیا‘ درویشوں نے۔
جب بھی ڈاکٹر حمید اللہ کا ذکر ہوا‘ ادھورا سا ایک سوال پھوٹا‘ آخر کیوں؟ پاکستان یا بھارت کیوں نہیں‘ حجاز مقدس کیوں نہیں۔ لبنان یا قاہرہ کیوں نہیں‘ پون صدی پہلے سے ربع صدی پہلے تک عالم اسلام کے جو مراکز تھے۔ بات اب سمجھ میں آتی ہے۔ مشرق و مغرب کے علمی انداز کا انہیں امتزاج پیدا کرنا تھا۔ اسلام کی علمی روایت کا ادراک‘ اس کے ساتھ ایک آہنگ مگر دلیل کے ساتھ۔ دلیل کے اس انداز کے ساتھ‘ جو مغرب میں پروان چڑھا اور مستند ہے۔
کبھی تھا مسلمانوں میں بھی۔ رفتہ رفتہ انہوں نے اسے کھو دیا۔ جذباتیت غالب آنے لگی‘ پھر اس نے ضد کی شکل اختیار کر لی‘ حتیٰ کہ مکاتب فکر کی۔
ایک مکتب فکر کے گھرانے میں ایک بچہ جنم لیتا ہے۔ ماں باپ اسے بتاتے ہیں‘ بہن بھائی‘ عزیز رشتہ دار کہ وہی حق پر ہیں باقی سب غلط۔ ساری زندگی اسی میں بیت جاتی ہے۔ انہی تعصبات میں:
تونے بھی دیواریں کھینچیں
میں نے بھی دیواریں کھینچیں
تونے بھی تدبیر یہی کی
میں نے بھی تدبیر یہی کی
آخر اب یہ سوچ رہا ہوں
دونوں کس کے صید ہوئے ہیں
دیواروں میں قید ہوئے ہیں
اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ خود سے اوپر۔ آدمی کی اپنی ذات ہی سچے ادراک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری آواز سنائی دیتی ہے مگر ہم انکار کر دیتے ہیں۔ مسترد کرنے کے لیے فوراً ہی دلیل ڈھونڈتے ہیں۔ دلیل نہ سہی تو ناراضی ہی۔ بولنے والے سے زیادہ اونچی آواز۔ اگر یہ بھی نہیں تو اس کی مذمت کا کوئی پہلو۔ دوسروں سے کیا کہوں۔ سولہ برس تک‘ کپتان ہی سچا تھا۔ وہی کھرا تھا‘ باقی سب ناقص۔ نوازشریف چلے گئے تو پتہ چلا کہ ایک بہت ہی شاندار کام انہوں نے کیا تھا۔ گردے کے مریضوں کے لیے بہت سے شفاخانے‘ مفت علاج۔ جنرل صاحب تشریف لائے تو بند کر دیئے۔ کیوں بند کر دیئے؟ کہا : پیسہ نہیں۔ ہزاروں اور چیزوں کے لیے اربوں‘ کھربوں موجود ہیں۔ لاچار مریضوں کے لیے کیوں نہیں۔ اخبار نویس نے سوال کیا تو کہرام مچا۔ دعویٰ نہ کرنا چاہیے کہ دعویٰ جہالت اور تکبر ہے۔ اللہ کو منظور ہوا تو ان کا درد محسوس کیا۔ توفیق دی کہ یہ درد الفاظ میں ڈھل بھی جائے۔ اکثر نہیں ڈھلتا۔
آج شب چاند طلوع ہونے کے بعد ساہیوال کا ارادہ ہے۔ مجید امجد کے شہر کا۔ ان کی ایک نظم یہ ہے:
بیس برس کی کاوشِ پیہم
عمر اسی الجھن میں گزری
کیا شے ہے‘ حرف و بیاں کا عقدہ ِمشکل
صورتِ معنی؟ معنیِ صورت؟
اکثر گردِ سخن سے نہ ابھرے
وادیٔ فکر کی لیلائوں کے جھولتے محمل
کتنی چھنا چھن ناچتی صدیاں
کتنے گھنا گھن گھومتے عالم
طے نہ ہوا ویرانۂ حیرت
بیس برس کی کاوشِ پیہم
اور ان کا مآل
اظہار کی حسرت
فوجی حکمران نے گھر پہ مدعو بھی کیا۔ میری درخواست پہ تین عدد اخبار نویسوں میں‘ ایک کا اضافہ بھی کیا۔ سحر جاگی تو جانے کو جی نہ چاہا۔
واسطہ ٹی وی پہ پڑا۔ براہ راست نشر ہونے والے پروگرام میں۔ ایک غلطی اخبار نویس سے ہوئی کہ لہجے میں تلخی تھی۔ سوال میں تلخی کیسی؟ ایک آنجناب سے ۔ڈانٹ کر جواب دیا۔ یہاں تحمل کہاں۔ بات بگڑ گئی۔ داد بہت سمیٹی مگر فائدہ! کسی کا بھلا تو ہرگز نہیں۔
داد و تحسین والے انبوہ میں‘ دو بھلے آدمیوں نے کہا : لہجے میں استحکام چاہیے تھا‘ چڑنے کی ضرورت کیا تھی؟مزید دو برس بیتے تو عارف نے کہا : اب کچھ بہتری ہے۔ اشارہ واضح تھا۔ اس قدر نہیں‘ جتنی کہ ہونی چاہیے۔
سولہ برس بیت گئے۔ آج صبح خود سے اخبار نویس نے سوال کیا کہ مقبولیت بجا‘ آخر نتیجہ مگر کیا ہے؟ خیالات کی یُورش میں ڈاکٹر حمید اللہ کا واقعہ نظر سے گزرا اور اپنی کم عقلی کا احساس ہوا۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے (ڈاکٹر صاحب کو) بتایا کہ ان کی اپنی ایک عبارت کا گوپی چند نارنگ نے ترجمہ کیا ہے ‘براہ کرم اس پر وہ دستخط فرما دیں‘ آٹو گراف دے دیں۔ ”میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ آپ کا حکم ہے تو تعمیل کیے دیتا ہوں‘‘۔ یہ کہا اور رسان سے دستخط کر دیئے۔ پھر کہا : میں آپ کے لیے ایک کتاب یا رسالہ تک نہ لا سکا۔ مہمان نے اس لمحے جو غالباً میزبان تھے‘ صاحب علم سے عرض کیا : آپ سے ملاقات ہو گئی‘ اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت۔ فرمایا : جی نہیں‘ مجھے بھی تو مہمانوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ پوچھا : آج کل کس موضوع پر کام ہو رہا ہے؟ ارشاد کیا :ایک وقت میں بیس پچیس عنوانات ہوا کرتے ہیں۔ بتاتا مگر نہیں ہوںجب تک کام مکمل نہ ہو جائے۔ سبحان اللہ۔ تین چار عشرے اُدھر کی بات ہے‘ ڈاکٹر محمود غازی مرحوم نے لکھا : درج ذیل عنوانات پر داد تحقیق کا ارادہ ہے۔ جواب آیا :استنبول کے لیے پابہ رکاب ہوں۔ آپ کا خط مجھے بھایا نہیں۔ اہمیت متن کی ہوتی ہے‘ عنوانات کی نہیں۔
ملاقات تمام ہونے کو آئی تو ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے التجا کی کہ چائے کی ایک پیالی کے لیے رک جائیں۔ فرمایا : میں چائے نہیں پیتا‘ چالیس برس سے۔
ڈاکٹر محمود غازی مرحوم کے بھائی‘ محمد الغزالی بھی ربع صدی پہلے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ جس طرح رفیع الدین ہاشمی سے کہا : کوئی خدمت ہو تو بتائیے گا‘ محمد الغزالی سے بھی پوچھا کہ مسافر کو کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں۔ عرض کیا : ڈاکٹر صاحب تین دن (یا زیادہ) سے گوشت نہیں کھایا۔ کہا : چالیس برس سے میں نے بھی نہیں کھایا۔ ظاہر ہے اندیشہ ہوا کرتا ہے‘ حلال کا حرام کا؟
مٹا ڈالا‘ علم کے راستے میں خود کو مٹا ڈالا۔ اہل مدرسہ ان کا ذکر نہیں کرتے‘ کوئی بھی مکتب فکر نہیں کرتا درآنحالیکہ گزشتہ تین چار صدیوں میں‘ حدیث کے بعض پہلوئوں پر سب سے زیادہ وقیع کام انہی نے کیا۔ حدیث کے بغیر سیرت کا ادراک کیا؟ قرآن کریم کی پوری تفہیم کیسے؟
بندے اس لیے محروم ہیں کہ تعصب پالتے ہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں مگر بہرحال وہ مقبول ہیں۔ ضد پالتا ہے‘ آدمی ضد پالتا ہے۔ جہالت وہ پالتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ سنائونی آ جاتی ہے۔ ارشاد قرآن کریم میں یہ ہے: ”اے میرے بندو‘ تُم پر افسوس‘‘۔
imageجملہ بحقوق : دنیا نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں