سیالکوٹ میں سیلاب کی تباہ کاریاں… تحریر : شاہد مشتاق

29 اگست منگل اور بدھ کی درمیانی شب سیالکوٹ کا آسمان خوفناک کالے سیاہ بادلوں سے بھرا پڑا تھا ، پیچھے جموں کی طرف شدید بارشیں ہورہی تھیں اور دریائے توی اور چناب بپھرے ہوئے تھے بڑے بوڑھے اس بار برسات کے شروع سے ہی شدید سیلاب کی پیشنگوئیاں کر رہے تھے ایسا وہ اس تجربے کی بناء پر کہہ رہے تھے جو کئی صدیاں طے کر کے نسل در نسل انہیں اپنے بزرگوں سے منتقل ہوا ۔
انہیں گرمیوں میں یہ سیکھا کہ برسات آنے سے پہلے کوا اپنا گھونسلہ بنانے کے لئے جو ٹہنیاں اکٹھی کرتا ہے اگر وہ (کمزور) لکڑی کو ایک جانب سے پکڑے تو بارشیں کم ہوتی ہیں اور اگر وہ(مضبوط) لکڑی کو درمیان سے پکڑے تو شدید بارشوں اور سیلاب کی پیشگی اطلاع ہوتی ہے ۔
ہم دریائے چناب کے جنوب میں ایسے نشیبی علاقے میں رہتے ہیں جو بہت عرصہ پہلے کبھی دریا کی گزرگاہ تھی یہ علاقہ “بیلہ” کہلاتا ہے اور اس میں درجنوں دیہات ہیں ، سیلاب آنا یہاں کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی ، لوگ نڈر اور بہادر ہیں پرانے بزرگ تیراکی کے ماہر تھے اب البتہ بہت کم لوگ یہ نفع بخش فن سیکھتے ہیں ، جو گاؤں دریا کے جتنے قریب ہے وہاں کے لوگ اتنا ہی پانی سے بے خوف رہتے ہیں ۔
قیام پاکستان کے بعد 2014 کے سیلاب کو سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب سمجھا جاتا تھا مگر 2025 میں 29 اگست کی رات ہماری زندگی پر ان مٹ نقوش اور کبھی نا بھولنے والی یادیں چھوڑ گئی ہے ۔
عشاء کے بعد بیلے کے دیہات کی مساجد میں انتباہی اعلانات ہونا شروع ہوگئے ہلکی پھلکی پھوار برس رہی تھی اور آسمان خوف زدہ کر دینے والے بادلوں سے اٹا پڑا تھا خاص طور پہ جموں کی جانب شدید بارشیں ہورہی تھیں ۔
کوئی دس بجے کے قریب چناب کا پانی زوردار لہروں سے دیہاتوں کی طرف بڑھنا شروع ہوچکا تھا ، بجلی بند تھی ، مویشی خاموش اور لوگ پریشان دکھائی دے رہے تھے بارش کے باوجود نوجوان لڑکے اور مرد حضرات گھروں میں بیٹھنے پر آمادہ نا تھے ، سب کے چہروں پر تفکرات اور آنکھیں نیند سے کوسوں دور تھیں ۔
ایک بجے کے قریب ہم تین لڑکوں نے موٹر سائیکل پر دریا کی جانب جا کر پانی کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا تاکہ بروقت اپنے گاؤں کو بیدار کیا جا سکے , سوا ایک بجے پانی ہمارے ساتھ والے گاؤں چاوکے کلاں کی سڑک عبور کر رہا تھا یہ ایک خوفناک منظر تھا پانی کا بہاؤ کافی تیز اور آواز (جسے ہم دیہاتی لوگ پانی کی “شوکر” کہتے ہیں) بہت ذیادہ تھی .
ہم فوراً واپس پلٹے اپنی مسجد میں اعلان کیا چند منٹ بعد ہر طرف اعلانات شروع ہوگئے پورا علاقہ بیدار ہوچکا تھا ،ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی کچھ لوگ مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے تھے تو کچھ گھر کا سامان گھر کی اونچی جگہوں پر رکھ رہے تھے صبح سوا تین بجے پانی گاؤں کے پاس پہنچ چکا تھا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں پہلے گلیوں اور پھر گھروں میں بھی داخل ہونا شروع ہوگیا ۔
بدھ کی صبح حد نگاہ ہر طرف بس پانی ہی پانی تھا تیز زوردار آواز کے ساتھ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا پانی ، بہت کم گھر اس سے محفوظ تھے لوگ چھتوں پر پناہ لے چکے تھے ہمارے آس پاس سے بہت ذیادہ لکڑی اور لوگوں کے قیمتی مال مویشی بہہ بہہ کر جارہے تھے ۔
ظہر تک پانی بڑھتا رہا اور پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کے سارے ریکارڈ توڑ کر رکھ دئیے یہ سب سے اونچا سیلاب تھا جو لوگوں کی جمع پونجی ، فصلیں اور گھر بار تباہ کرگیا مگر ان کی امیدیں پھر بھی نا توڑ سکا ۔
سر سرور صاحب ہمارے گورنمنٹ سکول کے استاذ اور بڑے شفیق انسان ہیں ، سیلاب جب جوبن پر تھا ان کی کال آئی کہ “ہمارے گاؤں میں ایک آدمی ڈوب گیا ہے اس کی لاش تو نکال لی ہے مگر اسے محفوظ مقام تک لانے کے لئے کشتی کی ضرورت ہے”. ان کے گاؤں میں ایک بیوہ خاتون بھی پانی میں پھنسی ہوئی تھیں ، ہمارے ساتھ والے گاؤں میں دو سگے بھائی پانی میں ڈوب گئے وہاں سے بھی کسی نے کال کی کہ ریسیکیو ٹیم کی سخت ضرورت ہے۔
خود ہمارے گاؤں میں بھی کچھ لوگ ڈیروں پر پھنسے ہوئے تھے انہیں بھی ریسکیو کی ضرورت تھی ، ہمارے گاؤں میں ہی ایک شخص کے بارہ مویشی بہہ گئے تھے غرض متاثرہ علاقہ بہت ذیادہ تھا اور سیلاب کے پہلے کچھ روز امدادی تنظیمیں قریباً نا ہونے کے برابر تھیں سارا بوجھ صرف 1122 کے جوانوں پر تھا اور میں پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں انہوں نے بہت کام کیا انہوں نے اپنی ہمت سے بڑھ کر دن رات لوگوں کی خدمت کی یقیناً جہاں وہ نہیں پہنچ سکے وہاں لوگوں کو ان سے شکایات ہیں مگر لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ پیچھے دریا کی جانب متاثرین کو ریسکیو کی ہم سے کہیں زیادہ ضرورت تھی ۔
سیلاب والے روز ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا ، دور سے ایک جانور بہتا ہوا آرہا تھا ہم سب لوگ چھتوں پر جمع تھے ۔
کسی نے دیکھ کر نعرہ لگایا ” مج آرہی جے” یعنی بھینس پانی میں بہہ کر آرہی ہے ۔ ہمارے ایک دوست نے آو دیکھا نا تاؤ فوراً گہرے پانی میں کود گیا اس کے پیچھے دو اور آدمی نکل پڑے ، ان تینوں کے پیچھے میں موبائل کیمرہ آن کئے اور میرے پیچھے کئی اور لوگ ۔
ہمارا دوست ناک تک پانی میں پہنچ چکا تھا جب اس جانور کے قریب پہنچا تو پتہ چلا یہ تو گدھا تھا ۔ ایک آواز بلند ہوئی ” اے تے کھوتی اے” یہ تو گدھا ہے ۔ بے اختیار سب کے قہقہے بلند ہوگئے ۔
سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کا علاقہ بیلہ بری طرح سے متاثر ہوا تھا سڑکیں تباہ ہوچکی تھیں فصلیں اجڑ چکی تھیں گھروں میں ذخیرہ اناج خراب ہوچکا تھا لوگ شدید متاثر ہوئے تھے عملاً کئی دیہات سے باہر نکلنا ایک ہفتے بعد بھی ممکن نہیں تھا لوگ آہستہ آہستہ اپنے معمولات زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے کہ ایک ہفتے بعد پھر بھارت نے آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ پانی چھوڑ دیا سیلاب دوبارہ پوری شدت کے ساتھ آیا اور رہی سہی سڑکیں اور فصلوں کو برباد کر کے چلتا بنا ، اللہ کا بڑا فضل رہا کہ پانی اس بار گلیوں اور گھروں میں داخل نہیں ہوسکا ۔
عملاً ہماری بیلے کے کئی دیہات کا زمینی راستہ کئی دن بند رہا اس دوران لوگ شدید پریشانیوں سے گزرے ۔
ہمارے ایک نوجوان دوست کی اچانک موت کے بعد اس کی والدہ اکثر بیمار رہتی ہیں انہی دنوں ایک روز ان کی طبیعت سخت خراب ہوگئی انہیں ہسپتال لیجانا ضروری ہوگیا مگر گاؤں سے باہر کیسے نکلیں؟ یہ ایک اہم سوال تھا ۔
پھر کسی کی ترکیب پر چارے والی ریڑھی پر چارپائی رکھ کر انہیں اوپر لٹایا گیا اور ارد گرد سے نوجوان لڑکوں نے جان پر کھیل کر انہیں پانی کے پار پہنچایا اور اسی طریقے سے پھر شام کو واپس بھی لایا گیا ، گھر پہنچنے پر تھوڑی دیر بعد جب دوبارہ ان کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تو پھر یہی طریقہ استعمال کر کے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا ۔
سیلاب صرف ایک قدرتی آفت تھی یا ہمارے ازلی دشمن بھارت کی کچھ بدنیتی بھی اس میں شامل تھی یہ ایک الگ سوال ہے اس پر پھر کبھی لکھوں گا ۔
فی الوقت سیلاب گزر چکا ہے مگر اپنے دیر پا اثرات اور مہلک نقصانات پیچھے چھوڑ گیا ہے ، مزدور غریب طبقہ ، کسان اور وہ افراد جن کا ذریعہ معاش جانور پالنا اور دودھ بیچنا تھا سب سے ذیادہ متاثر ہوئے ہیں ، غذائی اشیاء کی قلت ہے لوگ کئی دنوں سے گھروں میں بیٹھے ہیں کام کاج کوئی نہیں ،جانوروں کے لئے چارہ ملنا مشکل ہے گندم کا بھوسہ جسے توڑی کہتے ہیں سب کی پانی کی نظر ہوگئی ہے جن کے پاس ہے اب وہ اسے بہت مہنگا بیچیں گے اسی طرح یکدم کھل ونڈہ اور چوکھر بہت مہنگا ہوگیا ہے دکان داروں اور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوگئی ہے ہر چیز مہنگے داموں مل رہی ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ۔
ہمارے حلقے کے ن لیگی ایم پی اے چراغ کے جن کی طرح غائب ہیں اس ساری صورتحال سے وہ یکسر لاتعلق رہے لوگوں کی اس بڑی مصیبت کی گھڑی میں کہیں بھی نظر نہیں آئے ، بریگیڈئر ریٹائرڈ اسلم گھمن این اے 74 سے ایم این اے ہیں (اور یہی علاقہ سب سے ذیادہ سیلاب سے متاثر ہوا ) تحریک انصاف سے تعلق ہے بہت فعال اور ہر جگہ لوگوں کے لئے دستیاب ہیں ، اسی طرح امدادی تنظیموں میں محترم حافظ محمد سعید صاحب کی مرکزی مسلم لیگ ہمیشہ کی طرح سب سے آگے دکھائی دی، یہ عجیب لوگ ہیں جو ہمیشہ ہر جگہ متاثرین کی خدمت کے لئے چوبیس گھنٹے تیار نظر آتے ہیں ، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی کی تعریف نا کرنا بھی زیادتی ہوگی ۔
حکومت پنجاب خاص طور پر وزیراعلی محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ خود اگرچہ بہت مخلص اور متحرک دکھائی دے رہی ہیں ،سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے وہ دن رات محنت کر رہی ہیں مگر عام متاثرین تک ان کی بھاگ دوڑ کے کوئی فوائد ابھی تک نہیں پہنچ رہے ، مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے گندم ایک ہی جھٹکے میں تین ہزار سے اوپر اور آٹا اس سے بھی مہنگا ہوچکا ہے سبزیوں اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔
مجھے مریم نواز صاحبہ کے خلوص پر کوئی شبہ نہیں مگر جو علاقے کی صورتحال ہے میں ان سے یہ سوال ضرور کروں گا کہ “جو لوگ قدرتی آفت سیلاب سے بچ گئے تھے کیا اب ان لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے ہاتھوں مرنے کے لئے تیار ہو جائیں ؟” ۔
نوٹ: جو احباب سیلاب زدگان کی بحالی میں کوئی بھی کردار ادا کرنا چاہیں وہ مجھ سے اسسیالکوٹ میں سیلاب کی تباہ کاریاں!
کالم نویس : شاہد مشتاق

29 اگست منگل اور بدھ کی درمیانی شب سیالکوٹ کا آسمان خوفناک کالے سیاہ بادلوں سے بھرا پڑا تھا ، پیچھے جموں کی طرف شدید بارشیں ہورہی تھیں اور دریائے توی اور چناب بپھرے ہوئے تھے بڑے بوڑھے اس بار برسات کے شروع سے ہی شدید سیلاب کی پیشنگوئیاں کر رہے تھے ایسا وہ اس تجربے کی بناء پر کہہ رہے تھے جو کئی صدیاں طے کر کے نسل در نسل انہیں اپنے بزرگوں سے منتقل ہوا ۔
انہیں گرمیوں میں یہ سیکھا کہ برسات آنے سے پہلے کوا اپنا گھونسلہ بنانے کے لئے جو ٹہنیاں اکٹھی کرتا ہے اگر وہ (کمزور) لکڑی کو ایک جانب سے پکڑے تو بارشیں کم ہوتی ہیں اور اگر وہ(مضبوط) لکڑی کو درمیان سے پکڑے تو شدید بارشوں اور سیلاب کی پیشگی اطلاع ہوتی ہے ۔
ہم دریائے چناب کے جنوب میں ایسے نشیبی علاقے میں رہتے ہیں جو بہت عرصہ پہلے کبھی دریا کی گزرگاہ تھی یہ علاقہ “بیلہ” کہلاتا ہے اور اس میں درجنوں دیہات ہیں ، سیلاب آنا یہاں کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی ، لوگ نڈر اور بہادر ہیں پرانے بزرگ تیراکی کے ماہر تھے اب البتہ بہت کم لوگ یہ نفع بخش فن سیکھتے ہیں ، جو گاؤں دریا کے جتنے قریب ہے وہاں کے لوگ اتنا ہی پانی سے بے خوف رہتے ہیں ۔
قیام پاکستان کے بعد 2014 کے سیلاب کو سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب سمجھا جاتا تھا مگر 2025 میں 29 اگست کی رات ہماری زندگی پر ان مٹ نقوش اور کبھی نا بھولنے والی یادیں چھوڑ گئی ہے ۔
عشاء کے بعد بیلے کے دیہات کی مساجد میں انتباہی اعلانات ہونا شروع ہوگئے ہلکی پھلکی پھوار برس رہی تھی اور آسمان خوف زدہ کر دینے والے بادلوں سے اٹا پڑا تھا خاص طور پہ جموں کی جانب شدید بارشیں ہورہی تھیں ۔
کوئی دس بجے کے قریب چناب کا پانی زوردار لہروں سے دیہاتوں کی طرف بڑھنا شروع ہوچکا تھا ، بجلی بند تھی ، مویشی خاموش اور لوگ پریشان دکھائی دے رہے تھے بارش کے باوجود نوجوان لڑکے اور مرد حضرات گھروں میں بیٹھنے پر آمادہ نا تھے ، سب کے چہروں پر تفکرات اور آنکھیں نیند سے کوسوں دور تھیں ۔
ایک بجے کے قریب ہم تین لڑکوں نے موٹر سائیکل پر دریا کی جانب جا کر پانی کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا تاکہ بروقت اپنے گاؤں کو بیدار کیا جا سکے , سوا ایک بجے پانی ہمارے ساتھ والے گاؤں چاوکے کلاں کی سڑک عبور کر رہا تھا یہ ایک خوفناک منظر تھا پانی کا بہاؤ کافی تیز اور آواز (جسے ہم دیہاتی لوگ پانی کی “شوکر” کہتے ہیں) بہت ذیادہ تھی .
ہم فوراً واپس پلٹے اپنی مسجد میں اعلان کیا چند منٹ بعد ہر طرف اعلانات شروع ہوگئے پورا علاقہ بیدار ہوچکا تھا ،ایک ہڑبونگ مچی ہوئی تھی کچھ لوگ مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے تھے تو کچھ گھر کا سامان گھر کی اونچی جگہوں پر رکھ رہے تھے صبح سوا تین بجے پانی گاؤں کے پاس پہنچ چکا تھا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں پہلے گلیوں اور پھر گھروں میں بھی داخل ہونا شروع ہوگیا ۔
بدھ کی صبح حد نگاہ ہر طرف بس پانی ہی پانی تھا تیز زوردار آواز کے ساتھ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا پانی ، بہت کم گھر اس سے محفوظ تھے لوگ چھتوں پر پناہ لے چکے تھے ہمارے آس پاس سے بہت ذیادہ لکڑی اور لوگوں کے قیمتی مال مویشی بہہ بہہ کر جارہے تھے ۔
ظہر تک پانی بڑھتا رہا اور پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کے سارے ریکارڈ توڑ کر رکھ دئیے یہ سب سے اونچا سیلاب تھا جو لوگوں کی جمع پونجی ، فصلیں اور گھر بار تباہ کرگیا مگر ان کی امیدیں پھر بھی نا توڑ سکا ۔
سر سرور صاحب ہمارے گورنمنٹ سکول کے استاذ اور بڑے شفیق انسان ہیں ، سیلاب جب جوبن پر تھا ان کی کال آئی کہ “ہمارے گاؤں میں ایک آدمی ڈوب گیا ہے اس کی لاش تو نکال لی ہے مگر اسے محفوظ مقام تک لانے کے لئے کشتی کی ضرورت ہے”. ان کے گاؤں میں ایک بیوہ خاتون بھی پانی میں پھنسی ہوئی تھیں ، ہمارے ساتھ والے گاؤں میں دو سگے بھائی پانی میں ڈوب گئے وہاں سے بھی کسی نے کال کی کہ ریسیکیو ٹیم کی سخت ضرورت ہے۔
خود ہمارے گاؤں میں بھی کچھ لوگ ڈیروں پر پھنسے ہوئے تھے انہیں بھی ریسکیو کی ضرورت تھی ، ہمارے گاؤں میں ہی ایک شخص کے بارہ مویشی بہہ گئے تھے غرض متاثرہ علاقہ بہت ذیادہ تھا اور سیلاب کے پہلے کچھ روز امدادی تنظیمیں قریباً نا ہونے کے برابر تھیں سارا بوجھ صرف 1122 کے جوانوں پر تھا اور میں پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں انہوں نے بہت کام کیا انہوں نے اپنی ہمت سے بڑھ کر دن رات لوگوں کی خدمت کی یقیناً جہاں وہ نہیں پہنچ سکے وہاں لوگوں کو ان سے شکایات ہیں مگر لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ پیچھے دریا کی جانب متاثرین کو ریسکیو کی ہم سے کہیں زیادہ ضرورت تھی ۔
سیلاب والے روز ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا ، دور سے ایک جانور بہتا ہوا آرہا تھا ہم سب لوگ چھتوں پر جمع تھے ۔
کسی نے دیکھ کر نعرہ لگایا ” مج آرہی جے” یعنی بھینس پانی میں بہہ کر آرہی ہے ۔ ہمارے ایک دوست نے آو دیکھا نا تاؤ فوراً گہرے پانی میں کود گیا اس کے پیچھے دو اور آدمی نکل پڑے ، ان تینوں کے پیچھے میں موبائل کیمرہ آن کئے اور میرے پیچھے کئی اور لوگ ۔
ہمارا دوست ناک تک پانی میں پہنچ چکا تھا جب اس جانور کے قریب پہنچا تو پتہ چلا یہ تو گدھا تھا ۔ ایک آواز بلند ہوئی ” اے تے کھوتی اے” یہ تو گدھا ہے ۔ بے اختیار سب کے قہقہے بلند ہوگئے ۔
سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کا علاقہ بیلہ بری طرح سے متاثر ہوا تھا سڑکیں تباہ ہوچکی تھیں فصلیں اجڑ چکی تھیں گھروں میں ذخیرہ اناج خراب ہوچکا تھا لوگ شدید متاثر ہوئے تھے عملاً کئی دیہات سے باہر نکلنا ایک ہفتے بعد بھی ممکن نہیں تھا لوگ آہستہ آہستہ اپنے معمولات زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے کہ ایک ہفتے بعد پھر بھارت نے آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ پانی چھوڑ دیا سیلاب دوبارہ پوری شدت کے ساتھ آیا اور رہی سہی سڑکیں اور فصلوں کو برباد کر کے چلتا بنا ، اللہ کا بڑا فضل رہا کہ پانی اس بار گلیوں اور گھروں میں داخل نہیں ہوسکا ۔
عملاً ہماری بیلے کے کئی دیہات کا زمینی راستہ کئی دن بند رہا اس دوران لوگ شدید پریشانیوں سے گزرے ۔
ہمارے ایک نوجوان دوست کی اچانک موت کے بعد اس کی والدہ اکثر بیمار رہتی ہیں انہی دنوں ایک روز ان کی طبیعت سخت خراب ہوگئی انہیں ہسپتال لیجانا ضروری ہوگیا مگر گاؤں سے باہر کیسے نکلیں؟ یہ ایک اہم سوال تھا ۔
پھر کسی کی ترکیب پر چارے والی ریڑھی پر چارپائی رکھ کر انہیں اوپر لٹایا گیا اور ارد گرد سے نوجوان لڑکوں نے جان پر کھیل کر انہیں پانی کے پار پہنچایا اور اسی طریقے سے پھر شام کو واپس بھی لایا گیا ، گھر پہنچنے پر تھوڑی دیر بعد جب دوبارہ ان کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تو پھر یہی طریقہ استعمال کر کے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا ۔
سیلاب صرف ایک قدرتی آفت تھی یا ہمارے ازلی دشمن بھارت کی کچھ بدنیتی بھی اس میں شامل تھی یہ ایک الگ سوال ہے اس پر پھر کبھی لکھوں گا ۔
فی الوقت سیلاب گزر چکا ہے مگر اپنے دیر پا اثرات اور مہلک نقصانات پیچھے چھوڑ گیا ہے ، مزدور غریب طبقہ ، کسان اور وہ افراد جن کا ذریعہ معاش جانور پالنا اور دودھ بیچنا تھا سب سے ذیادہ متاثر ہوئے ہیں ، غذائی اشیاء کی قلت ہے لوگ کئی دنوں سے گھروں میں بیٹھے ہیں کام کاج کوئی نہیں ،جانوروں کے لئے چارہ ملنا مشکل ہے گندم کا بھوسہ جسے توڑی کہتے ہیں سب کی پانی کی نظر ہوگئی ہے جن کے پاس ہے اب وہ اسے بہت مہنگا بیچیں گے اسی طرح یکدم کھل ونڈہ اور چوکھر بہت مہنگا ہوگیا ہے دکان داروں اور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوگئی ہے ہر چیز مہنگے داموں مل رہی ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ۔
ہمارے حلقے کے ن لیگی ایم پی اے چراغ کے جن کی طرح غائب ہیں اس ساری صورتحال سے وہ یکسر لاتعلق رہے لوگوں کی اس بڑی مصیبت کی گھڑی میں کہیں بھی نظر نہیں آئے ، بریگیڈئر ریٹائرڈ اسلم گھمن این اے 74 سے ایم این اے ہیں (اور یہی علاقہ سب سے ذیادہ سیلاب سے متاثر ہوا ) تحریک انصاف سے تعلق ہے بہت فعال اور ہر جگہ لوگوں کے لئے دستیاب ہیں ، اسی طرح امدادی تنظیموں میں محترم حافظ محمد سعید صاحب کی مرکزی مسلم لیگ ہمیشہ کی طرح سب سے آگے دکھائی دی، یہ عجیب لوگ ہیں جو ہمیشہ ہر جگہ متاثرین کی خدمت کے لئے چوبیس گھنٹے تیار نظر آتے ہیں ، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی کی تعریف نا کرنا بھی زیادتی ہوگی ۔
حکومت پنجاب خاص طور پر وزیراعلی محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ خود اگرچہ بہت مخلص اور متحرک دکھائی دے رہی ہیں ،سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے وہ دن رات محنت کر رہی ہیں مگر عام متاثرین تک ان کی بھاگ دوڑ کے کوئی فوائد ابھی تک نہیں پہنچ رہے ، مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے گندم ایک ہی جھٹکے میں تین ہزار سے اوپر اور آٹا اس سے بھی مہنگا ہوچکا ہے سبزیوں اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔
مجھے مریم نواز صاحبہ کے خلوص پر کوئی شبہ نہیں مگر جو علاقے کی صورتحال ہے میں ان سے یہ سوال ضرور کروں گا کہ “جو لوگ قدرتی آفت سیلاب سے بچ گئے تھے کیا اب ان لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے ہاتھوں مرنے کے لئے تیار ہو جائیں ؟” ۔
نوٹ: جو احباب سیلاب زدگان کی بحالی میں اپنا کوئی بھی کردار ادا کرنا چاہیں وہ مجھ سے اس نمبر03338813856 پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں