علامہ اقبال کے افکار کو اپنے عمل کا محور بنانا ہو گا : ایم افضل

قوم علامہ اقبال کے نظریات اور افکار پر عمل پیرا ہو کر بھی ترقی کی معراج کو پہنچ سکتی ہے

نسل نو کو شاہین مرد مومن ، معمار امت جیسی تراکیب سمجھیں تو پورا معاشرہ سنور سکتا ہے

کمالیہ (ایڈیٹر نئی آواز) علامہ اقبال کے افکار کو اپنے عمل کا محور بنانا ہو گا۔ قوم علامہ اقبال کے نظریات اور افکار پر عمل پیرا ہو کر بھی ترقی کی معراج کو پہہنچ سکتی ہے۔ نسل نو کو شاہین مرد مومن، معمار اُمت جیسی تراکیب سمجھیں تو پورا معاشرہ سنور سکتا ہے۔ علامہ اقبال کے انقلاب کا آفتاب مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ جس کا اولین مقصد اسلامی مشرقی کو بیدار اور متحد کرنا ہے۔ اسکی بھر پور روشنی عالم اسلام کو منور کرتی ہے۔ اقبال اسلامی قومیت کے علمبردار تھے اقبال کی انسان دوستی کو قرآنی تصور توحید سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے صدر ایم افضل چوہدری نے علامہ اقبال کے 148ویں یوم ولادت کے موقع پر کیک کاٹنے اور عثمان سیالوی کا بطور جنرل سیکرٹری نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سوسائٹی کے دیگر عہدیداروں سیکرٹری اطلاعات ملک ظفر اقبال، فنانس سیکرٹری ارسلان احمد انصاری کے علاوہ سینیئر صحافی ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، نائب صدر ارشد چوہان، میڈیا ایڈوائزر نعیم خان، منیارٹی ایڈوائزر وحید قادر اور مشیر مذہبی امور محمد صادق کے علاوہ مرزا عثمان احمد صدر برائے درود پاک کونسل نے جنرل سیکرٹری کو اپنے مشترکہ بیان میں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شاعر مشرق دراصل لافانی فلسفے فکر اور نظریات کا نام ہے۔ اقبال کے تصور فن میں ایک طرف مقصد کی بلندی کا درس ملتا ہے دوسری طرف اس بلند مقصد کو دلکش اور موثر پیرا میں پیش کرنے کی تلقین بھی ملتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں