سیاسی عدم استحکام، معاشی ابتری اور ایک آخری این ۔آر۔او ۔۔۔ تحریر : مقصود احمد سندھو

سیاسی مکالمہ سے احتراز الزام تراشیوں پر انحصار اور غیر سنجیدہ سیاسی رویوں نے ملک میں مایوسی اور عدم اطمینان کی دبیز چادر تان رکھی ہے۔
خود غرضانہ سوچ عدم برداشت اور سیاسی بصیرت کی کمی کی بدولت ملکی نظام عدم توازن کی راہ پر چل رہا ہے۔
جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی عدم توازن پیدا ہونے سے قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ جس سے عالمی لین دین میں شدید مشکلات در پیش ہیں۔ روپے کی گراوٹ نے مہنگائی کو آسمان کی وسعتوں تک پہنچا دیا ہے۔
معاشی عدم توازن، جزوقتی حالات سنبھالنے اور مہنگائی کو مصنوعی طریقہ سے روکنے کی کوشش نے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شعبہ زراعت کی کمر توڑ رکھی ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری خون کے آنسو رو رہی ہے تاجر کسان دوکاندار ریڑھی بان مزدور سرکاری ملازم اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عام لوگ بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔
عالمی اصول ہے کہ مضبوط معیشت مستحکم سیاسی نظام سے اور مضبوط سیاسی نظام مستحکم معیشت سے مشروط ہے دونوں لازم و ملزوم ہیں ریاستوں کے عروج وزوال کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے ریاستی وقار اور عزت سیاسی استحکام سے ہی ممکن ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ملک کو وجود میں آنے سے اب تک آٹھویں دہائی اپنے اختتامی مراحل سے گزر رہی ہے۔ مگر آئین اور قانون کی حکمرانی تا حال ایک خواب ہی ہے۔
لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ترقی کے نام پر قرضوں کا پہاڑ ہمارا مقدر کیوں بد عنوانی اور کرپشن کو تحفظ کیوں بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن کے خاتمے، معاشی ابتری کو دور کرنے، عوامی فلاحی طویل المدتی منصوبے بروئے کار لانے کی بجائے سستی شہرت کے عارضی منصوبے کیوں بنائے جاتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں کہ راتوں رات پاس ہونے والے قانونی بلوں میں عوام الناس کی بہتری اور شخصی آزادیوں کےحوالہ سے قوانین کیوں نہیں بنائے جاتے ملکی کرنسی ایشیاء کی کمزور ترین کرنسی بن چکی ہے اس کی گراوٹ روکنے اور عالمی منڈی میں باعزت واپسی کے لئے سیاسی اکابرین فکر مند کیوں نہیں وہ اپنی نا اہلیت اور مفاد پرستی کی بنیاد پر نادیدہ قوتوں کو راستہ کیوں دیتے ہیں کیوں زمہ داریوں سے اجتناب کرتے ہیں۔
عوام کی حالت زار کی کیوں پرواہ نہیں کرتے جمہوری فریم میں آمریت کی راہ کیوں ہموار کرتے ہیں شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کیوں نہیں کرتے۔ پرنٹ میڈیا کی صنعت ہچکیاں لے رہی ہے دفاتر سے عملے کی ڈاؤن سائزنگ سے لیکر پرنٹنگ پریسوں کی فروخت تک کے معاملات جس نہج تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے عالمی اداروں کی رپورٹ کےمطابق ہم انسانی حقوق شخصی آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حوالے سے 143ویں نمبر سے 130ویں پائیدان پر کھڑے ہیں۔ بیروز گاری اپنے عروج سے لطف اندوز ہو رہی ہے غربت اور پسماندگی مزید آگے بڑھنے کے لیے کھڑی مسکرا رہی ہے لیکن سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ذاتی مفادات کی عینک اتارنے کو کیوں تیار نہیں۔
خط غربت کو شہ مات دینے کے لیے کیوں نہیں سوچ رہے وقت دبے پاؤں تیزی سے گزر رہا ہے تاریخ محو حیرت ہے کہ وسائل سے مالا مال با صلاحیت لوگوں کی جنت نظیر سر زمین اتنی بے بس کیوں ہے شاید ان سیاست دانوں کے پاس ملک کو اس بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے بہت کم وقت ہے۔ سیاسی گروہی اور مفاداتی سوچ کو ایک طرف رکھ کر ملک و ملت کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایک مشترکہ کاوش کی ضرورت ہے۔
شاید ایک آخری این۔ آر۔او۔ وقت کی ضرورت ہے اس کی جتنی ضرورت اس وقت ہے شاید ہی کبھی رہی ہوگی۔ سیاسی بند گلی کا راستہ کھولنے اور خوف کے خاتمے کے لیے پورے ملک کے لیے ایک این آر او دے دیا جائے اور آئندہ کے لیے کرپشن اور بد عنوانی کے کے تدارک کے لیے سخت سے سخت قوانین بنائے جائیں تاکہ کسی کو آئندہ اس قبیح فعل کی ہمت نہ ہو۔ اب یہ اقتدار کے ایوانوں پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام کس انداز میں درج کروانا چاہتے ہیں روشنی کے سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں یا اندھیری راہوں میں ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کارکردگی بتانے سے نہیں دکھانے سے اثر کرتی ہے عوام کی بڑی تعداد نے ضمنی انتخابات میں حصہّ نہ لیکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروادیا ہے اور عوامی بہتری کے منصوبوں اور پروگراموں کے متمنی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں