وینیزویلا کے صدر کی گرفتاری: عسکری کارروائی یا طے شدہ ڈرامہ؟ ۔۔۔ تحریر : ذیشان حسین

کراچی، امریکی اسپیشل فورسز کی جانب سے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکاس میں واقع انتہائی محفوظ فوجی کمپلیکس فورٹ ٹیونا سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیے جانے کے دعوے نے عالمی سیاست میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو “شاندار آپریشن” قرار دیا، تاہم اس مبینہ مشن کی تفصیلات کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔
وینیزویلا کا دفاعی نظام لاطینی امریکہ کے مضبوط ترین نظاموں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ بولیویرین نیشنل آرمڈ فورسز (FANB) کو نظریاتی بنیادوں پر منظم کیا گیا تھا تاکہ فوج کی وفاداری صدر اور ریاست سے جڑی رہے۔ فوج، فضائیہ، بحریہ، نیشنل گارڈ اور لاکھوں افراد پر مشتمل بولیویرین ملیشیا کو کسی بھی غیر ملکی جارحیت کے مقابلے کے لیے تیار رکھا گیا تھا۔
صدر مادورو کی حفاظت صدارتی اعزازی گارڈ کے ذمہ تھی، جو ایک بریگیڈ سائز یونٹ ہے۔ ان کی رہائش فورٹ ٹیونا کے اندر ایک جدید زیرِ زمین بنکر میں تھی، جسے فولادی دیواروں، خود مختار آکسیجن نظام اور طویل محاصرے کی صلاحیت کے باعث ناقابلِ تسخیر قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود امریکی ڈیلٹا فورس کے اہلکاروں کا بغیر کسی نمایاں مزاحمت کے صدر تک پہنچ جانا کئی شکوک کو جنم دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ آپریشن 160ویں اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن ریجمنٹ کے MH-47G چنوک اور MH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیا گیا، جو امریکی بحری جہاز USS Iwo Jima سے روانہ ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ بھاری اور نسبتاً سست رفتار چنوک ہیلی کاپٹر کس طرح 200 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کر کے کاراکاس کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور وینیزویلا کے کسی بھی ریڈار یا میزائل سسٹم نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کیوں نہ کی؟
وینیزویلا کے پاس روسی ساختہ S-300VM اور Buk-M2 جیسے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، جو 200 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں یہ آپریشن اسی صورت ممکن تھا جب دفاعی نظام کو جان بوجھ کر غیر فعال رکھا گیا ہو یا اعلیٰ سطح پر خاموش رضامندی موجود ہو۔
یہ واقعہ 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہونے والے امریکی آپریشن کی یاد دلاتا ہے، جس میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی امریکی ہیلی کاپٹروں نے طویل وقت تک پاکستانی فضائی حدود میں پرواز کی، جبکہ مؤثر دفاعی ردعمل سامنے نہ آ سکا۔ بعد ازاں ایبٹ آباد کمیشن نے اس واقعے کو “ریاستی ناکامی” قرار دیا تھا۔
وینیزویلا کے معاملے میں بھی بین الاقوامی تجزیہ کار اور اپوزیشن ذرائع صدر مادورو کی گرفتاری کو ایک “نیگوشی ایٹڈ ایگزٹ” قرار دے رہے ہیں۔ دسمبر 2025 میں مبینہ خفیہ مذاکرات، گرفتاری سے قبل چینی وفد کی موجودگی، اور صدر ٹرمپ کا نرم سفارتی لہجہ اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ فوجی قیادت اور امریکی انٹیلی جنس کے درمیان پیشگی معاملات طے ہو چکے تھے۔
گرفتاری کے فوراً بعد امریکہ کی جانب سے وینیزویلا کے انتظامی امور اور تیل کی صنعت میں شمولیت کے اعلانات نے بھی شکوک کو مزید تقویت دی ہے۔ یاد رہے کہ وینیزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر کا مالک ہے، اور یہ آپریشن محض ایک حکمران کو ہٹانے تک محدود نہیں بلکہ خطے میں امریکی تزویراتی مفادات سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔
مادورو کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ جدید دور میں بنکرز، میزائل سسٹمز اور فولادی قلعے اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں، جب اقتدار کے ایوانوں میں وفاداریاں تبدیل ہو جائیں۔ وینیزویلا اب ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں خودمختاری کے فیصلے سرحدوں سے باہر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں