ابتدائی میڈی ایشن سے فوری اور مؤثر انصاف ممکن ہے: جسٹس محمد جعفر رضا
کراچی (رپورٹ : ذیشان حسین) سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالتی نظام میں اصلاحات، مقدمات کے بوجھ میں کمی اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے متبادل تنازعاتی حل (ADR) اور میڈی ایشن ونڈو کے قیام کے حوالے سے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایم آئی اے آربیٹریشن، میڈی ایشن اینڈ کنسیلی ایشن سینٹر (M.I.A-MCC) اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ایک اہم اور بامقصد سیمینار ہفتہ 7 فروری 2026 کو نیو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، کراچی میں منعقد ہوا۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی معزز جسٹس محمد جعفر رضا، جج سندھ ہائی کورٹ تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ابتدائی مرحلے پر میڈی ایشن کو فروغ دے کر فوری، کم خرچ اور مؤثر انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز عدالتی اصلاحات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ADR جیسے جدید قانونی طریقۂ کار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیمینار کی صدارت محمد اسحاق علی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، سابق نائب صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر M.I.A-MCC نے کی۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ADR اور میڈی ایشن ونڈو کے قیام کے لیے تعاون ایک تاریخی قدم ہے جو نہ صرف وکلاء بلکہ عام سائلین کے لیے بھی انصاف تک رسائی کو آسان بنائے گا۔
سابق جج سندھ ہائی کورٹ جسٹس (ر) فہیم احمد صدیقی نے کہا کہ عدالتوں پر بڑھتے ہوئے مقدمات کا دباؤ کم کرنے کے لیے بار اور بینچ کو مل کر میڈی ایشن کو فروغ دینا ہوگا، اور سندھ ہائی کورٹ بار اس سلسلے میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔
محمد شاہد شفیع، ڈائریکٹر ٹریننگ DCPD اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کہا کہ اگر ADR کو ابتدائی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تو نہ صرف قیمتی عدالتی وقت بچے گا بلکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
مفتی ابراہیم عیسیٰ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مصالحت کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام میں صلح کو ترجیح دی گئی ہے اور میڈی ایشن اسی اصول کی عملی شکل ہے۔
غضنفر احسن، سینئر بینکر نے بینکاری اور مالی تنازعات میں میڈی ایشن کے ذریعے مؤثر ریکوری اور کلائنٹ کے اطمینان کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
اس موقع پر صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن محمد حسیب جمالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ بار وکلاء کی فلاح، عدالتی اصلاحات اور متبادل تنازعاتی حل کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ بار میں ADR اور میڈی ایشن ونڈو کا قیام وکلاء اور سائلین دونوں کے لیے ایک انقلابی سہولت ثابت ہوگا۔
جنرل سیکریٹری سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن فریدہ ماگریو نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن ادارہ جاتی اصلاحات پر یقین رکھتی ہے اور ADR کے فروغ سے نہ صرف مقدمات میں کمی آئے گی بلکہ انصاف کی رفتار بھی بہتر ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ ہائی کورٹ بار ADR اقدامات کے لیے ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
سیمینار کے اختتام پر مہمانِ خصوصی جسٹس محمد جعفر رضا نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، M.I.A-MCC اور تمام مقررین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر بار ایسوسی ایشنز اس جذبے سے ADR کو فروغ دیتی رہیں تو پاکستان میں انصاف کا نظام مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
سیمینار میں سینئر وکلاء، ججز، قانونی و مالی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ ADR اور میڈی ایشن ونڈو کے قیام کو سندھ ہائی کورٹ بار کی جانب سے ایک مثبت اور دور رس اقدام قرار دیا گیا۔


