ویلنٹائن ڈے: محبت کے نام پر بے راہ روی یا تہذیبی یلغار؟ ۔۔۔ تحریر و ترتیب : محمد زاہد مجید انور

آج کے دور میں جہاں دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، وہیں ہماری نوجوان نسل کو مختلف فکری، اخلاقی اور ثقافتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ انہی چیلنجز میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے کچھ ایسے رسم و رواج، جو ہمارے مذہبی اور سماجی اقدار سے متصادم ہیں، انہیں “جدت” اور “آزادی” کے نام پر ہمارے معاشرے میں عام کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے انہی میں سے ایک “ویلنٹائن ڈے” بھی ہے جسے یومِ تجدیدِ محبت کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ دن ہمارے معاشرتی ڈھانچے کیلئے کئی اخلاقی اور تہذیبی مسائل کو جنم دیتا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ویلنٹائن ڈے کا ہماری اسلامی روایات، تہذیب اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام محبت کا دین ہے، مگر وہ محبت جو پاکیزگی، احترام، حدود اور ذمہ داری کے دائرے میں ہو۔ اسلام میں محبت کے سب سے عظیم رشتے ماں باپ، بہن بھائی، خاندان، استاد اور معاشرے کے افراد کے ساتھ حسنِ سلوک اور خیرخواہی کی صورت میں موجود ہیں۔ مگر افسوس کہ آج محبت کے نام پر ایک ایسا تصور فروغ دیا جا رہا ہے جو زیادہ تر خواہشات، نمائش اور بے راہ روی کے گرد گھومتا ہے ہمارے ہاں ویلنٹائن ڈے کا آغاز چند مخصوص مغرب زدہ طبقوں سے ہوا، لیکن اب یہ تہوار میڈیا، سوشل میڈیا، اشتہارات اور مارکیٹنگ کے ذریعے پورے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے۔ تعلیمی اداروں، بازاروں اور سڑکوں پر سرخ رنگ کی بھرمار، دلوں کی شکل والے تحائف، گلاب کے پھول، اور غیر ضروری تقریبات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کس طرح ایک غیر اسلامی تہوار کو ہمارے معاشرتی ماحول میں “نارمل” بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ویلنٹائن ڈے صرف ایک دن کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سوچ اور ایک طرزِ زندگی کا دروازہ کھولتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ محبت کا اظہار صرف اسی دن ممکن ہے، اور محبت کی پہچان صرف گلاب، کارڈ، تحائف اور غیر ضروری میل جول سے ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ دن ہمارے نوجوانوں کیلئے اخلاقی بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر قوم کی بنیاد اس کی تہذیب، اس کے نظریے اور اس کے اقدار پر ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی اقدار چھوڑ کر دوسروں کی اندھی تقلید شروع کر دے تو وہ رفتہ رفتہ اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہم مغربی تہواروں اور رسومات کو تو بڑے شوق سے اپناتے ہیں، لیکن اپنے اسلامی تہواروں اور دینی روایات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ عیدین، جمعہ، رمضان المبارک اور دیگر مذہبی مواقع ہماری خوشیوں کا حقیقی مرکز ہیں، مگر ان کی روح سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں۔ویلنٹائن ڈے کے نام پر جس بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس کے اثرات صرف اخلاقی نہیں بلکہ سماجی بھی ہیں غیر ضروری میل جول، بے پردگی، غلط روابط، اور خاندانی نظام کی کمزوری جیسے مسائل اسی سوچ کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک خاندانی معاشرہ ہے، جہاں رشتوں کی بنیاد عزت، اعتماد اور شرم و حیا پر ہے۔ اگر ہم نے اس نظام کو کمزور ہونے دیا تو معاشرتی انتشار، بے سکونی اور جرائم میں اضافہ بعید از قیاس نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم اپنی اعلیٰ ثقافتی اقدار کے تحفظ کیلئے وسیع پیمانے پر تحریک چلائیں۔ یہ تحریک نفرت یا سختی پر مبنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ شعور، تربیت اور رہنمائی پر مبنی ہونی چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں اور انہیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں محبت، عزت اور رشتوں کا صحیح مفہوم سمجھائیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو اخلاقی تعلیم دیں اور ایسے غیر ضروری رجحانات سے بچانے کیلئے کردار ادا کریں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں مثبت کردار ادا کرے نہ کہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کو فروغ دے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ احساس دلائیں کہ محبت صرف ایک دن کا نام نہیں بلکہ یہ ایک کردار، ایک ذمہ داری اور ایک پاکیزہ احساس ہے۔ محبت ماں باپ کی خدمت میں ہے، محبت بہن بھائیوں کے احترام میں ہے، محبت اپنے وطن سے وفاداری میں ہے، محبت انسانیت کی خدمت میں ہے، محبت اپنے دین کی پاسداری میں ہے۔ اگر ہم اس مفہوم کو اجاگر کر دیں تو نوجوان نسل خود بخود ایسی فضول رسومات سے دور ہو جائے گی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے جیسے تہوار ہمارے معاشرے کیلئے محض ایک تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ ایک تہذیبی یلغار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اگر ہم نے وقت پر اپنی اقدار کا تحفظ نہ کیا تو ہماری شناخت، ہمارا خاندانی نظام اور ہماری نئی نسل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اسلامی روایات پر فخر کریں، اپنے تہواروں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور مغربی تقلید کے بجائے اپنی تہذیب اور اقدار کو مضبوط کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں