اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک سابق وزیر اعظم اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان کے ساتھ جیل میں مبینہ غیر انسانی اور غیر ذمہ دارانہ سلوک اب صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انسانی اور اخلاقی مسئلہ بن چکا ہے۔ جمہوری ریاست میں اختلافِ رائے جرم نہیں، مگر اختلاف کو انتقام میں بدل دینا ریاستی وقار اور انصاف کے دعوؤں پر گہرا سوالیہ نشان ہے۔تشویش ناک امر یہ بھی ہے کہ ان کی صحت اور طبی مسائل کے باوجود ان کے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت نہ دینا بنیادی انسانی حقوق اور آئینی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں، ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے سے متعلق عدالت میں باضابطہ بیان جمع کروایا جا چکا ہے، مگر اس سنگین معاملے پر حکومتی خاموشی نہایت مشکوک اور قابلِ تشویش ہے۔ صحت جیسے حساس معاملے پر تاخیر، لاپروائی یا چشم پوشی کسی بھی مہذب ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ بین الاقوامی قوانین واضح طور پر اس بات کے پابند کرتے ہیں کہ سیاسی قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات، ذاتی معالج تک رسائی اور انسانی وقار کے مطابق سلوک فراہم کیا جائے۔ حکومتِ پاکستان کی یہ آئینی، اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی بغض اور انتقامی سوچ سے نکل کر ایسا طرزِ عمل اپنائے جو قانون کی بالادستی، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی حقیقی عکاسی کرے۔ بصورتِ دیگر، طاقت کے سائے میں قائم کی گئی خاموشی وقتی ہو سکتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں جنم لینے والی بے چینی اور نفرت ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے دیرپا نقصان کا باعث بنے گی۔


