سچ، فریب، شعور اور فکری انتشار کی جنگ اور میڈیا لٹریسی ۔۔۔ تحریر : مقصود احمد سندھو

ایران امریکہ اسرائیل جنگ اور پاک افغان تنازعہ کیوجہ سے پورا خطہ مشکلات کا شکار ہے ایسی صورت میں افواہوں اور فیک نیوز کا بازار گرم ہونا معمول کی بات ہے لیکن مسئلہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا ہے کیونکہ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کا طوفان ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو سمندر سے کوزہ بنا دیا ہے، جہاں مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر ہر لمحہ انواع و اقسام کی رنگ برنگی خبریں، سنسنی خیز تجزیے، مزاحیہ ویڈیوز، میمز اور تصاویر اسکرین کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ مگر اس چکا چوند کی آڑ میں جھوٹ، فریب، افواہیں اور ڈیجیٹل فراڈ بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ درست اور مستند خبر کو جھوٹ اور افواہ سے کیسے الگ کیا جائے؟ ماخذ کی پہچان کیسے ہو؟ حقیقت اور افسانے میں فرق کیسے کیا جائے؟ پروپیگنڈا اور فیک نیوز کی شناخت کیسے ممکن ہے؟ اور ڈیجیٹل فراڈ سے بچتے ہوئے سوشل میڈیا سے مثبت استفادہ کیسے کیا جائے؟


ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے ہم نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹدیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر محمود اور پروفیسر ڈاکٹر احسن بھٹی سے گفتگو کی۔
ڈاکٹر احسن بھٹی کے مطابق آج کے دور میں شعور اور فکری انتشار کی اس جنگ کا سب سے مؤثر ہتھیار میڈیا لٹریسی ہے۔ اس کے بغیر لوگ سچ، جھوٹ اور پروپیگنڈے میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ ایک ہی خبر کو مختلف چینلز اپنے اپنے مفادات اور اہداف کے مطابق پیش کرتے ہیں، اس لیے سب سے پہلے خبر کا سورس دیکھنا ضروری ہے۔ کیا وہ کسی مستند ادارے سے جاری ہوئی ہے؟ کیا خبر کی سرخی اور متن میں مطابقت ہے؟ اکثر سنسنی خیز ہیڈ لائنز محض توجہ حاصل کرنے کے لیے “کلک بیٹ” ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی خبر یا ویڈیو کی تصدیق مختلف پلیٹ فارمز سے کی جائے۔ غیر مصدقہ لنکس پر کلک نہ کیا جائے، ذاتی اور حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا جائے، اور اے آئی سے تیار کردہ بصری مواد پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔ ریورس امیج سرچ جیسے ڈیجیٹل ویری فکیشن ٹولز استعمال کر کے ویڈیوز اور تصاویر کی حقیقت جانچی جا سکتی ہے۔ گمنام اکاؤنٹس اور انعامی لالچ دینے والے پیغامات سے محتاط رہنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ احتیاطیں صرف عام صارفین کے لیے نہیں بلکہ صحافت سے وابستہ افراد کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ صحافیوں کو تحقیق اور تصدیق کو ترجیح دینی چاہیے، سنسنی کے بجائے حقائق کو مقدم رکھنا چاہیے اور ذاتی یا سیاسی مفاد کے مقابلے میں عوامی مفاد کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر طاہر محمود کا کہنا ہے کہ میڈیا لٹریسی نوجوان نسل کو ذمہ دار شہری بناتی ہے۔ یہ برداشت، مکالمے اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتی ہے اور افواہوں و نفرت انگیز مواد کا راستہ روکتی ہے جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے میں بھی اس کا اہم کردار ہے اس لیے تعلیمی اداروں کے نصاب میں میڈیا لیٹریسی کو باقاعدہ مضمون کے طور پر شامل اس لیے تعلیمی اداروں کے انصاف میں میڈیا لٹریسی کو باقاعدہ مضمون کے طور پر شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا اصل چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ سچائی کی پہچان ہے۔ اگر ہم نے میڈیا کو سمجھنا نہ سیکھا تو میڈیا ہمیں اپنی راہ پر چلنا سکھا دے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن کو خبروں کا محض گودام نہ بنائیں بلکہ شعور کی چھلنی استعمال کریں، تاکہ جھوٹ بے نقاب ہو اور سچ کی تصویر واضح ہو سکے۔
درحقیقت میڈیا لٹریسی میڈیا کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہ ہمیں خبروں، اشتہارات، ویڈیوز اور میمز میں پوشیدہ پیغامات، پروپیگنڈا اور تجارتی مقاصد کو پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی خبر، پیغام یا اطلاع کو بغیر سوچے سمجھے آگے بڑھانے کے بجائے تحقیق اور تدبر کو اپنا شعار بنانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں