تحقیقی انقلاب کے بغیر ہم عصر قوتوں کی برابری ممکن نہیں ۔۔۔ تحریر : مقصود احمد سندھو

مڈل ایسٹ میں جاری آگ اور بارود کے کھیل نے ایک بار پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی برتری اور اہمیت ثابت کر دی ہے اگر کسی ملک کو اپنی آزادی اور خودمختاری برقرار رکھنی ہے تو اسے ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی برتری کے جھنڈے گاڑنے ہونگے تاریخ عالم کی ورق گردانی کریں تو پتہ چلتا ہے انسانی زندگی کی ابتداء سے لیکر آج تک کا ارتقائی سفر دراصل تحقیق کی ہی درخشندہ مثال ہے انسان کا سماجی حدود کا تعین کرنا ہواؤں میں برق رفتاری سے اڑنا سمندروں کی تہہ سے خزانے نکالنا۔ زمین کا سینہ چیر کر معدنیات سے استفادہ کرنا تحقیق ہی کے مرہون منت ہے بین البراعظمی میزائل سسٹم ہو یا بین الاقوامی سوشل سسٹم ،کلچر ہو یا تجارت سب کو گلوبلائزیشن کی مٹھی میں بند کرنے سے لیکرکمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے دنیا کو ایک نقطے پہ مرتکز کرنا سب تحقیق کا کمال ہے بیماریوں اور آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسین اور سرجری کے آلات کی دستیابی اور ایک کلک پر دنیا جہاں کا علم تحقیق کا ہی کرشمہ ہے اس اہم موضوع پر ہم نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز سے منسلک سیئنیر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد احمد اور پروفیسر ڈاکٹر عاصمہ صفدر سے رابط کیا کہ وہ موجودہ حالات کے تناظر میں ریسرچ جیسے سنجیدہ اور اہم موضوع پر اپنی رائے دیں ہمارے سوالوں کے جواب میں ڈاکٹر عاصمہ صفدر نے ریسرچ کی افادیت معیار اور اہمیت پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا اگر انسانی تاریخ کا مشاہدہ کریں تو پتہ چلتا ہے ترقی کا ہر سنگ میل تحقیق کا غلام ہے انسان نے جب سے سوال کرنا اور مشاہدہ کرنا سیکھا تب سے ہی تحقیق کا سفر شروع ہوا مسائل کے حل کےلئے حقائق کی تلاش اور نئی معلومات کی دریافت کا دوسرا نام ریسرچ ہے کیونکہ یہ ہمیں قیاس آرائیوں کی بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا شعور دیتی ہے تعلیمی اصلاحات معاشی۔ منصوبہ بندی اور سائنسی ایجادات سب تحقیق کی ہی بدولت ممکن ہوئی ہیں اگر سوچنے کا یہ عمل رک جاتا تو انسان آج پسماندگی کا نمونہ نظر آتا جدید دنیا کی شاندار ترقی کی بنیاد تحقیق پر ہی منحصر ہے میدان طب میں نئی نئی ادویات اور ویکسینز کی تیاری جیسا کہ عالمی وباء کرونا کے موقع پر تیز رفتاری سے بیماری کا مقابلہ کیا گیا یہ ریسرچ کا ہی نتیجہ تھا ایپل ،مائکرو سافٹ اور گوگل جیسی دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کی کامیابی مسلسل تحقیق اور جدت کی اعلیٰ مثال ہے صنعتی انقلاب سے لیکر ڈیجیٹل۔ انقلاب تک ہر مرحلے پر اسی سلسلے کا نمایاں کردار نظر آتا ہے سماجی علوم میں بھی اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا غربت، بے روزگاری جرائم، تعلیم اور دیگر سماجی مسائل کے حل کے لیے اعداد وشمار پر مبنی تحقیق ناگزیر ہے ترقی یافتہ ممالک میں پالیسیاں بنانے سے پہلے ریسرچ کروائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے فیصلے دیرپا اور مؤثر نظر آتے ہیں اس کے بر عکس جہاں ریسرچ کو نظر انداز کرکے فیصلے کیے جاتے ہیں وہ عارضی اور غیر مؤثر رہتے ہیں تحقیق نئی سوچ کو جنم دیتی ہے مسائل کے سائنسی حل فراہم کرتی ہے معاشی استحکام کو فروغ دیتی ہے تعلیم اور صحت کےمعیار بہتر بناتی ہے تحقیق قوموں کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرتی اقوام عالم میں باوقار مقام کے حصول کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بناتی ہے آج کے پاکستان کو تحقیقی انقلاب کی ضرورت ہے ہمیں جامعات میں تحقیق کو رسمی تقاضا نہیں بلکہ قومی فریضہ سمجھ کر اپنانا ہوگا اس مقصد کے لیے بجٹ میں اضافہ تحقیقی کلچر کے فروغ اور محققین کی حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے یہی وہ واحد زینہ ہے جو بلندی کا سفر طے کرنے میں ہمیں مدد دے گا سینئیر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد احمد کی رائے کے مطابق

تحقیق صرف مقالہ لکھنے کا نام نہیں بلکہ سوچنے سمجھے سوال اٹھانے اور اس کا حل ڈھونڈنے کا نام ہے اگر تحقیق کو اپنی ترجیح بنا لیا جائے تو یقیناً ہم اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں تاریخ ہمیں سبق پڑھاتی ہے کہ قوموں کی طاقت ان کے وسائل سے زیادہ ان کی تحقیقی سوچ پر منحصر ہوتی ہے تحقیق محض ڈگری کا حصول نہیں بلکہ قومی ترقی کا ذریعہ شعور کاسفر،خود مختاری اور خود اعتمادی کا زینہ ہے قوموں کی تقدیر بدلنے والی قوت کا نام تحقیق ہےیہ وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے جب انسان نے مشاہدے تجزیے اور دلیل کی بنیاد پر کائنات کے رازوں پر غور کیا تب ہی انجینئرنگ، طب، سماجیات، معاشیات اور دیگر علوم کی قندیلیں روشن ہوئیں۔ آج کی ترقی صدیوں کی تحقیق کا ثمر ہے تاریخ گواہ ہے جو قومیں سوال اٹھانا چھوڑ دیتی ہیں وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جو قوم نوجوانوں کو سوال کرنے کی آزادی دیتی ہیں وہی دنیا کی قیادت کرتی ہے اس کی ایک بہت بڑی مثال مڈل ایسٹ میں جاری تازہ ترین میدان جنگ کا منظر ہے تحقیق کو اپنانے والوں اور نہ اپنانے والوں کا فرق واضح ہے ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ تحقیق کو اپنانے یا نہ اپنانے کا ہے آج کے دور میں آگے بڑھنے اور اپنی ہم عصر دنیا کے شانہ بشانہ چلنے معاشی ترقی وخوشحالی کے لیے تساہل پسندی اور روایتی طریقوں کو چھوڑ کر مسلسل محنت مستقل مزاجی اور لگن سے تحقیقی میدان میں آگے بڑھنا ہوگا چاہے اس کے لیے اپنی ضروری خواہشات کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے بصورت دیگر دوسروں کا دست نگر رہتے ہوئے خودمختاری اور خود داری بس خواب ہی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں