کسی بھی معاشرے کی فکری تشکیل میں ذرائع ابلاغ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ میڈیا صرف خبروں اور تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ عوامی سوچ، رویوں اور سماجی تصورات کی تشکیل کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے کردار، کہانیاں اور مکالمے ناظرین کے ذہنوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اگر کسی طبقے کی تصویر کشی بار بار ایک ہی مخصوص انداز میں کی جائے تو آہستہ آہستہ وہی تصور معاشرے کی اجتماعی سوچ کا حصہّ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں خواجہ سرا برادری اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔
خواجہ سرا صدیوں سے برصغیر کے معاشرتی ڈھانچے کا حصہ ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں آج بھی تعصب، امتیازی سلوک، معاشی مشکلات اور سماجی محرومیوں کا سامنا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عام شہریوں کی اکثریت کا اس برادری سے براہِ راست رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے ان کے بارے میں رائے زیادہ تر ٹیلی ویژن، فلموں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشکیل پاتی ہے۔ اگر یہی ذرائع ایک محدود اور منفی تصویر پیش کریں تو معاشرے میں غلط فہمیاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبۂ ابلاغیات میں ڈاکٹراقصیٰ ارم شہزادی کی پی ایچ ڈی تحقیق “پاکستانی ٹیلی ویژن کے ذریعے خواجہ سراؤں کو سمجھنا: کلٹیویشن تجزیہ” اسی اہم مسئلے کو سائنسی انداز میں سامنے لاتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیلی ویژن پر خواجہ سراؤں کو زیادہ تر مزاحیہ کردار، بھکاری، رقاص یا غیر سنجیدہ شخصیت کے طور ضپر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے ضکردار حقیقت کے ایک محدود حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر انہیں مکمل حقیقت بنا کر پیش کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کے شہری ہیں۔ ان کے بھی خواب ہیں، احساسات ہیں، خاندان ہیں، تعلیم حاصل کرنے اور باعزت روزگار کمانے کی خواہش ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی جدوجہد، صلاحیتوں، کامیابیوں اور مثبت کردار کو میڈیا میں بہت کم جگہ ملتی ہے۔ جب ایک ہی قسم کے کردار مسلسل دکھائے جائیں تو ناظرین کے ذہن میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پوری برادری کی زندگی اسی محدود دائرے تک محدود ہے۔
یہی نکتہ جارج گربنر کے کلٹیویشن تھیوری میں بیان کیا گیا ہے، جس کے مطابق ٹیلی ویژن کو مسلسل دیکھنے والے افراد اس میں پیش کی جانے والی دنیا کو حقیقی دنیا سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر میڈیا کسی گروہ کی متوازن تصویر پیش نہ کرے تو وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے رویے بھی اسی سمت میں ڈھل جاتے ہیں۔ یوں میڈیا غیر محسوس انداز میں سماجی تعصب کو کم کرنے کے بجائے بعض اوقات مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
تحقیق میں پاکستان کے مختلف ٹیلی ویژن چینلز کے پرائم ٹائم پروگراموں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک بھر سے 105 خواجہ سراؤں کے انٹرویوز کیے گئے جبکہ مصنفین، ہدایت کاروں، پروڈیوسرز اور دیگر میڈیا ذمہ داران سے بھی گفتگو کی گئی۔ اس جامع مطالعے سے معلوم ہوا کہ خواجہ سرا برادری کی اکثریت معاشرے سے ہمدردی نہیں بلکہ عزت، مساوی مواقع، تعلیم، روزگار اور باوقار شناخت چاہتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا شکوہ یہی تھا کہ میڈیا ان کی اصل زندگی، صلاحیتوں اور مسائل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی، عدالتی فیصلے اور سماجی شعور میں اضافہ ہوا ہے، مگر میڈیا کو بھی اسی رفتار سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ صرف تفریح یا ریٹنگ کی خاطر کسی طبقے کو ایک مخصوص سانچے میں پیش کرنا صحافتی اور اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرامہ نگار، پروڈیوسرز اور ہدایت کار ایسے کردار تخلیق کریں جو خواجہ سراؤں کی حقیقی زندگی، تعلیم، ملازمت، سماجی خدمات، خاندانی تعلقات اور کامیابیوں کو بھی اجاگر کریں۔ میڈیا جب حقیقت کے تمام پہلو دکھائے گا تو عوامی رویوں میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی اور معاشرے میں برداشت، احترام اور مساوات کو فروغ ملے گا۔
کسی بھی مہذب قوم کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور نظر انداز کیے گئے طبقات کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتی ہے۔ اگر ہم ایک منصفانہ، باوقار اور ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں میڈیا کی طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ خواجہ سرا برادری کو طنز و مزاح کا موضوع بنانے کے بجائے انہیں ایک مکمل انسان، باصلاحیت شہری اور معاشرے کے برابر کے فرد کے طور پر پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ذرائع ابلاغ اگر اپنی سماجی ذمہ داری کو محسوس کریں تو وہ صرف رائے عامہ ہی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کو بھی مثبت سمت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہی اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام ہے کہ میڈیا آئینہ بھی ہے اور معمار بھی۔ اگر آئینہ حقیقت کو دیانت داری سے دکھائے گا تو معاشرہ بھی اپنی اصلاح کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔



