233

باتیں اعجاز الحق کی کالم ہمارا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

کچھ دیر قبل اعجاز الحق صاحب سے ہلکی پھلکی غیررسمی گفتگو ہوئی۔ میں نے پوچھا بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیاء مارشل لاء کے دوران ہی بینظیر بھٹو 1986ء میں بڑی بہادری سے وطن واپس آئیں۔ کہنے لگے بینظیر بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی پھانسی کے سات سال بعد اس وقت واپس آئیں جب ملک میں مارشل لاء ختم ہوچکا تھا اور جونیجو صاحب کی سربراہی میں سول جمہوری حکومت کام کررہی تھی۔ یہ ایک بااختیار حکومت تھی۔ اسی حکومت نے معاہدہ جنیوا بھی کیا۔ میں نے سیاست کے طالبعلم ہونے کے ناتے تشویش ظاہر کی کہ ملک میں 4مارشل لاء لگے لیکن ہماری سیاست میں باقی 3مارشل لاؤں کی نسبت جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف زیادہ ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ اس پر اعجاز الحق صاحب نے کہا کہ آپ نے خود ہی اپنے سوال کا تجزیہ کرلیا ہے اور رائے بھی قائم کرلی ہے۔ تاریخی حوالوں سے دیکھیں کہ جب جنرل ضیاء الحق کو مجبوری میں مارشل لاء نافذ کرنا پڑا تو یہ کوئی ان کا اپنا فیصلہ نہیں تھا۔ ملک کے حالات اس قدر گمبھیر تھے کہ آئینی مشینری ناکام ہوچکی تھی۔ جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا تو اس وقت ملک میں حلوے کی دیگیں بانٹی گئیں۔ ملکی پریس نے اسی مارشل لاء کو نجات دہندہ بھی لکھا۔ میں مارشل لاء کے نفاذ کی حمایت نہیں کررہا ہوں۔ صرف تاریخ کے ریکارڈ کی بات کرتا ہوں۔ باقی رہ گئی کسی کی رائے تو اُس پرتو کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ جو رائے آپ نے ظاہر کی ہے ہر اسلام پسند محب وطن سیاسی کارکن کو یقین ہے کہ جنرل صاحب کے دور کے بارے میں اس کے برعکس رائے ملک میں موجود ہے۔ میں نے اپنے پچھلے سوال کو ذرا الٹ پلٹ کر دوبارہ پوچھا کہ آپ کے خیال میں پاکستان کے چاروں مارشل لاؤں میں سے ملک کو سب سے زیادہ کس مارشل لاء سے نقصان پہنچا؟ اعجازالحق صاحب معاملے کو بھانپتے ہوئے کہنے لگے اس پر بات ہوسکتی ہے۔ یہ ایک اکیڈمک بحث ہے۔ ویسے آپ دیکھیں کہ ایوب خان کے دور میں ملک میں ڈیم بنے۔ مختصر بات کروں گا۔ میں سیاسی واقعات پر بات نہیں کروں گا۔ اس پر بات ہوگی تو پھر گفتگو کہیں اور نکل جائے گی۔ جنرل ضیاء صاحب کے دور میں ملک میں صنعتوں نے ترقی کی۔ انہوں نے تن تنہا افغان جنگ لڑی اور ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دی۔ بھارت جیسے مکار ملک کو قابو میں رکھا۔ اسے بتایا کہ ہم نے سب کچھ کرلیا ہے اور صرف ایک نٹ ہی کسنا باقی رہ گیا ہے۔ اس جملے نے بھارت کی پاکستان کے خلاف جنگ کی ساری تیاری ختم کردی تھی۔ اس ریجن میں بھارت کے اثر کو کم کرنے کے لیے سارک بنائی گئی۔ ان کے دور میں او آئی سی مضبوط بنی۔ اقوام متحدہ میں جنرل ضیاء صاحب کو پوری امت مسلمہ کے نمائندے کی حیثیت سے خطاب کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں کعبہ میں نماز کی امامت لکھی۔ ملک میں زکوٰۃ کا نظام لایا گیا اور سرکاری دفاتر میں نظام صلوۃ نافذ ہوا۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جنرل ضیاء صاحب کے دور میں ملک میں معاشی شعبے میں داخلی صورتحال اور خارجہ امور کے محاذ پر ہمیں بے پناہ کامیابی ملی۔ اس پر چاہیں تو تفصیل سے بات ہوسکتی ہے اور بات ہونی چاہیے۔ اندرون ملک سندھ میں امن ہوا۔ بلوچستان میں پہلی بار ان کے دور میں کوئٹہ جیسے شہر میں سوئی گیس پہنچائی گئی۔ اس ملک کے لیے جنرل ضیاء صاحب کے دور میں بہت کچھ ہوا ہے۔ ان کے دور میں امریکی سفیر کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ بلااجازت اپنی مرضی سے کہیں آجا سکے۔ ایک بار ایک امریکی سفیر نے اسلام آباد سے پشاور جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ ہماری انٹیلی جنس نے اسے روکا اور انہیں جنرل صاحب کا پیغام دیا کہ بہتر ہے کہ پروگرام بدلیں ورنہ پشاور سے سیدھا جلال آباد جائیں اور واپس اسلام آباد آنے کی زحمت نہ کریں۔ میں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک زخم کو اجاگر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا جنرل ضیاء الحق کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر کبھی پچھتاوا ہوا تھا؟ اس پر اعجاز الحق صاحب نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی ایک افسوس ناک واقعہ ہے لیکن اُس وقت کی حکومت نے عدلیہ کے حکم پر عمل درآمد کیا۔ اس میں کوئی ذاتی رنج والی بات نہیں تھی۔ بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ خود ان کے دور میں بنایا گیا تھا۔ جب قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی تو اس وقت بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے۔ وہ کوئی معمولی وزیراعظم نہیں تھے۔ نہایت طاقتور وزیراعظم تھے۔ اسی لیے انہوں نے ایف آئی آر کی پرواہ نہیں کی۔ جب یہ مقدمہ چلاتو بھٹو صاحب کو اپنی صفائی کا موقع ملا۔ ہائی کورٹ سے مقدمہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور نظرثانی کی اپیل بھی ہوئی۔ نظرثانی کی اپیل میں اُن تین ججوں نے بھی اپنی رائے تبدیل کی جنہوں نے انہیں بری کردیا تھا۔ پہلے تین چار کا فیصلہ تھا۔ تین ججوں نے بری کرنے اور چار نے سزا دینے کا حکم جاری کیا تھا مگر نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے بعد تو فیصلہ متفقہ آیا۔ یوں کہہ لیں کہ سپریم کورٹ کے فل بینچ کا متفقہ فیصلہ تھا۔ دیکھیں اس معاملے کو قانونی پہلوؤں سے دیکھا جانا چاہیے۔ میں نے گھما پھرا کر دوبارہ پچھلا سوال پوچھا کہ آپ نے اپنے والد جنرل ضیاء الحق کو ملکی سیاسی حالات کے حوالے سے سب سے زیادہ خوش اور سب سے زیادہ افسردہ کب دیکھا؟ اعجاز الحق صاحب بولے سچ کہوں تو بھٹو کی پھانسی پر ذاتی طور پر جنرل ضیاء صاحب کو افسردہ دیکھا اور ان کی خوشی اور اطمینان کے بہت سے واقعات ہیں لیکن انہیں جب بھی کسی حاجت مند کے کام آتے دیکھا تو انہیں خوش دیکھا۔ میں نے موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ چاہا کہ آپ کے خیال میں کیا پی ٹی آئی حکومت سلیکٹڈ ہے؟ اعجاز الحق صاحب جوش سے بولے جو سلیکٹڈ کہتے ہیں انہیں پوچھیں کہ سلیکٹڈ کے معنی کیا ہیں۔ جب وہ اس کے معنی بتا دیں گے تو اصل بات بھی سمجھ آجائے گی۔ ویسے تو اس سوال کے دو فریق ہیں۔ ایک حکومت اور دوسرا اسے سلیکٹڈ کہنے والے۔ میری نظر میں یہ منتخب حکومت ہے۔ میں نے جب اعجاز الحق صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ کو کبھی وزیراعظم بننے کی آفر ہوئی؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ جہاں تک میرے وزیراعظم بننے کی آفر کا تعلق ہے میں خود اس سوال کا جواب کیا دوں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں