76

فیک آئی ڈیز کے ذریعے کردار کشی/ ہمیں سوچنا ہوگا! تحریر: سردار عبدالرحمٰن ڈوگر ایڈووکیٹ

کمالیہ میں آجکل فیک آئی ڈیز کا راج ہے۔اس کے ذریعے ہر دوسرے شخص کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ان آئی ڈیز کی ہٹ لسٹ پر پہلے پہل تو صرف صحافی برادری تھی مگر اب سماجی شخصیات،وکلاء، تاجر،سیاست دان سمیت کوئی بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں۔فیس بک کھولیں تو ہرروز انتہائی غیر اخلاقی طریقوں کے ذریعے کسی نہ کسی شخص کی کردار کشی کی جارہی ہوتی ہے۔
میں چونکہ بیک وقت صحافت اور وکالت کے شعبہ سے منسلک ہوں تو اس وجہ سے لوگوں کی اکثریت مجھ سے سوال کرتی ہے! کہ آپ ان لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کرتے؟یہ کون لوگ ہیں اور کیوں اس طرح سرعام لوگوں کی پگڑھیاں اوچھال رہے ہیں؟کیا یہ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوسکتی؟ اس پر میں نے اپنے طور پر ان لوگوں کی تلاش شروع کی تو مجھ پر جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ یہ لوگ کوئی اور نہیں ہمارے ہی اردگرد موجود افراد ہیں ان سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو ہر شخص اپنی صفائی اور قسم دینے کیلئے تیار پایا جس پر مجھے ہنسی بھی آئی اور ایک گاؤں کا واقعہ بھی یاد آگیا واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ ایک دفعہ ایک گاؤں میں چوری ہوگی,چور باہر سے نہیں تھے گاؤں کے افراد میں سے ہی تھے جس پر گاؤں کے نمبردار نے فیصلہ کہ حلف نیاں کے طور پر ایک چادر پر قرآن مجید رکھ کر گاؤں کے افراد کو باوضوکرکے اس کے نیچے سے گزارہ جائے جو شخص نہیں گزرے گا وہی چور ہوگا۔پورا گاؤں چادر کے نیچے سے گزر گیا مگر چور نہ پکڑے گئے بعد میں پتہ چلا کہ چور کیسے پکڑے جاتے جن چار لوگوں نے چادر کو کونوں سے پکڑا ہوا تھا دراصل چور وہی لوگ تھے۔کچھ ایسی ہی صورتحال میں نے فیک آئی ڈیز کے حوالہ سے دیکھی اور محسوس کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے یا تو فیک آئی ڈی بنا رکھی ہے یا فیک آڈیز کے ایکسپرٹ سے رابطے بنا رکھے ہیں۔ مجھے یاد کہ ماضی میں جب سوشل میڈیا نہیں تھا اور صحافت کا شعبہ پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کی شکل میں چند مخصوص افراد تک محدود تھا تو اس وقت بھی صحافت کے شعبہ میں کچھ Black Sheeps موجود تھیں جو کاروباری افراد،سیاست دانوں اور لوگوں کو بلیک میل کرکے پیسے کماتے تھے۔ایک حد تک تو یہ سلسلہ قابل برداشت تھا مگر جب یہ لوگوں کو زیادہ تنگ کرتے تو کاروباری افراد،سیاست دانوں اور لوگوں نے زدر صحافت سے بچنے کیلئے تنگ آکر یہ طریقہ اپنا لیا کہ بڑے بڑے اداروں کو سفارش اور پیسے دے کر کسی اخبار یا چینل کی نمائندگی لے لیتے اور پھر پنجابی کے مقولہ کے مطابق”مجھاں مجھاں دیاں بھیناں بن جاندیاں“ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
دراصل یہیں سے صحافت کا زوال شروع ہوا،روپے پیسے کے بل بوتے پر من پسند،نااہل اور جرائم پیشہ افراد صحافت میں آگئے اداروں میں سے نمائندگی لینے کیلئے بولیاں لگنے لگیں جو آج تک لگ رہی ہیں اور صحافتی گروپوں کی مجبوری بن جاتی ہے کہ جو کوئی کسی اخبار یا چینل کی نمائندگی/کارڈ لیکر آئے اسے اپنے ساتھ شامل کریں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک تو اس پروفیشن میں کرپٹ اورغیر پیشہ ور لوگ آگئے دوسرا جو افراد صحافت میں پیسے نہیں لیتے تھے اور زرد صحافت نہیں کرتے تھے ان کا اس شعبہ میں رہنا مشکل ہوگیا لہذا صحافت سے منسلک ایسے افراد یا تو وہ صحافت سے کنارہ کش ہو گئے یا پھر انہیں بھی اخبارات کی ڈیمانڈ پوری کرنے کیلئے اشتہارات یا ڈونیشن کے نام پر مخصوص افراد کو پرموٹ کرنا پڑتا ہے۔جس پر انہیں بعض اوقات دوسروں کے ساتھ تنقید کانشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔قارئین کرام!سوشل میڈیا سماجی تعلقات اور معلومات کا بہترین زریعہ ہے اور اس کے آنے سے اگرچہ اظہار رائے کو آزادی ملی ہے ہر شخص ہر موضوع پر اپنا مافی الضمیر اور نقطہ نظر بیان کر سکتا ہے مگر اس کے غلط اور بے جا استعمال سے ہر کوئی تنگ بھی ہے۔اسلام ہمیں برائی کو ہاتھ اور زبان سے روکنے اور دل سے برا سمجھنے کا درس دیتا ہے مگر اس کا یہ حل نہیں کہ ہم آپس کے اختلافات نظریات اور عقائدکے پیش نظر فیک آئی ڈیز سے لوگوں کی کردار کشی کرنا اور پگڑیاں اوچھالنا شروع کردیں۔
ایک صورت حال یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ جب فیک آئی ڈیز کے ذریعے کسی کی کردار کشی ہوتی ہے تو وہ ایک حد تک تو اسے برداشت کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے اور اسکا کوئی قانونی یا اخلاقی حل نہیں نکلتا تو متاثرہ شخص بھی اپنے دل کی تسکین اور عزت نفس بھی فیک آئی ڈیز کا سہارہ لینا شروع کرلیتا ہے۔یا تو وہ خود فیک آئی ڈی بنا لیتا ہے یا فیک آئی ڈیز ایکسپرٹس کی خدمات حاصل کر لیتا ہے۔اور پھر ہوتا کیا ہے کہ کمالیہ اتنا بڑا شہر نہیں کہ لوگ اپنے مخالفین یا دشمنوں کو نہ جانتے ہوں پھر وہ جتنی مرضی قسمیں اٹھائیں۔حلف اور صفائیاں دیں فیک آئی ڈیز اور کردار کشی کا سلسلہ روکتا نہیں ہے اس سلسلہ میں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ موثر قانون سازی کرے۔گروپ کے ایڈمنز اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔کسی بھی ممبر کو گروپ میں شامل کرنے سے پہلے اسکی شناخت مانگیں۔گروپ میں غلط اور کردار کشی پر مبنی پوسٹوں کو فوری بلاک کرکے فیس بک کو رپورٹ کرنے کا آپشن استمال کریں۔ذمہ داری کا مظاہرہ کریں کسی بھی غیر ذمہ دار یا فیک آئی ڈیز کے مالک کو گروپ کا ایڈمن یا ممبر نہ بنائیں۔ کیونکہ اگر آپ کسی فیک آڈی کو اپنے گروپ کا ممبر بنا لیتے ہیں تو بالواسطہ طور پر آپ بھی اس کردار کشی کا جانے انجانے میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔اپنے اندر قوت برداشت پیدا کریں اپنے ذاتی اختلافات اور معاملات کو پریا پنچائیت اور آپس میں بیٹھ کر حل کریں فیس بک اور فیک آئی ڈیز کا سہارا لیکر اپنا اور دوسروں کا تماشہ نہ بنائیں۔ فیس بک کو صرف انٹرٹینمنٹ اور معلومات کا ذریعہ بنائیں اس پر لگنے والی کسی بھی خبر،بیان یا معلومات پر بغیر تصدیق یقین یا عمل نہ کریں۔صرف فیس بک کے دانشور نہ بنیں اپنے کردار، اخلاق اور اعمال کو عام زندگی میں بھی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔کسی پر بہتان باندھنے،الزام لگانے اور کردار کشی کرنے سے پہلے اس بات پر یقین رکھیں کہ ہمیں آخرت میں ہر عمل کا حساب اورجواب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں