94

دو آنے کے بُندے … تحریر: صغریٰ یامین

آزادی کے موقع پر لکھی گئی درد ناک تحریر
……………
“اماں! دو آنے کے بُندے دے دو۔” میرے دائیں جانب سے ننھی ارصع کی آواز آئی تو یکایک دوسری جانب سے گویا گالیوں کا فائر کھل گیا۔
“کھلو مرن جوگیے! ٹُٹ پینیے!،حرام زادیے!”

یہ تماشا ہر دوسرے دن شہر کے کسی نہ کسی چوک میں دیکھنے کو ملتا۔ “دو آنے کے بُندے” یہ جملہ اماں مریاں (مریم) کی چِڑ تھے۔ بچے انہیں دیکھ کر جوں ہی یہ لفظ کہتے تو جواباً اماں انہیں مغلظات کا تحفہ دیتیں۔ اس صورت حال سے بڑے چھوٹے سبھی محظوظ ہوتے۔

اماں مریاں ستر اسی سال کے پیٹے میں تھیں۔ بڑھاپے نے ان کی کمر میں خم دے دیا تھا، لہٰذا لاٹھی کے سہارے چلتی پھرتیں۔ ان کے سر کے بال، ابرو حتی کہ بھنویں تک برف کے گالوں کی مانند سفید ہو چکے تھے۔ ذہناً نیم پاگل سی لگتیں لیکن بول چال، رنگ ڈھنگ سے کسی اچھے گھرانے کی معلوم ہوتی تھیں۔ وہ کون تھیں؟ کہاں سے آئیں؟ ان کا خاندان، رشتے دار اور علاقہ کون سا تھا؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کا اپنا کوئی گھر نہیں تھا۔ کہیں سے دو لقمے ملے تو کھا لیے ورنہ بابو اقبال کی دکان کے تھڑے پر پڑی رہیں۔ سردی ہو یا گرمی، دھوپ ہو یا چھاؤں وہیں دکھائی دیتیں۔ کسی نے کپڑے پہنا دیے تو پہن لیے ورنہ مکھیاں بھنبھناتی رہتیں۔

آج جب ارصع نے انہیں تنگ کیا تو میں نے اس جملے کا پس منظر جاننے کی ٹھان لی۔ اماں کی پسندیدہ مٹھائی جلیبی خریدی اور ان کے پاس جا بیٹھی۔

“اماں! آپ کا پچھلا علاقہ کون سا ہے؟ میں نے ملائمت سے کہا تو انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا۔

” انبالہ” مختصر سا جواب دے کر وہ جلیبی کھانے میں مشغول ہو گئیں۔ میں اس کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ دو منٹ میں انہوں نے ساری مٹھائی چٹ کر ڈالی۔

” آپ کا کوئی بیٹا بیٹی نہیں تھی؟” میں نے گویا بم پھاڑ ڈالا۔ اماں مریاں کے آنسو ساون بھادوں کی طرح برسنے لگے۔ کچھ افاقہ ہوا تو بولیں:

“ہاں پتر! میری ایک ہی بیٹی تھی عفت!!! میرا شوہر فوت ہو گیا تھا لیکن انبالہ والے گھر میں ہمارا گزر بسر اچھا ہو رہا تھا۔ شوہر کی پینشن سے ہم ماں بیٹی نانِ روز و شب کا اہتمام اچھی طرح کر لیتیں۔ تقسیم پاکستان کے وقت میری بیٹی عفت اور میں اکیلے ہی نکل پڑی تھیں۔ احتیاطاً میں نے سبزی کاٹنے والی چھری ساتھ لے لی۔ عفت کو دو چیزوں سے بہت پیار تھا؛ اس کا پالتو طوطا اور اس کے سونے کے بُندے، جنہیں اس کے ماموں نے دو آنے میں بنا کر دیا تھا۔” بُندوں کا نام سنتے ہی میں سیدھی ہو کر بیٹھ گئی لیکن اماں کو اس لیے نہ ٹوکا مبادا وہ ناراض ہو کر کہانی ادھوری چھوڑ دیں۔ اماں مریاں نے بات جاری رکھی:

“طوطا تو اس نے گھر سے نکلتے ہی اڑا دیا کہ آزادی کا موسم ہے تجھے کیوں قید رکھوں؟ لیکن بُندے اس نے پہن رکھے تھے۔ وہ بار بار انہیں ہاتھ لگاتی اور کہتی اماں! ہم یہ بُندے پاکستان جاتے ہی بیچ دیں گے۔ پھر ان سے نیا طوطا خریدیں گے۔”

“ابھی پانچ کلومیٹر کا سفر طے کیا ہوگا کہ ہمیں ست سری اکال کا نعرہ سنائی دیا۔ میں جان گئی کہ انسانیت کے دشمن انسان نما بھیڑیے سر پر پہنچ گئے ہیں۔ مجھے اپنے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کی عزت بھی عزیز تھی۔ نگوڑی تھی ہی کتنے برس کی؟ محض تیرہ سال۔ ابھی تو اس کے کھیلنے کی عمر تھی۔ میں نے اپنی بچی کو اپنے سینے سے چمٹا لیا۔ ادھر پانچ گھڑ سوار، کرپانوں سے لیس برآمد ہوئے اور بچی کو اپنے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ میں ڈر گئی لیکن بچوں کی حفاظت کرنے والی ماں بپھری شیرنی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ میں نے اپنی عفت کو اپنے پیچھے کر لیا اور ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ ۔ ایک شخص اترا اور زور سے تھپڑ میرے چہرے پہ مارا۔ میں پلٹ کر گری، میرے منہ سے خون کا فوارہ چھوٹ پڑا۔ میں نے تیزی سے چھری نکالی اور اس کے ہاتھ پر ماری، اس اچانک حملے کی اسے توقع نہیں تھی۔ اس کی انگلی کٹ کر دور جا گری۔ اتنے میں دوسرا درندہ اترا، میری کنپٹی پر زور سے مکا مارا اور چھری مجھ سے چھین لی۔ میری آنکھیں چندھیا گئیں، سر چکرانے لگا۔ بس اتنا یاد ہے کہ ایک ظالم میری بچی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا۔ پھر بھی میں دہائی دیتی اس کے پیچھے بھاگی۔ ہاتھا پائی میں عفت کا ایک بُندا میرے ہاتھ میں آ گیا۔ اس کا کان چِر گیا۔ میں بے ہوش ہو کر گر گئی۔ ہوش آیا تو وہ ظالم میری عفت کو ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھین کر لے گئے تھے۔ اس کا وہ بندہ اب بھی میرے ہاتھ میں ہے۔”

اماں مریاں نے بایاں ہاتھ کھولا تو اس میں ایک سنہری بُندا دبا ہوا تھا۔

” میری عفت کی عفت تار تار ہو گئی۔ ہائے میری بچی!!! ہائے میری عفت تجھے کہاں سے ڈھونڈوں؟”

اماں مریاں پر غشی کا دورہ پڑ گیا اور میں جلدی جلدی وہاں سے اٹھ کر چلی آئی۔ بُندوں کا راز مجھ پر عیاں ہو چکا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں