Haseeb Ijaz Ashir

قفس میں رقص‘‘میں رقاص کہانیاں”  تحریر حسیب اعجاز عاشر

قفس میں رقص‘‘میں رقاص کہانیاں” تحریر حسیب اعجاز عاشر

ناسائی سے بات کا آغاز ہو تو میری یاداشت اتنی اچھی تو نہیں مگر جو دل میں گھر کرلیتے ہیں تو اُنکی ہر ادا ہر بات کسی نہ کسی بہانے یاد رہ ہی جاتی ہے ۔یہ10جون 2014کی بات ہے ،جب میں ایک آن لائن بلاگ پر طبع آزمائی میں مصروف تھا تو ’’زندگی اک سفر ہے‘‘ کے عنوان سے ایک دلکش تحریر مجھے موصول ہوئی یہ بڑے خوبصورت انداز میں لکھا گیا سات پیراگراف پر مشتمل ایک کالم تھا،نہیں !بلکہ ملتان سے اسلام آباد تک کا سفرنامہ تھا۔۔،نہیں ۔۔بلکہ یہ بھی نہیں۔۔ وہ ملک و قوم کی حالت زار پرایک محب وطن کا نوحہ تھا،اُس تحریر میں اُسکی حقیقت پسندی،صاف گوئی ،بے لاگ اندازِ بیان نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مجید احمد جائی کو یہ جان کو حیرت ہو گی کہ اُس کی وہ تحریر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے ۔ ۔بس تبھی سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا […]

ایک شام ۔۔ غازیوں اور شہیدوں کے نام: حسیب اعجاز عاشرؔ

ایک شام ۔۔ غازیوں اور شہیدوں کے نام: حسیب اعجاز عاشرؔ

چلتا ہے خنجر تو چلے میری رگوں پر                                                            
خودی بیچ کے اپنی میں کبھی جھک نہیں سکتا                                                            
مٹنے کو تو یہ دنیا بھی مٹ سکتی ہے لیکن                                                            
تاریخ کے اوراق سے میں مٹ نہیں سکتا    
چھ ستمبر۱۹۶۵ کو جذبہِ جہاد اور ایمانی قوت سے یک جان ہو کروطنِ عزیز پاکستان کی سالمیت اور قوم کے تحفظ کے لئے عظیم […]

اگست بے شمار وبے مثال قربانیوں کا مہینہ:  حسیب اعجاز عاشرؔ

اگست بے شمار وبے مثال قربانیوں کا مہینہ: حسیب اعجاز عاشرؔ

ماہ ِمحرم اسلام کی سربلندی کے لئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جبکہ ماہ ِ اگست میں بھی اس کرہ عرض پر اسلام کے نام پر لی گئی دوسری سلطنت خداداد پاکستان کے حصول اور بقاء و سلامتی کی خاطر بے مثال قربانیوں کی داستانیں دلوں کو گرما دینے والی ہیں۔ایک طرف چاہے ہم اگست میں آزادی کا جشن جتنے بھی جوش و خروش،جذبہ و جنون سے منا لیں مگر اِس آزادی کے حصول میں دی گئی لاکھوں قربانیوں کو کبھی بھی بھولایانہیں جاسکتا، ہجرت کی داستانیں اتنی دلخراش اور طویل ہیں کہ انہیں قرطاس و قلم کی زینت بنانا اِس ناچیز کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ماہ میں تحفظِ پاکستان کے خاطر نچھاور ہونے والیں محبانِ وطن کی جانیں یہ باور کراتیں ہیں کہ کوئی مائی کا لال اس وطن عزیز پر میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
چلیئے تاریخ کے اوراق پلٹتے […]

یہ زمین مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت : حسیب اعجاز عاشرؔ

یہ زمین مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت : حسیب اعجاز عاشرؔ

ایک بار پھر پرچم لہرائے جائیں گے،عمارتوں پے شاندارجگ مگ کرتے برقی قمقموں کے سہرے،گھروں میں جھنڈیاں اور سینوں پرجھنڈے سجائے جائیں گے۔پرئیڈ ہو گی اور بوٹوں کی دھمک سے تن بدن میں ایک نئا ولولہ ہلچل مچائے گا۔مزار قائد پے عقیدت کے گلدستے نچھاور ہونگے۔سیاسی قائدین کے حب الوطنی سے سرشار پیغامات اخبارات و خبروں کی زینت بنے گے۔بچوں کے’’جیوے جیوے پاکستان‘‘،’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘، ’’یہ وطن تمہارا ہے‘‘ جیسے گنگناتے خوبصورت ملی نغموں سے ہمارا سینا فخر سے تن جائے گا۔’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے لکھے بینر اُٹھائے اہلیان وطن گزرگاہوں پر دھمال ڈالیں گے ۔ڈھول بجے گے۔توپیں چلیں گی۔آتش بازیوں سے آسمان چمک اُٹھے گا۔رنگ برنگی خصوصی نشریات سے ٹی وی چنیلز دن بھر وطن سے محبت کا دم بھرتے نظر آئیں گے۔سوشل میڈیا پے بھی دلکش ڈیزان کئے ہوئے انفرادی اور اجتماعی مبارکبادوں کے پیغامات کا بھرپور تبادلہ چلتا رہے گا۔دعوتیں اُڑائیں جائیں گی۔مساجد میں […]

’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ایک ایمانی علامت : حسیب اعجاز عاشرؔ

’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ایک ایمانی علامت : حسیب اعجاز عاشرؔ

درس و تدریس ہو،رپورٹنگ ہو، کالم نویسی ہو، تبصرہ نگاری ہو،تجزیہ کاری ہو یا پھر شاعری ہی کیوں نہ ہو کامران غنی صباؔ نے ہر میدان میں جدیدیت اور انفرادیت کے زیرِاثر رہتے ہوئے بھرپور قابلِ رشک دادِ آفرین حاصل کی ہے۔میں کوئی تبصرہ نگار، نقاد یا کوئی تجزیہ کار تو نہیں اورشاعری کا شغف تو مجھے بس سننے یا پڑھنے کاہی ہے مگر کامران کی شاعری کے حوالے سے صرف اتنا ضرورکہونگا کہ اِ نکی شاعری میں گہری بصیرت، بالغ نظری،بے ساختگی ،حسن خیال کی معنی آفرینی، احساس کی نزاکت، معنویت، شفافیت، حلاوت، بلند آہنگی ، مسائل حیات کے احاطے، امیدوں کے روشن چراغ، درد مندی، انتہائی وسعت،رنج و مسرت کے علاوہ فلسفیانہ موشگافیوں، صوفیانہ روموز و نکات بھی ملتے ہیں۔مگر انکی لاجواب ایک شاہکار نظم ’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ کے مطالعے سے انکے پاکیزہ قلب و ذہن میں اتر کر انکی نکھرتی سوچ و فکر کو پرکھ کر […]

دعا سرا سر عبادت ہی عبادت : حسیب اعجاز عاشر

دعا سرا سر عبادت ہی عبادت : حسیب اعجاز عاشر

دعا مانگ لیا کرتو دوا سے پہلے
کوئی نہیں دیتا شفاء خدا سے پہلے
’’دُعا‘‘۔۔۔۔’’د ‘‘سے دل پاک ہو ،’’ع‘‘ سے عقیدہ پختہ ہو ،اورپھر’’ الف‘‘ سے اللہ، صرف اللہ اور بس اللہ ،سے رجوع کر لیا جائے تو سارے بیڑے پار لگ جائیں۔۔قول ہے کہ دعا دستک کی طرح ہے اور مسلسل دستک سے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔۔دعا سراسر عبادت ہی عبادت ہے۔دعا اظہار بندگی ہے۔دعا عبادات کا مغز ہے۔دعا انبیاء کی سنت ہے۔دعا مومن کا ہتھیار ہے۔دعائیں تقدیریں بدل دیتیں ہیں۔دعا دین کا ستون ۔دعا آسمان و زمین کا نور ہے۔یہ ایک فطریعمل ہے کہ مومن خوشحالی میں بارگاہِ الہی میں سجدہ شکر پیش کرتا ہے اور پریشانی میں بھی سب سے پہلے اپنے اللہ ہی کو یاد کرتاہے۔اُس سے ہم کلام ہوتا ہے۔گرگراتا ہے ۔روتا ہے۔اوراُسے ایسے منالیتا ہے جیسے ایک ننھا بچہ اپنی ماں سے کوئی اپنی ضرورت منوا لیتا ہے۔اور اللہ تعالی تو اپنے بندوں […]

کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا  : حسیب اعجاز عاشرؔ

کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا : حسیب اعجاز عاشرؔ

ایک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا                                                              
کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا                                                              
چندماہ قبل علم و ادب کے آفتاب کے آفتاب ایسے غروب ہوئے کہ ادبی دنیا پر چھایا غم کا اندھیرا مٹنے کو نہیں، انہیں قد آور معتبر ادبی شخصیات میں جناب ندافاضلی کی وفات نے بھی سینوں کو جلا کر رکھ دیا۔ ندافاضلی سے میر ی پہلی اور آخری ملاقات عالمی اُردو مشاعرے ابوظہبی میں ہوئی۔ انکی محبت،شفقت،عاجزی وانکساری،اخلاق،اخلاص کا ایسا سحراب تلک مجھ پر طاری ہے کہ ابوظہبی ایئرپورٹ پرآمدسے لیکر […]

advertise