Sayed Sardar Ahmad Pirzada

Vices of the western world

اب اُڑ جا رے پنچھی : تحریر سید امجد حسین بخاری

بخاری میری خاطر صرف ایک کش صرف ایک کش، تم اپنے دوست کی خاطر ایک کش نہیں لگاﺅ گے؟ یہ کلاس کی جانب سے کی جانے والی باربی کیو پارٹی میں میرے ایک بہت قریب دوست کے جملے تھے۔ ایک وقت کو میں نے سوچا کہ ایک کش لگانے میں کیا حرج ہے؟ کیا ہو جائے گا جو میں اپنے دوست کا دل رکھنے کے لئے ایک کش سگریٹ کا لے لوں ؟ لیکن پھر خیال آیا کہ یہ ایک کش ہی اس پرندے کی مانند ہوتا ہے جو اپنی پہلی اُڑان سے خوف زدہ ہوتا ہے مگر جوں ہی وہ اُڑنا شروع کرتا ہے تو اس کی پرواز بلند سے بلند تر ہوتی جاتی ہے۔ اکثر نوجوان اپنے دوستوں کی خاطر ہی نشے کی ابتدا ءکرتے ہیں اور یہ ابتدا رفتہ رفتہ ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں قریبی دوستوں ہی کی وجہ […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

نو برس پہلے سعودی سہارا، نو برس بعد قطری سہارا: سید سردار احمد پیر زادہ

ٹھیک آج ہی کے دن نواز شریف سات سالہ جبری جلاوطنی کو توڑ کر 25 نومبر 2007ء کو لاہور ایئرپورٹ اترے تھے۔ اس سے تقریباً ایک ماہ قبل بینظیر بھٹو خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آچکی تھیں۔ نواز شریف کی زبردستی وطن واپس آنے کی کوشش کو روکنے کے لئے پرویز مشرف نے پانچ دن پہلے یعنی 20 نومبر 2007ء کو سعودی عرب کا اچانک دورہ کیا جس میں انہوں نے سعودی حکام سے منت کی کہ وہ نواز شریف کو دس برس کی مدت ختم ہونے سے پہلے پاکستان واپس آنے سے روکیں۔ اس پر سعودی حکام نے پرویز مشرف کو روکھا سا جواب دیا کہ ”اگر ڈیموکریٹک سوشلسٹ وومن لیڈر بینظیر بھٹو کو واپس آنے کی اجازت مل سکتی ہے تو کنزرویٹو شریف کو بھی واپس آنے کی اجازت ہونی چاہئے“۔ نواز شریف کی یہ واپسی ایک نئے نواز شریف کی آمد تھی۔ ان کی سیاسی شخصیت […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

کلائیو نے الزامات کو ہی توہین سمجھ کر جان دے دی : سید سردار احمد پیرزادہ

پندرہویں صدی کے برطانیہ کے بادشاہ ہنری سیون کے زمانے سے ویلز برطانیہ کے قریب ایک امیر جاگیر قائم تھی۔ اس جاگیر کا نام کلائیو فیملی سٹیٹ تھا۔ اس جاگیر کے مالک خاندان کی عوامی اور سیاسی خدمات کی طویل ہسٹری تھی۔ ہنری بادشاہ کے خزانے کا نگران آئرش چانسلر بھی اسی خاندان سے تھا جبکہ سولہویں صدی میں بھی اس خاندان کے افراد برطانوی پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں اس جاگیر کا وارث رچرڈ کلائیو نامور وکیل بنا جس کی آمدنی لامحدود تھی۔ وہ اپنی آمدنی سے ریاست کے خزانے میں حصہ بھی ڈالتا۔ اس نے کئی برس پارلیمنٹ میں اپنے حلقے منٹگمری شائر کی نمائندگی بھی کی۔ اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام رابرٹ کلائیو رکھا گیا۔ وہ رچرڈ کلائیو کے تیرہ بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ نوعمری میں ہی رابرٹ کلائیو کے اپنے ہم عمروں سے لڑائی جھگڑے […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

ٹرمپ کی فتح ریجنل شناخت کی فتح ہے: سید سردار احمد پیر زادہ

ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍامریکہ کے نئے منتخب ہونے والے صدر ٹرمپ کی جیت کو ایک اَپ سیٹ کہا جارہا ہے لیکن یہ اَپ سیٹ نہیں ہے بلکہ امریکی انتخابات سے قبل ہونے والے سطحی تجزیؤں کے باعث یہ اَپ سیٹ لگتا ہے۔ امریکی ووٹروں کا حالیہ رجحان اُس تبدیلی کی طرف ایک اور قدم ہے جو دنیا میں بڑی تیزی سے آرہی ہے۔ اس تبدیلی کو تجزیہ نگار محسوس کرنے کی بجائے اَپ سیٹ کہنے لگے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز سے دنیا کو نظریاتی نعروں میں تقسیم کیا گیا جس میں سرمایہ کاری، کمیونزم اور مذہبی نعرے وغیرہ شامل تھے۔ اس کی وجہ کچھ بھی تھی لیکن یہ سب نعرے سرد جنگ کا ایندھن بنے۔ سرد جنگ کے ختم ہونے یعنی بیسویں صدی کے اختتام سے تھوڑا عرصہ پہلے گلوبلائزیشن کی بات کی جانے لگی۔ اس نظریئے کے تحت ریجنل شناخت اور ریجنل ثقافت وغیرہ کو مسترد کیا گیا۔ گویا پوری دنیا […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

کیا بھارت کولڈ وار کی ہسٹری دہرانا چاہتا ہے؟: سید سردار احمد پیر زادہ

انسانوں کی طرح جنگوں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔
انہی میں سے ایک ’’کولڈ وار‘‘ ہے جس کا ذکر سوویت یونین کے خاتمے سے پہلے بہت عام تھا۔ جونہی سوویت یونین ڈوبا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ کولڈ وار کا زمانہ بھی ختم ہوگیا۔ کولڈ وار کے خاتمے کی بات کرنے سے پہلے اس کے آغاز کی بات کرتے ہیں۔ اب سے ٹھیک سات سو برس قبل یعنی چودہویں صدی میں سپین کا ایک مشہور پرنس ’’ڈون جان مینوئل‘‘ ہوگزرا ہے۔ وہ اپنی بہت سی شادیوں کے انتخاب میں اپنی سیاسی اور معاشی ترقی کو ضرور مدنظر رکھتا تھا۔ اس کی شدید خواہش ہوتی کہ اس کی اولاد کا تعلق شاہی خاندانوں سے برقرار رہے۔ وہ اپنے وقت کا امیر ترین اورسب سے طاقتور پرنس بن گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے عہد کے بادشاہ کے مقابلے میں اپنی کرنسی بھی جاری کردی۔ ڈون جان کو لٹریچر کا بہت […]

ہمارے کالم نگار : پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی

جنرل مشرف نے کہا، محمد ضیاء الدین صاحب نے سناء: سید سردار احمد پیر زادہ

محترم نصرت جاوید صاحب نے 31 اگست 2016ء کو اپنے کالم ’’مشرف ایم کیو ایم…. ریکارڈ درست ہوگیا‘‘ میں جنرل مشرف کے ایم کیو ایم کو غدار کہنے والے بیان کا واقعہ تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پہلے کالم 25 اگست 2016ء میں لکھا تھا کہ جنرل مشرف کی ایم کیو ایم غدار ہے والی بات انہیں محترم محمد ضیاء الدین صاحب کے ذریعے پتہ چلی جو اُن کے خیال میں اُس افطار پارٹی میں بذاتِ خود موجود تھے لیکن اس ریکارڈ کی درستگی محترم سعود ساحر صاحب نے نصرت جاوید صاحب کو بھیجی گئی ای میل کے ذریعے کرنی چاہی۔ ’’سعود صاحب نے یاد دلایا کہ ضیاء الدین صاحب غالباً ان دنوں لندن میں تھے اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ انہوں نے مجھ سے فون پر بات کی اور اس بات کی تصدیق چاہی کہ کیاواقعی پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو غدار وطن کہا […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

سانحہ کوئٹہ کیا لے گیا اور کیا دے گیا؟: سید سردار احمد پیر زادہ

سِول ہسپتال کوئٹہ کا بم دھماکہ کیا لے گیا اور کیا دے گیا؟ اس کا سب سے اہم اور پہلا جواب یہی ہے کہ یہ دھماکہ 72 سے زائد قیمتی جانیں لے گیا۔ اس کے علاوہ یہ دردناک حادثہ ہم سے مزید بھی کچھ لے اور دے گیا ہے۔ آئیے تجزیہ کرتے ہیں۔ مولانا شیرانی اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسمبلی میں بولے ”قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے، مسلح تنظیمیں کس کی ہیں، بتایا جائے۔ اچھے اور برے طالبان کے کیا معنی؟ یہ کرائے کے قاتل ہیں۔ دشمن گھر کے اندر ہیں، دوسروں سے کیا گلہ کریں۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کیوں لیا جارہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ“ مولانا شیرانی کے بعد انہی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ”زبان پر ’را‘ کا لفظ آتے ہی بات ختم ہو جاتی ہے۔ ایجنسیاں کیوں بار بار رک جاتی ہیں اور ہم بری الذمہ ہو جاتے ہیں، اس طرح بری […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

کیا 12 مئی کی ذمہ داری افتخار محمد چوہدری پر بھی آتی ہے؟ : سید سردار احمد پیرزادہ

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے ایسے گورکھ دھندے دفن ہیں جن کی لرزہ خیزی سے انسانیت اور جمہوریت ہاتھ جوڑ کر پناہ مانگتی ہے۔ ایسے کرتوتوں کے بڑے سرغنوں میں ایک نام پرویز مشرف کا بھی ہے۔ یوں تو ان کے گلے میں انسانی اور جمہوری مظالم کے بہت سے طوق پڑے ہیں لیکن 12مئی 2007ء کو کراچی میں ہونے والی خونی ہولی ان کے ماتھے سے ہمیشہ خون ٹپکاتی رہے گی۔ بہت چھوٹے سے ذاتی مفاد کے لئے اس روز کراچی میں جو ہوا وہ دسمبر 1971ء کے مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ کی یاد دلا گیا جب مکتی باہنی اور بھارتی خفیہ ایجنٹوں نے ہر پاکستانی کا نشانہ لے کر ڈھاکہ کی سرسبز مٹی کو سرخ کردیا۔ وہاں کی پولیس اور سیکورٹی کے دوسرے ادارے موت بردار مکتی باہنیوں اور بھارتی ایجنٹوں کے سامنے ’’دروَٹے‘‘ خاموش رہے۔ وہاں کا ایئرپورٹ، ٹی وی سٹیشن، ریڈیو، عدلیہ کی عمارتیں، ریلوے […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

سوچو ذرا! عمران خان جیسا کوئی اور ہوتا تو کیا ہوتا؟ : سید سردار احمد پیرزادہ

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حیران کن حقیقت ہے کہ عمران خان کے ساتھ ایک ایسی خوش قسمتی جڑی ہوئی ہے جو کسی دوسرے سیاست دان کے پاس نہیں ہے۔ یعنی عمران خان جو بھی کرلیں یا کہہ دیں، معمولی تنقید وصول کرنے کے بعد پھر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ سب کچھ کوئی دوسرا سیاست دان کہہ دے یا کرلے تو وہ سیاست دان نہیں رہے گا، اُسے سیاست سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور میڈیا اُسے ماضی کا حصہ بنا دے گا لیکن عمران خان خم ٹھونکے وہیں کے وہیں موجود ہیں۔ آئیے چند مثالیں لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی حالیہ انتخابی مہم کے دوران ترکی میں ناکام فوجی بغاوت پر انہوں نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر پاکستان میں فوج آجائے تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے‘‘۔ یہ محض ایک بیان تھا یا اُن کی دلی آرزو، سب پر اچھی طرح عیاں […]

پاکستان کے پہلے نا بینا صحافی:  سید سردار احمد پیر زادہ

دھرنے کے لئے سڑک بند کرنے پر آرٹیکل6 لگایا جائے: سید سردار احمد پیرزادہ

اگر کوئی فرد اچھے آموں کے باغ سے تازہ آموں کی پیٹی گھر لے کر آئے، پیٹی کا ڈھکن کھلنے پر اوپر اوپر سے نظر آنے والے آم کہیں کہیں سے گلے سڑے ہوں تو گھر والے آموں کی اوپر کی تہہ ہٹاکر دوسری اور تیسری تہہ سے عمدہ آموں کی توقعات جوڑ لیتے ہیں لیکن تمام آم نکال لینے کے باوجود اگر حسبِ توقع خوش ذائقہ اچھے آم نہ مل سکیں تو گھر والے مایوسی کی کیفیت سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ آم اچھے باغ کے تھے، اچھی قیمت بھی ادا کی پھر بھی آم خراب نکلے۔ کیا یہ اُن کی قسمت تھی یا اِس کا تعلق پیٹی میں آم بھرنے والوں کی بددیانتی سے تھا؟ اس مثال کو ہم اپنے ملک کی جمہوریت سے جوڑتے ہیں۔ سیاست کرنے اور حکومت چلانے کے جدید نظریات میں جمہوریت کو بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے لیکن […]

advertise