142

جعلی ڈاکٹروں نے ایک عورت اور بچے کی جان لے لی

سندھیلیانوالی نئی آواز  ( افضال جٹ )۔

سند ھیلیا نوالی  میں جنگل کا قانون جعلی ڈاکٹروں نے ایک عورت اور اُس کے بچے کی جان لے لی ، جبمحکمہ ہلیتھ کا کردار تماشائی کی حد تک ، پنجاب حکومت ناکام ،
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں چک نمبر 747 گ ب کا رہائشی عبدالغفورولد اڈھا قوم بب اپنی بیوی کو چیک اَپ کے لئے ساجدہ نامی ایل ایچ وی کے پاس لے گیا ، ساجدہ مریضوں کو گھیر کر الشفا ہسپتال لے گئی.جہاں پر بورڈ، تو ڈاکٹر منیر اقبال نامی ڈاکٹر کا ہے۔ مگر یہ ڈاکٹر کسی قسم کا آپریشن کرنے سے عاری ہے۔ الشفا ہسپتال میں اقلیم بی بی زوجہ عبدالغفور کا آپریشن خالد ہسپتال کے عطائی خالد نے کر دیا۔ اقلیم بی بی کی دو جڑواں بیٹاں پیدا ہوئی ، آپریشن ٹھیک نہ ہونے وجہ سے اقلیم بی بی کی حالت غیر ہو گئی. اور عطائی ڈاکٹروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ انہوں نےمریضا کو پیرمحل بھیج کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی. افسوس ناک بات یہ ہے کہ اقلیم بی بی راستے میں ہی سسک سسک کر اللہ کو پیاری ہو گئی. پیدا ہونے والی دو بیٹوں میں ایک فوت ہو چکی ہے۔ اور ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انکوبیٹر پر ہے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ یہ عطائی ڈاکٹر پندرہ سے زیادہ عورتوں کی جان لے چکے ہیں۔ محکمہ صحت نے ان کو کھولی چھٹی دے رکھی ہے۔ جیسے مرضی عورتوں کو قتل کریں۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا کردار، بھی کاغذی کارروائی تک محدود ہے۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے اپیل ھے اِن عطائی ڈاکٹروں اور ایل ایچ ویزز کے ہسپتال بند کروائیں، محکمہ صحت میں جاب کرنے والے ڈاکٹر رحیم بھٹی اِن عطائی ڈاکٹروں کے سپوٹر ہیں۔ ڈاکٹر رحیم بھٹی اور منیر اقبال کا نام استعمال کرکے عطائی ڈاکٹر عورتوں کا قتل عام کر رہیں ہیں۔ میری محکمہ صحت کے ڈی ایچ اُو سے اپیل ہے۔ ان عطائی ہسپتالوں کو بند کیا جائے اور جو ڈاکٹر اِن کی مدد کر رہیں ہیں ۔ اُن کا لائسنس کینسل کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں