189

ٹوبہ ٹیک سنگھ اور پیر محل سے مکمل خبریں ۔۔۔ 18اگست 2016

پیرمحل نئی آواز( نامہ نگار ) گورنمنٹ ووکیشنل انسٹیوٹ پیرمحل کے تین طلبہ کی راہگیر لڑکی سے چھیڑ خانی لڑکی کے وارثان کی اپنے ساتھیوں کو بلاکر طلبہ کو پکڑنے کے لیے دیواریں پھلانگ کر کالج میں داخل ہوگئے ، کالج انتظامیہ کا دہشت گرد داخل ہونے کا شور اہل محلہ نے تین افراد کو پکڑکر دھنائی کرکے پولیس کے حوالے کردیا پولیس نے مک مکا کرکے معاملہ رفع دفع کروادیااہل محلہ کا احتجاج تفصیل کے مطابق ہاؤسنگ کالونی پیرمحل میں موجود گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ جس میں شام کی کلاس چل رہی تھی کہ شام کی کلاس کے تین طلبہ نے چک نمبر 662/3گ ب کی راہگیر لڑکی سے چھیڑ خانی اور فحش فقرہ بازی کی جس پر لڑکی ساتھ اس کے چچا نے فون کرکے اپنے حامیوں کو بلوالیا جنہوں نے طلبہ کا تعاقب کرتے ہوئے کالج میں داخل ہوگئے جس پر کالج میں موجود پرنسپل وقاص ،سینئر انسٹرکٹر راشد نصیر اور دیگر عملہ نے کالج میں دہشت گرد داخل ہونے کا شور مچادیا جس پر ہاؤسنگ کالونی کے مکینوں نے گھیر اڈال کر کالج میں داخل ہونے والے تین افراد کو پکڑ کر دھنائی کرکے تھانہ پیرمحل پولیس نے حوالے کردیا حقائق معلوم ہونے پر تھانہ پیرمحل پولیس نے مک مکاکے بعد معاملہ رفع دفع کروادیا جس پر اہل محلہ نے شدید احتجاج کیا یادرہے کہ اسی عمارت کے ملحقہ مکان میں دہشت گرد اور ایک عورت اور دوبچے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلہ میں ہلاک ہوچکے ہیں اہل محلہ نے اس واقعہ کو دہشت گردوں کی دوبارہ کوشش سمجھ کر اپنی جان پر کھیل کر دیواریں پھلانگ کر کالج میں داخل ہونے والے افراد کو پکڑا مگر پولیس نے بغیر کسی کاروائی کے چھوڑدیا

پیرمحل نئی آواز( نامہ نگار) ضلعی محکمہ شہری دفاع کے افسران کی عدم دلچسپی ضلع بھر میں شہری دفاع کے نوجوان غیر فعال ممکنہ سیلابی ریلے کے پیش نظر ضلع بھر میں شہری دفاع کے نوجوانوں کو وسائل فراہم کیے جائیں تفصیل کے مطابق حکومت کی طرف سے موجودہ دہشت گردی کے پیش نظر بڑے بڑے شہروں میں شہری دفاع کو فعال کرکے جدید آلات فراہم کیے گئے مگر چھوٹے شہروں میں فرسٹ ایڈ،فائیر فائٹنگ سیلابی ریلے کے پیش نظر اپنی حفاظت کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا کسی قسم کا انتظام نہ کیا گیا اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عملی ورکشاپ کا انعقاد نہ کرنے کے باعث زمانہ جنگ ہو یا امن بطور رضاکار شہری دفاع مادر وطن کی حفاظت سمیت تمام دیگر امور سے نبٹنے کی صلاحیت سے محروم ہے سابق ڈی سی او نوازش علی گورایہ نے اپنی ذاتی دلچسپی سے ضلع بھر میں سول ڈیفنس کی تنظیم کو فعال بناکر ضلع بھر کے رضاکاروں اور سرکاری ملازمین کو فضائی مظاہر ہ سمیت تیراکی کی ٹریننگ دلوائی تھی اور رضاکاروں کو یونیفارم سمیت دیگر سازوسامان مہیاکیاتھا تاکہ ممکنہ سیلاب اور دیگر آفات کے پیش نظر سول ڈیفنس کے نوجوان اپنی خدمات انجام دے سکیں ان کے تبادلہ کے بعد کسی بھی ڈی سی او نے دلچسپی نہ لی جس سے ضلعی محکمہ شہری دفاع کے افسران کی عدم دلچسپی سے سول ڈیفنس کا محکمہ سفید ہاتھی بن کر رہ گیا سماجی فلاحی حلقوں نے کمشنر فیصل آباد ، ڈی سی اوٹوبہ ٹیک سنگھ سے مطالبہ کیا کہ ممکنہ سیلابی ریلہ کے پیش نظر ضلع بھر میں سول ڈیفنس کو فعال بنایاجائے اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں کو فرسٹ ایڈ،فائیر فائٹنگ اورتیراکی کے آلات سازوسامان مہیا کیاجائے اپنی حفاظت کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی تربیت دی جائے
پیرمحل نئی آواز ( نامہ نگا ر) ملکی حالات عوامی انقلاب کی طرف جارہے ہیں ن لیگ کی حکومت عوام کو مسائل کے بھنور میں پھنسا کرامریکہ سرکار کو خوش کرنے میں مصروف ہے ۔ عوام محض چہروں کی نہیں بلکہ ملک میں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں موجودہ حالات میں بجلی کی قلت اورمہنگی بجلی کی فراہمی کے باعث مہنگائی آسمانوں سے باتیں کررہی آئی ایم ایف کے ناجائزاحکامات مان کر عوام کو خود کشیوں پر مجبور کیا جارہا ہے ۔عوامی انقلاب جلد آئے گااور عوام کرپٹ حکمرانوں کو بھاگنے نہیں دیں گے ان خیالات کا اظہار چوہدری احسان ننھا راہنما پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے کہا خوشحالی کی دعویدار حکومت پر ملک کے اٹھارہ کروڑعوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے‘ پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باوجود ‘ مہنگی بجلی کے باعث ملک کی ستر فیصد انڈسٹری کو نقصان پہنچ چکا ہے لاکھوں قربانیوں سے معرض وجود میں آنیوالا ملک مختلف النوع بحرانوں میں مبتلا ہوگیا ہے مہنگائی بے روز گاری ‘ غربت ‘دہشت گردی ن لیگ کی حکومت کے تحفے ہیں ۔ انہوں نے کہاہے کہ حکمران اس وقت تک عوام کاخون نچوڑتے رہیں گے جب تک عوام ان حکمرانوں کواقتدارکے ایوانوں سے باہرنہیں کردیتے
پیرمحل نئی آواز ( نامہ نگار ) بنک ریکارڈ اور اشٹام پر انگوٹھا نہ دستخط،،، حکومت پنجاب کا ای سسٹم کے ذریعے اشٹام جاری کرنے کا منصوبہ پیچیدگیوں کاشکار 32Aچالان فارم عام سائلین کی پہنچ سے دور،، بنک سے اشٹام جاری کروانے کا نظام آسان بنایاجائے سماجی حلقے تفصیل کے مطابق حکومت پنجاب نے جعل سازی سے بچنے کے لیے ای سسٹم کے ذریعے کمپیوٹرائز اشٹام کا پنجاب بنک کے ذریعے اجراء کیا ہے جس میں پنجاب بھر کا مرکز لاہور کور کھا گیا ہے ہر اشٹام خرید کرنے والے کو 32Aچالان فارم جوکہ عام صارف کی سمجھ سے بالاتر ہے جو دوپرت پر مشتمل ہونے کے باعث عام کمپیوٹر کی دکان سے پرت بنوانے پر 200روپے صارف کو اداکرنے پڑتے ہیں اس چالان فارم کے بعد مخصوص ٹائم میں بنک سے اشٹام دستیاب ہوتے ہیں بیع نامہ کا اشٹام مالیت 1200روپے لینے کے لیے ایک عام صارف کا 200روپے اضافی خرچ ہوتا ہے حالانکہ پنجاب حکومت کو ای سسٹم کا منصوبہ شرو ع کرتے وقت متعلقہ بنک سے ہی فری چالان فارم کی پالیسی متعارف کروانا چاہیے تھی مگر جان بوجھ کر عام صارف کو 32Aچالان فارم جس پر کوئی بھی شخص کسی شخص کے شناختی کارڈ کے نام کا اندراج کرکے بنک کے عملہ سے ساز باز ہوکر جعل سازی کرسکتا ہے ای سسٹم کے ذریعے جاری کیے گئے اشٹام کا ماسوائے بنک کے کسی بھی جگہ کوئی ریکارڈ نہیں علاوہ ازیں اشٹام پر نام اندراج کے علاوہ دستخط یا نشان انگوٹھا نہ ہونے کے باعث ای سسٹم کے ذریعے حاصل کیے گئے اشٹام ہائے پر مستقبل میں سخت قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے سمیت کروڑوں روپے کی جائیدادیں مقدمات کی نذر ہونے کا خدشہ ہے کارباروی سماجی فلاحی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور ای سسٹم کی مجاز اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ بنک سے اشٹام کے اجرا ء میں قانونی پیچیدگیوں کو دور کرتے ہوئے فی الفور چالان فارم کو آسان بنایا جائے اور متعلقہ بنک میں مفت سہولت فراہم کی جائے تاکہ حکومت کا ای سسٹم کے ذریعے بنک سے اشٹام جاری کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوسکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں