آج کل سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹر محمد عامر زیر بحث

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سپاٹ فکسنگ کے الزام میں سزا یافتہ پاکستانی کرکٹر محمد عامر آج کل سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث ہیں انکو ٹیم میں شامل کرانے کے لیے ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی چلایا گیا ہے۔
’محمد عامر کو واپس لائیں گے‘ عنوان سے ٹاپ ٹرینڈ میں مختلف لوگ محمد عامر کو کرکٹ ٹیم میں واپس لانے کے لیے ٹویٹس کر رہے ہیں۔
منیب احمد نے ٹویٹ کی کہ ’گذشتہ روز محمد عامر نے 140 کلومیٹر کی رفتار سے تسلسل کے ساتھ بالنگ کی، تو جلنے والے جلیں گے۔‘
احتشام وڑائچ نے لکھا کہ ’دوسرے لوگ یعنی بنگالی انھیں خوشی سے قبول کر رہے ہیں اور ہم پاکستانی یہ بات لے کر بیٹھے ہیں کہ اس نے قوم کو دھوکہ دیا ہے۔‘
بھارتی کرکٹر سنجے منجریکر نے محمد عامر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’عامر غیرمعمولی کلائی کے مالک فاسٹ بولر ہیں، یہ ایک ایسی چیز ہے جو ان کے علاوہ وسیم اور وقار کو بھی عطا ہوئی تھی۔ سب کچھ ایک جانب، یہ لڑکا محمد عامر بالنگ کرنا جانتا ہے۔‘
فرید علی نے محمد حفیظ کی جانب سے محمد عامر کو واپس کھلائے جانے کے اعتراض پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’محمد عامر نے اپنے آپ کو ثابت کیا ہے۔ حفیظ کا اپنی کارکردگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

فائل فوٹو

فائل فوٹو


پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد حفیظ نے بنگلہ دیشی پریمیئر لیگ میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے
امین خان نے لکھا ’کہ محمد عامر زبردست کھلاڑی ہیں،‘ جبکہ اسد نے کہا: ’عامر نے اپنی سزا پوری کر لی ہے اور اب وہ اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے لیے کامیابی کی علامت بن سکتے ہیں۔‘
عامر سہیل نے لکھا کہ ’عامر کو اپنے آپ کو ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔‘ جبکہ اشتیاق احمد کا خیال تھا کہ ’توبہ کرنے کے لیے دیر کبھی نہیں ہوتی۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے محمد عامر کی موجودہ کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔
شہریار خان کا کہنا تھا کہ محمد عامر کو آئندہ ٹیم میں لانے پر غور ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ محمد عامر کو سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ بٹھا کر سمجھایا جائے گا کہ اگر آپ ٹیم میں واپس آتے ہیں تو آپ کے رویے میں انکساری ہونی چاہیے کیونکہ لوگ آپ کے رویے کو دیکھیں گے۔

Leave a Reply to Anonymous Cancel

Your email address will not be published.

advertise