وقت کے حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا

1

دربار کھچا کھچ درباریوں سے بھرا ہوا تھا بادشاہ سلامت اکثر سیروسیاحت پر رہتے اور طویل عرصے کے بعد رو افروز ہوئےتھے درباریوں اور خوشامدیوں نے بادشاہ کے حق میں نعرے بلند کئے درباری ، بھانڈ اور مسخرے اپنی باتوں اور حرکتوں سے بادشاہ کا دل خوش کرنے کی کوشش کر رہے تھے آپکو لگتا ہو گا کہ میں شائد شاہی سلطنت پاکستان کے مغل بادشاہ میاں محمد نواز شریف کے دربار عالیہ المعروف قومی اسمبلی پاکستا ن کی بات کر رہا ہو کیونکہ کل قومی اسمبلی میں جو ہوا وہ اسی کی عکاسی کرتا ہے لیکن یہ کہانی تو پرانے وقت کے کسی بادشاہ کی ہے ۔
جب یہ سب مسخرہ پن ختم ہوا تو ایک باغی نوجوان کو دربار میں پیش کیا گیا اور فرد جرم عائد کی گئی کہ یہ رعایا کو ریاست کے خلاف بھڑکا رہا ہے اور انکے دل میں نفرت پیدا کر رہا ہے کھلم کھلا لوگوں سے کہتا ہے کہ ریاست پر نا اہل اور نکھٹو بادشاہ رائج ہے جس نے اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے اپنے سے بھی نااہل اور کرپٹ لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے جو ملک کا بیڑا غرق کر رہے ہیں نا اہلوں کا ٹولہ محض سازشوں سے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کر رہا ہے بادشاہ سیروسیاحت میں مصروف رہتے ہیں لوگوں کو بھانڈوں اور مسخروں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے ریاست کی فوج دشمن کی بجائے اپنے ہی لوگوں کو کچل رہی ہے اور عوام کی حالت غلامی سے بھی بد تر ہے۔
بادشاہ کی آنکھوں میں غضب تھا لیکن اس نے پھر بھی باغی نوجوان کو صفائی کا موقع دیا نوجوان نے جواب دیا۔
آپ عظیم و شان محلات میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں، سیروتفریح سے آپکو فرصت نہیں، جھلساتی گرمی میں مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں، کسان اتنی محنت سے ہل چلاتا ہے جیسے ہی فصل تیار ہوتی ہے آپکے لوگ اٹھا کر لے جاتے ہیں ،دن رات محنت کرنے والی رعایا کو تو کچھ میسر نہیں ،فوج ریاست کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے لیکن یہ تو آپ کے درباریوں کی حفاظت میں لگی ہوئی ہے ،عوام سے لوٹی ہوئی دولت سے آپ محلات تعمیر کروا رہے ہیں اس دولت کو اپنے ملکی خزانے کی بجائے دشمن ملکوں کے خزانوں میں جمع کروا رہے ہیں ۔
بادشاہ نے آس پاس نظر دوڑائی تو احساس ہوا کہ وہ چور اور ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے جو اپنی ہی کمزور رعایا کو لوٹ کر کھا رہے ہیں اور ان پر مظالم ڈھا رہیے ہیں اور اسکے دل میں نرمی پیدا ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے اسے احساس ہوا کہ اگر اس نے فیصلہ درباریوں کے خلاف دیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کو اسکا تخت بھی جاتا رہا کیونکہ وہ لوگ اسے اس لئے اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ لوگوں پر مظالم اور لو ٹ کھسوٹ میں انکا ساتھ دیتا ہے لہذا بادشاہ نے حکم صادر کیا کہ اسکو گھوڑوں کے پیچھے باندھ کر ریاست میں گھسیٹا جائے اسکی موت نشان عبرت ہو گی تا کہ کوئی دوسرا بغاوت کی ہمت نہ کرے۔
نوجوان نے مسکراتے ہو ئے کہا کہ
میرے جسم سے گرنے والا ہر قطرہ کچلی ہوئی رعایا کے لئے نئی زندگی لائے گا فوج بھی اس وقت مظبوط ہوتی ہے جب عوام ان کے ساتھ ہو اگر لشکر ریاست کو بچا سکتے تو دنیا کی بڑی ریاستیں جن کے پاس بڑے بڑے لشکر تھے کبھی نہ ٹوٹتیں ، آپ کے بعد آپکی اولاد کی حکمرانی کے لئے یہ ریاست نہیں ہو گی اور وہ بھی ہمارے جیسے عام لوگ ہو گے صبح شام ذلت اور رسوائی انکا مقدر ہو گا اور آپکو موت کا خوف ہو گا رعایا تو موت کے ڈر سے آزاد ہو چکی ہے لیکن آپ لوگ موت کے خوف سے آزاد نہیں ہو سکتے اسکی وجہ آپ کے گناہ اور نا انصافی ہے خدا ہر چیز معاف کر دیتا ہے لیکن ظلم اور نا انصافی کبھی معاف نہیں کرتا۔
اگر اس پورے قصے کو دیکھا جائے تو یہ عین وہی منظر کشی کرتا ہے جو کل ہم نے قومی اسمبلی میں دیکھا لیکن اس کے اختتام پر ایک فرق نظر آتا ہے کہ پاکستان کی رعایا باغی عمران خان کی طرف دیکھ رہی تھی کہ وہ باغی جو انکو کہتا ہے کہ بادشاہ عوام کے لوٹے ہوئے پیسے سے اپنی اور خاندان کی جائیدادیں بنا رہا ہے منی لانڈرنگ کر کے پیسہ ملک سے بیرون ملک اور دشمن ملک بھی بیجھا جا رہا ہے وزیر اعظم کے ارد گرد نا اہل اور درباری لوگ جمع ہیں جو لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں پولیس شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے انتقامی کار وائی کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو باغی کہتا ہے کہ کسانوں کو تبا ہ برباد کر دیا گیا ہے وہی رعایا کل انکی طرف دیکھ رہی تھی کہ آج وقت کے حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنے کا وقت آگیا ہے اور وہ باغی جو باتیں انھیں کر کے اکساتا ہےوہ آج بھرے دربار میں بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلا کسی خوف کے ان سے کرے گا لیکن رعایا تو دیکھتی ہی رہ گئی جب انھوں نے باغی کو خاموشی سے اسمبلی سے باہر آتے دیکھا ۔
دنیا کے کسی بھی معاشرے میں جب تک حکومت اور اپوزیشن کا وجود نہ ہو وہ جمہوری معاشرہ نہیں کہلوا سکتا کیونکہ جمہوریت کے سب سے بڑے دو ستون یہی ہوتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے اور ریاست کے اور بھی اہم ستون ہوتے ہیں لیکن یہ دو ایسے ہیں کہ اگر ان میں ایک بھی نہ ہو تو جمہوریت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔حکومتوں کا کام عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا اور اپوزیشن کا کام حکومتی غلطیوں کی نشاندہی کرنا انصاف ، احتساب اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہو تا ہے۔
درحقیقت جمہوریت کی روح اپو زیشن ہی ہوتی ہے اور حکومت سے زیادہ ذمہ داری تو اپوزیشن جماعتوں پر عائد ہوتی ہے یہ اسی طرح ہے کہ جب تک لوگوں کو اپنے حقوق کی آگاہی نہ ہو تو وہ ان کا تحفظ کیا کرے گے عین اسی طرح اپوزیشن بھی آج اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھنے میں نہ صرف ناکام ہوئی ہے بلکہ راہ فرار اختیار کی گئی ہے۔جس کا اذالا پورا کرنا شائد بہت مشکل ہی نہیں شائد نا ممکن بھی ہو۔ وزیر اعظم صاحب نے جو قومی اسمبلی میں خطاب کیا وہ کسی بھی طرح سے اپوزیشن ، میڈیا ، سول سوسائٹی یا لوگوں کے لئے باعث اطمینان نہیں تھا اور لوگ اپوزیشن بالخصوص عمران خان کی طرف دیکھ رہے تھے وزیراعظم اور حکومت آج بڑی مشکلات میں تھی اور اپوزیشن جماعتوں کے پاس بڑا سنہری موقع تھا کہ حکومت کو ریت مار سے رگڑا لگاتے اور جھوٹ اور منافقت کی چادر تلے چھپے سچ کو عوام کے سامنے پیش کرتے وزیر اعظم کی تقریر کا بھر پور طریقے سے جواب دیتے اور بار بار ان سے پوچھے گئے سوالات کا جواب پوچھتے تاکہ پاکستانی عوام کے سامنے جواب نہ دینے پر نواز شریف کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا عمران خان سے لوگوں کو ہمیشہ کی طرح بڑی امیدیں وابستہ تھی لیکن خان صاحب نے بھی اپنی روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح لوگوں کو مایوس ہی کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں