ٹکٹوں کی تقسیم تحریک انصاف پر ہر بار بھاری

facebooktwittergoogle_pluslinkedinrssyoutubeinstagramby feather

image

کمالیہ ( نئی آواز ) تحصیل کمالیہ کے حلقہ پی پی 89  کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 89 میں ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے جس میں مسلم لیگ ن نے یوسف رضا گیلانی کے بھانجے پیر علی بابا کو ٹکٹ دے دی ہے جو کہ سابقہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے اور بلدیاتی انتخابات میں علی بابا گروپ کے نام سے آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا ۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر علی بابا

مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر علی بابا

دوسری طرف تبدیلی کی جماعت میں عین موقع پر آکر اپنا امیدوار ہی بدل دیا جس سے حلقہ کے لوگوں میں بے چینی سی پھیل گئی ہے ۔

تحریک انصاف ہیومین رائیٹس کمیشن کے چیرمین اور سابقہ ممبر قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے ایک دن پہلے ہی پی ٹی آئی کا ٹکٹ سید علی رضا شاہ کی بیٹی سیدہ سونیا علی رضا شاہ کو دینے کا اعلان کیا تھا یاد رہے کہ اس حلقہ سے سید علی رضا شاہ ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور انکی وفات کے بعد اس حلقہ میں ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے ۔

ریاض فتیانہ نے سونیا علی رضا شاہ کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا

ریاض فتیانہ نے سونیا علی رضا شاہ کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا

لیکن صورت حال ایک دم تبدیل ہو گئی جب سابقہ ضلع ناظم چوہدری اشفاق نے جمعرات کے روز پاکستان ہاکی کے اولمپئین رانا شفیق خان کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دے دیا جس سے اچانک حلقہ میں بے چینی کی لہر دوڑنے لگی ہے ۔ جس پر ریاض فتیانہ نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آسانی سے الیکشن جیت رہے تھے لیکن ٹکٹ ملنے والا امیدوار تیسرے نمبر پر آئے گا انھوں نے مزید کہا کہ میں نے ورکرز کے ساتھ مل کر دن رات انتھک محنت کی لیکن ٹکٹ دینے سے پہلے مجھ سے پوچھا بھی نہیں گیا انکا کہنا تھا کہ میں اس حلقے سے متعدد بار منتخب ہو چکا ہوں اس لئے اسطرح کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ چوہدری اشفاق کو میرے حلقے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی پارٹی کی بہتری اسی میں ہے کہ انکو اپنے حلقہ تک محدود کیا جائے ۔

image

واضح رہے کہ ماضی میں ریاض فتیانہ اور چوہدری اشفاق کے درمیان تعلقات کافی شدید رہے ہیں اور یہ مخالفت کئی سالوں سے چلی آرہی تھی لیکن فتیانہ کی تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد زیادہ تر دونوں کو اکٹھا دیکھا گیا جس پر کہا جا رہا تھا کہ آپس کے اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور جماعت کی بہتری کے لئے دونوں مل کر کام کر رہے ہیں

share

Share to Google Plus
Share to MyWorld

Leave a Reply

Your email address will not be published.