786

مشرف کو جانا تھا وہ چلا گیا: تحریر محمد اعظم عظیم

اَب کیا لکیر پٹنے سے فائدہ .؟پی پی پی تحمل کا مظاہرہ کرے
آج نہیں تو کل ، اُس طرح نہ صحیح اِس طرح ہی صحیح ، سابق صدرجنرل (ر) مشروف کو تو جاناہی تھا مگر آج جب وہ کسی کی مصالحت پسندی کے تحت باہرچلے ہی گئے ہیں تو اَب کیا لکیر پٹنے سے کوئی فائدہ ہے؟؟ چھوڑو یار…!! اور بھی بہت سے کام ہیں جو ابھی حکومت اور اپوزیشن کو مل کرمُلک اور قوم کی بہتری کے لئے کرنے ہیں،اَب ایسے میں آج جہاں ایک طرف جنرل (ر) پرویز مشرف کے باہر جانے پر شورشرابہ کرنے والے اپناوقت بھی ضائع کررہے ہیں تووہیں دوسری جانب اپوزیشن کی جماعتیں قوم کو بھی طرح طرح کے مخمصوں اور الجھنوں میں مبتلاکررہی ہیں۔

جبکہ اِس منظر اور پس منظر میں دیکھاجائے تو ابھی مشرف کو گئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں؟؟ اورویسے بھی ابھی پرویز مشرف کی وطن واپس آنے کی چار سے چھ ہفتے کی مہلت بھی تو ختم نہیں ہوئی ہے کہ اپوزیشن نے قبل ازوقت اپناسیاسی قد اُونچاکرنے کے لئے ایسے ایسے ڈھونگ رچانے شروع کردیئے ہیں کہ اَب بے صبرے اور عقل سے پیدل اپوزیشن والوں کی حرکتوں اور احتجاجوں کو دیکھ کر اوراِن کی جانب سے جاری ہونے والے پُھس پُھسے بیانات کو پڑھ کر ہنسی بھی نہیں رکتی ہے، بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی کے توکیا کہنے ہیں؟؟ جس کی قیادت اِن دِنوں شدید کنفیوژن کا شکار ہے، جو کبھی اسٹیپلشمنٹ کی سخت مخالف دِکھائی دیتی ہے تو کہیں یہ اسٹیپلشمنٹ کی سب سے بڑی حامی اور اِس کے جھوم جھوم کر قصیدے پڑھتی نظرآتی ہے۔

مگرآج پی پی پی کیوں سابق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے باہرجانے پرواویلا کررہی ہے؟؟ اَب یہ بات ہر خاص و عام پاکستانی شہری کی سمجھ سے بالاتر ہے ،آج بھی ہر پاکستانی کو یاد ہے کہ پہلے تو اِسی پی پی پی نے مشرف کوگارڈآف آنر پیش کرکے باہر جانے کا محفوظ راستہ دیاتھا پھر اِسی پاکستان پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں پرویز مشرف چار بار مُلک سے باہر گئے تھے مگر آج ہرپاکستانی یہ سوال کررہاہے کہ آج اگر اِسی مشرف کو ایک بار نواز لیگ نے بھی باہر جانے کی اجازت دے دی ہے تو پھرکیوں پی پی پی والوں کے پیٹ /شکم میں سخت ترین مروڑ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ اُٹھ کھڑاہواہے؟۔

اَب ایسے میں ایک لمحے کے لئے پی پی پی والوں کو یہ ضرور سوچناچاہئے اور اپنے کئے پر افسوس بھی ضرور کرناچاہئے کہ یہ پرویزمشرف کے جانے پر جہاں بھر میں ڈھنڈورا کیوں؟؟ اور کس لئے پیٹ رہے ہیں؟؟ اِنہوں نے پہلے جو کام کیا تھاآ ج وہی کام تو ن لیگ کی حکومت نے بھی کیا ہے؟؟ اَب اِس پر بھلے سے پی پی پی والے یہ سوچیں یا نہ سوچیں؟؟ مگرآج پاکستانی قوم یہ ضرور سوچ اور سمجھ رہی ہے کہ آج جیسے پی پی پی مشرف کے باہر جانے پر واویلاکرکے اپنی سُبکی مٹانے اور ماضی کے پچھتاوے کو چھپانے اور اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مشرف کے باہر علا ج کرانے کے لئے جانے پر احتجاج کررہی ہے۔

ویسے اگر یہاں غور کیا جائے تو بات توکچھ بھی نہیں ہے، مگر پھر بھی یہ بڑے افسوس کامقام ہے کہ ایسالگتاہے کہ جیسے حکومت سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کو باہر بھجواکرخود بھی پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے فضول کے احتجاجوں کی وجہ سے دباؤ میں آرہی ہے،حالانکہ آج اِسے اپنے فیصلے پر ڈٹ جاناچاہئے تھامگر پتہ نہیں کیوں؟؟یہ اپنے کئے گئے فیصلے پر خود ہی ڈگمگارہی ہے یہ نکتہ کچھ سمجھ نہیں آرہاہے؟؟ آج دس بارہ دن گزرجانے کے بعد بھی حکومت کا اپنے فیصلے پر ڈرے سہمے رہنااور اپوزیشن کے دباؤمیں رہناکیا اِس بات کا ثبوت ہے کہ ایک طرف حکومت اپنی فرینڈلی اپوزیشن پی پی پی کو بھی ناراض نہیں رکھناچاہتی ہے اوراِسے پی پی پی کو جداکرنابھی گورانہیں ہے ؟؟ تووہیں حکومت اُ س طاقت کو بھی خوش رکھناچاہتی ہے جس کے کل بھی جنرل (ر) پرویز مشرف تھے اور آج بھی اُس کے ہیں۔

جبکہ پچھلے کچھ دِنوں سے مرغے کی ایک ٹانگ کی ضد پر آڑی پاکستان پیپلز پارٹی نے جیسے جنرل (ر) پرویز مشرف کے باہر جانے کے معاملے کو اپنی ناک اور اَنا کا مسئلہ بنالیاہے،آج تب ہی یہ اپنی ساری ذمہ داریاں چھوڑچھاڑ کرمشرف کے معاملے کو فٹ بال کی طرح اُچھال اُچھال کر اپنی سیاسی اسکورنگ اور درجات کو بڑھارہی ہے اِسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دِنوں پاکستان پیپلزپارٹی والوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف(بیچارے جو پہلے ہی مرجھائے اور ڈرے ہوئے سہمے سہمے سے تھے) کی موجودگی سے بھرپورفائدہ اُٹھاتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون مُلک جانے کی اجازت دینے کے معاملے پر حکومت کو( گُدی سے دپوچ کر) آڑے ہاتھوں لیااور کھلم کھلاحکومت کی آئین شکنی پر سینہ زور اور سرپھوڑ انداز سے سخت افسوس کا اظہارکیااور سر پر خاک ڈالتے اور سینہ کوبی کرنے والے انداز سے گلے پھاڑ پھاڑ کر یہ کہتے ہوئے کہ ’’ حکومت کے بعض اقدامات نے نہ صرف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مابین ٹکراؤ کی فضا ء بنادی ہے، بلکہ اپوزیشن کو بھی حکومت کے خلاف قدم اُٹھانے پر مجبور کردیاہے‘‘ ایوان کی چار دیوالی کے درمیان چیختے چلاتے رہے۔

تاہم اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ نے موقع پر فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے مخصوص انداز سے اپنے گنجے سر پرہاتھ پھیرتے ہوئے کئی انکشافات کئے اور کہاکہ’’مانتاہوں کہ پیپلزپارٹی کے دور میں بھی پرویز مشرف 4باربیرون ملک گئے مگر سائیں، ہم اور ہماری حکومت کمزور تھی(چلیں یہ تو کسی پی پی پی والے نے تسلیم کیا) لیکن آپ تو شیر تھے آپ کے ہاتھوں سے وہ کیسے بھاگ گیا؟؟‘‘ (شاہ صاحب، جب مشرف آپ کے ’’ تیر ‘‘ سے چار مرتبہ بچ سکتاہے تو آج آپ کی نظر میں اُس کا چار مرتبہ بچ جانا کوئی بات نہیں ہے؟؟ اور اگر آج ’’ شیر‘‘ جو پہلے ہی بہت سی مُلکی اور عالمی اُلجھنوں اور پریشانیوں اور مسائل میں مبتلاہے، اِن دِنوں اِس کے شکار کوئی اور ہیں آج اگر اِس موقع پر مشرف ’’ شیر ‘‘ سے بچ نکلاتو کون سی ایسی غلطی شیر سے ہوگئی ہے؟؟ شاہ صاحب ،آج جس کی پہلی ہی غلطی پر آپ نے بیچارے شیر کو آڑے ہاتھوں لے لیاہے، ارے سائیں ، اِس موقع پر تو آپ لوگوں کو اپناموازانہ بھی کرناچاہئے تھااور یہ دیکھناچاہئے تھاکہ آپ سے کوئی ایک دونہیں بلکہ چار بارغلطیاں ہوئی ہیں اور بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج آپ نے شیر کو ایک غلطی پر ہی دپوچ لیاہے)’’خورشید شاہ نے مزید کہاکہ’’پرویز مشرف نے تو دبئی کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی سگار پیناشروع کردیا، نواز لیگ اِس پر عوام کو کیاجواب دے گی؟؟ جبکہ مشرف کا وکیلِ خاص بھی کہہ رہاہے کہ ڈیل ہوئی ہے‘‘آج حکومت اِس اپوزیشن جس میں خود لاکھوں چھید ہیں کیا اِس کی ایسی بے مقصد کی باتیں اور طنز اِسی طرح سُنتی رہے گی اور شرمندہ ہوتی رہے گی؟؟ یا اُسے کچھ جواب دے کر اُس کی زبان بند بھی کرے گی؟؟ اگرچہ ، اپوزیشن کی ایسی بے مقصد باتوں اور بیجاتنقیدوں اور زبردستی کے احتجاجوں سے عوام کے دما غ میں جنم لینے والے سوال کا جواب وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ہمت کرکے کچھ یوں دیاہے کہ’’سابق صدر سے واپس آنے کی کوئی ضمانت نہیں لی ‘‘ہماری تو پٹیشن یہی تھی سابق صدر باہرگئے تو واپس نہیں آئیں گے، پیپلزپارٹی کو اتناہی دُکھ ہے تومقدمے میں فریق بن جاتی،سابق صدر کی صحت سے کوئی لینادینانہیں ، خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو آزاد آدمی قرار دیاتھاعدالت نے کہاتو مشرف کو انٹرپول کے ذریعے لائیں گے،‘‘یقینا اَب اُمید ہے کہ چوہدری صاحب کے اِس اتنے کہے کے بعد پی پی پی خاموش ہوجائے گی اور اَب مشرف کے باہر جانے کے معاملے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے نہیں اُچھالے گی جتناکہ یہ اَب تک اُچھالتی آئی ہے۔(ختم شُد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں