None Of Your Business

image
اس نے پلائو کی فرمائش کی۔ بیگم نے کہا آپ اچھا سا گوشت لے آئییِِ، میں پکا دیتی ہوں۔ میاں لے آیا۔ بیگم نے پکانا شروع کر دیا۔
کچھ ہی دیگر گزری تھی کہ میاں باورچی خانے میں آیا۔ لُونکی سے دھنیا اور نمک نکال کر بیگم کو دیا کہ یہ بھی پلائو میں ڈالنا ہو گا۔ بیگم نے تعجب سے دیکھا تاہم خاموش رہی۔ پھر پوچھنے لگا پیاز کتنے ڈالو گی؟ گھی ڈال دیا ہے یا نہیں؟ یخنی کہاں ہے؟ بیگم نے ایک ہولناک تیوری اپنے ماتھے پر ٹانکی اور ڈانٹ کر کہا، آپ نکلیں باورچی خانے سے۔ آپ کو پلائو چاہیے نا؟ پسند نہ آیا تو گلہ کیجیے گا لیکن میرے کام میں مداخلت نہ کیجیے۔ اگر بیوی انگریز ہوتی تو ایک ہی فقرہ کہتی:
It is none of your dirty Business
معلوم نہیں گائودی میاں کو بات سمجھ میں آئی یا نہیں۔ گمان غالب یہ ہے کہ وہ چپ کر کے باورچی خانے سے نکل گیا ہو گا۔ مگر یہ سادہ سا نکتہ ہمارے حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔
آج پاکستان جس حال کو پہنچا ہوا ہے، جس کھائی میں گرا ہوا ہے اور قوموں کی برادری میں جس عبرت ناک مقام پر کھڑا ہے، اس کا اصل سبب جاننا ہو تو صرف یہ دیکھ لیجیے کہ جمعہ کے دن وزیر اعظم آفس اور دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کے درمیان کیا آنکھ مچولی کھیلی جاتی رہی۔
اس سے پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ ایک منتخب نمائندے کی کارکردگی اور نوکر شاہی کے ایک رکن کی کارکردگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کی مزید وضاحت تحصیل حاصل ہو گی۔ منتخب میئر کو ترقیاتی ادارے کے چیئرمین کا قلم دان سونپا گیا۔ اس کے بعد اسے کام کرنے دیا جائے گا تو وہ کچھ کر کے دکھا سکے گا۔ کسی دوسرے محکمے سے ادھار پر مانگے گئے ایک افسر کی مدت تمام ہو چکی تھی۔ ترقیاتی ادارے نے بہت پہلے توسیع کا مطالبہ کیا۔ وفاقی حکومت نے توسیع کا حکم نامہ جاری نہ کیا۔ میئر نے اسے ادارے سے فارغ کر دیا۔ یہ میئر کا اختیار تھا اور بات بھی منطقی تھی کیونکہ توسیع کے احکامات تھے ہی نہیںٖ!
وزیر اعظم کے دفتر نے مداخلت کی۔ فارغ کیا گیا افسر، تین چار گھنٹوں کے اندر، وفاقی حکومت سے اپنا توسیع نامہ لے کر آگیا۔
یہ ہے وہ مذاق جو اس ملک میں عرصہ سے چل رہا ہے۔ یہ مائیکرو لیول کی مداخلت، یہ House-Keeping یہ نمک اور دھنیا نکال کر پکانے والی کو ہدایت نامہ جاری کرنا، صرف اِسی حکومت پر موقوف نہیں۔ حسبِ توفیق یہ ظلم ہر حکومت نے کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے جو دو دن پہلے نیویارک میں گھڑی خریدتے پائے گئے، وفاقی حکومت میں ایک ڈائرکٹر جنرل اپنی مرضی سے لگایا حالانکہ یہ وزارتِ تعلیم کا کام تھا۔ پھر دوست نوازی کی ساری حدیں پار کر کے اسے پانچ بار توسیع دی۔ یہاں صوبے میں کسی کو پولیس کا سربراہ لگایا جاتا ہے۔ پھر اسے کہا جاتا ہے فلاں کو تھانیدار لگائو۔ فلاں کو فلاں تھانہ دو۔ فلاں ایس پی کو فارغ کرو۔ سربراہ صاحب کا سارا ولولہ، سارا پلان، حسرت و یاس کی نذر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ڈنگ پٹائو کام کرتا ہے۔ وقت پورا کرتا ہے۔ دفتر میں بیٹھ کر مکھیاں مارتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے کام میں توہین انگیز مداخلت کی جا رہی ہوتی ہے۔ عقل کا تقاضا ہے آپ پولیس کے صوبائی سربراہ کو صرف اتنا بتائیے کہ صوبے میں امن و امان قائم ہو، ڈاکو اور چور پکڑے جائیں۔ پھر اسے کام کرنے دیجیے۔ وہ جسے چاہے جہاں لگائے یا وہاں سے ہٹائے۔ آپ سال بعد، یا چھ ماہ بعد نتائج کا جائزہ لیجیے۔ اس کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہو تو گلہ کیجیے، سرزنش کیجیے، سزا دیجیے مگر خدا کے لیے اس کے کام میں لُچ نہ تلیں۔
یہی ظلم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ ہو رہا ہے اور ہر حکومت کرتی رہی ہے۔ ایک عام قاری کی اطلاع کے لیے یہ بتانا مناسب ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وفاقی حکومت کا وہ ادارہ ہے جو پوری بیورو کریسی کا انچارج ہے۔ پولیس، ڈپٹی کمشنر، سب کی ترقیاں وہاں سے ہوتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہی فیصلہ کرتا ہے کہ فلاں پولیس افسر یا فلاں انتظامیہ کا افسر صوبہ سندھ میں یا پنجاب میں یا کے پی یا بلوچستان میں تعینات ہو گا۔ مہذب ملکوں میں ایسے ادارے ہر اہلکار کا کیریئر چارٹ تعمیر کرتے ہیں۔ یعنی یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہ اتنا عرصہ ضلع میں رہے گا، اتنا عرصہ وفاق میں رہے گا تا کہ ہر شعبے کا، ہر قسم کا تجربہ حاصل ہوتا رہے۔ مگر آج تک یہ ڈویژن ڈاکخانہ بنا رہا۔ وزیر اعظم کے دفتر سے ناقابلِ بیان حد تک مداخلت کی جاتی ہے۔ کون سی منصوبہ بندی اور کون سا کیریئر چارٹ؟؟ اِن دنوں سید طاہر شہباز اس ڈویژن کے سیکرٹری ہیں۔ نیک نام، دیانت دار اور حد درجہ محنتی شخص۔ فرض کیجیے طاہر شہباز ایک منظم طریقے سے ترقیوں اور تعیناتیوں کی منصوبہ بندی شروع کرتے ہیں۔ ہر شخص کی کیریئر پلاننگ کرتے ہیں۔ کمپیوٹر پر کلک کرنے سے انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مسٹر الف چار سال سے صوبے میں کام کرتا رہا ہے۔ اب اسے وفاق میں آ کر اتنا ہی عرصہ خدمات سرانجام دینی چاہئیں۔ آپ کا کیا خیال ہے، شاہ صاحب کو یہ کام آزادی سے کرنے دیا جائے گا؟ نا ممکن! مداخلت جاری رہے گی۔ صوبائی حکمرانوں نے اسمبلی کے ممبروں کو خوش کرنا ہے۔ اگر ایم این اے کہتا ہے کہ اِس ایس پی کو دیانت داری کا ہیضہ ہے، یہ مجھے نہیں منظور تو کیا صوبائی حکمران ایم این اے کو کہے گا کہ It is none of your dirty business ، نہیں۔ ہرگز نہیں۔ مکروہ مفادات آڑے آئیں گے۔ دیانت دار افسر کو صوبے سے فارغ کر کے وفاق کا راستہ دکھایا جائے گا کہ جائو، میکے جائو۔ شاہ صاحب کی ساری کیریئر پلاننگ دھری کی دھری رہ جائے گی!
وزیر اعظم نے ترقیاتی ادارہ منتخب میئر کی تحویل میں دیا۔ خوش آئند اقدام ہے۔ انقلابی تبدیلی ہے۔ مگر اب خدا را اسے کام کرنے دیجیے۔ وزیر اعظم کے دفتر میں جو ازکار رفتہ ریٹائرڈ حضرات بیٹھے ہیں وہ ماضی میں رہ رہے ہیں۔ منتخب میئر ان کے لیے ایک انوکھی چیز ہے۔ وہ ایسی لکڑیاں ہیں جو فروختنی ہیں نہ سوختنی! عین ممکن ہے کہ میئر نے جن صاحب کو فارغ کیا ہے، وہ لائق ہوں، دیانت دار ہوں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ادارے کے سربراہ کو بے بس کر کے رکھ دیا جائے اور اس کی پوزیشن خراب کی جائے۔
منتخب سربراہ اور نوکرشاہی کے درمیان فرق کو سمجھنا ہو تو جمہوریت اور مارشل لاء کے درمیان جو تفاوت ہے، اُس پر نظر ڈالیے۔ اِن کالموں میں بارہا ماتم کیا جا چکا ہے کہ ضلعی ناظم، ڈپٹی کمشنر یا ڈی سی او سے ہزار درجے بہتر تھے۔ انہوں نے ووٹروں کو بھی منہ دکھانا تھا اور مخالفین کو بھی! میئر اگر ترقیاتی ادارے کا سربراہ بنایا گیا ہے تو اس نے بھی کل ووٹ حاصل کرنے ہیں۔ وہ عوام میں سے ہے۔ اس کا زاویۂ نظر ہی اور ہے۔ بیورو کریسی کے رکن کے سامنے صرف اپنی تعیناتی اور اپنا کیریئر ہے۔ میئر کچھ کر کے دکھائے گا تو سروخرو ہو گا۔ نوکرشاہی کا رکن کچھ بھی نہیں کرے گا تب بھی ترقی کا حقدار ٹھہرے گا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کالم نگار کا تعارف، ملاقات، میئر سے ہے نہ نوکرشاہی کے ہٹائے گئے رکن سے۔ تعارف یا ملاقات کا امکان ہے نہ خواہش! ؎
اک شخص بادشہ ہے تو اک شخص ہے وزیر
دونوں نہیں ہیں گویا ہماری قبیل سے
ملک اس طرح نہیں چلتے کہ کسی ایک شہر، کسی ایک علاقے، کسی ایک برادری، کسی ایک سیاسی جماعت کے وابستگان کو میرٹ پر ترجیح دی جائے۔ پی آئی اے کا حال سب کے سامنے ہے۔ جیالوں کے گروہوں کے گروہ در آتے رہے۔ پھر متوالے اپنی باری لیتے رہے، آج ایئر لائن اُن ایئر لائنوں کے پاسنگ بھی نہیں جن کو اس نے گودوں کھلایا تھا۔
فوج میں جو شعبہ ترقیاں اور تعیناتیاں کرتا ہے اسے ملٹری سیکرٹری برانچ کہا جاتا ہے۔ اس کا سارا نظام کمپیوٹر میں نصب ہے۔ ایک ترتیب ہے جس سے سلسلہ چل رہا ہے۔ شاید ہی چوٹی سے مداخلت ہوتی ہو۔ کم و بیش ہر افسر کو معلوم ہے کہ اس نے اپنے موجودہ عہدے پر کتنا عرصہ رہنا ہے۔ کمانڈ اور سٹاف اسامیاں توازن سے دی جاتی ہیں۔ بجا کہ فوج اور سول کے درمیان مکمل مشابہت ممکن نہیں، مگر کچھ تو سیکھا جا سکتا ہے۔
حضور! پلائو پکانے دیجیے۔ باورچی خانے میں منہ نہ ماریے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں