خیبر پختونخواہ نے وفاقی حکومت اور قطری شہزادوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا

Facebooktwittergoogle_pluslinkedinrssyoutubeinstagramby feather

خیبر پختونخوا میں تلور کے شکار پر پابندی کے بعد صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کی درخواست کے باوجود قطری شہزادوں کو نایاب پرندے کے شکار کی اجازت نہ دی ۔%d8%aa%d8%a7%d9%84%db%81%db%81%d8%b1
پشاور نئی آواز ( نامہ نگار ) تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے کے پی کے حکومت  سے درخواست کی گئی تھی کہ کچھ عرصہ کےلیے تلور کے شکار پر پابندی ہٹائی جائے لیکن حکومت نے اس نایاب پرندے کے نسل کو بچانے کی خاطر یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔
تر جمان وزیر اعلی ہاوس نے نئی آواز کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال صوبے میں 15 جنوری سے لے کر 15 فروری تک تلور کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے اور اس دوران شکاری باقاعدہ لائسنس لے کر شکار کرتے ہیں تاہم اس سال حکومت نے شکار پر پابندی نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ، واضح رہے کہ  آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد جنگلی حیات کا محکمہ صوبائی حکومت کے ماتحت آتا ہے لہٰذا صوبہ  اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کر ساکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تلور نایاب پرندہ ہے جو دوسرے علاقوں سے یہاں آتا ہے جبکہ غیر قانونی شکار کے باعث اس کی نسل ختم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے اس پرندے کے نسل کو معدومی سے بچانے کی خاطر یہ فیصلہ عمل میں لایا گیا ہے۔
ےاد رہے کہ  تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی گذشتہ روز  ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے بات کریں گے کہ صوبے میں تلور کے شکار کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ یہ تحفظ یافتہ پرندہ ہے اور اس کا شکار کرنا غیر قانونی ہے۔

553 total views, 2 views today

share

Share to Google Plus
Share to MyWorld
[Total: 0    Average: 0/5]

Leave a Reply

Your email address will not be published.

advertise