دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشن ’’رد الفساد‘ ‘ تحریر:اختر سردار چودھری،کسووال

Facebooktwittergoogle_pluslinkedinrssyoutubeinstagramby feather

akhtar-sardar-chارض پاک میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری دہشت گردی کی کاروائیوں میں سو سے زائدافراد کی شہادتوں کے بعد منگل کو پاک فوج نے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن ’’رد الفساد‘ ‘ کے نام سے ملک بھر شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔جبکہ پنجاب میں رینجرز کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔
آپریشن ’’رد الفساد‘ ‘ کا اعلان اس وقت ہوا ہے جب ملک میں ضربِ عضب کے نام سے پہلے ہی ایک آپریشن جاری ہے۔ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن ضربِ عضب کا دائرہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ’رد الفساد‘ کا مقصد ملک میں دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ کرنا ہے۔ملکی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے۔
آپریشن ’’رد الفساد‘ ‘ کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ، بحریہ، سول فورسز اور دیگر سکیورٹی ادارے بھی حصہ لیں گے۔جبکہ پنجاب میں 60روز کے لئے رینجرز بھی تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔تاکہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے ختم کیا جاسکے۔
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پنجاب میں رینجرز کو اختیارات دینے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی زیر قیادت بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر خان جنجوعہ کے علاوہ وفاق اور پنجاب کے متعلقہ اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے ابتدائی طور پر رینجرز کو 60 روز کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت یہ اختیارات دیئے گئے ہیں۔لیکن پنجاب حکومت کے عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ اس مدت میں اس وقت تک توسیع کی جاتی رہے گی، جب تک رینجرز کی صوبے میں ضرورت ہو گی۔
ملک میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد صوبہ پنجاب میں سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ’ ’ایپکس کمیٹی ‘ ‘ کے ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں رینجرز کو بلایا جائے۔واضح رہے کہ سلامتی کی صورت حال پر نظر رکھنے اور اس بارے میں اقدامات کے لیے چاروں صوبوں میں ’’ایپکس کمیٹیاں ‘ ‘ قائم ہیں جن میں وزیراعلیٰ اور کور کمانڈز سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہوتے ہیں۔
وفاقی کابینہ نے پاک فوج کی جانب سے آپریشن کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل پنجاب میں رینجرز کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں پولیس کی معاونت کے اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کوششوں کا مقصد ملک کو اسلحے سے پاک کرنا اور آتشیں مادے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہے۔
افواج پاکستان ماضی میں بھی ملک کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز کرتی رہی ہے۔سال 2007 ء میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں آپریشن راہ حق کا آغاز ہوا تھا جبکہ وادی کے بڑے علاقے پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد سنہ 2009 ء میں اسی علاقے میں آپریشن راہ راست کیا گیا تھا۔اس آپریشن کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے ملک کے دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کی تھی۔قبائلی علاقہ جات کی بات کی جائے توسال 2008 میں باجوڑ ایجنسی میں آپریشن شیر دل کا آغاز کیا گیا تھا جبکہ سال 2009 ء کے آپریشن راہِ راست میں جنوبی وزیرستان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ خیبر ایجنسی میں بھی گذشتہ کافی عرصے سے شدت پسندوں کے خلاف فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان آپریشنز کو خیبر ون، ٹو اور تھری کا نام دیا گیا ہے۔2014 ء میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے چند ماہ بعد پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا ۔
اس 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا گیا تاہم دو برس گزر جانے کے باوجود سیاسی جماعتوں اور فوجی قیادت کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔سیکورٹی فورسز کی جانب میں ملک میں گذشتہ برس سے کومبنگ آپریشنز بھی کیے جا رہے ہیں جن میں ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کی گئیں اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
اس وقت پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ پہلے سے جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابی و کامرانی کے بعدپوری قوم آپریشن ’’رد الفساد‘ ‘کی کامیابی کے لئے بھی دعا گو ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کے خلاف پر عزم اور سرگرم ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھر پور اقدامات کررہے ہیں۔آپریشن کا مقصد ملک بھر سے دہشت گردی ختم کرنا اور سرحدوں کو اور مزید محفوظ بنانا ہے۔ آپریشن ’’رد الفساد‘ ‘کے ساتھ ساتھ سیاسی عزم اور منظم حکمت عملی سے ہی کامیابی حاصل ہوگی۔
اللہ پاک تمام شہدا ء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں ،زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت و تندرستی عطا فرمائیں ،وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرما ئیں ، امن و سلامتی قائم فرما ئیں ۔ آمین

280 total views, 1 views today

share

Share to Google Plus
Share to MyWorld
[Total: 0    Average: 0/5]

Leave a Reply

Your email address will not be published.

advertise