203

امریکی صدر نے ملا اختر منصور کو ’’مسٹر منصور‘‘ کیوں کہا؟: سید سردار احمد پیر زادہ

image

افغان طالبان کے لیڈر ملا اختر منصور کی ہلاکت ایک بڑی خبر تھی لیکن یہ کیسے ہوا؟ کس کے لئے ہوا؟ کس نے مدد کی؟ کس کو پہلے سے پتہ تھا؟ اور کس کو بعد میں پتہ چلا جیسے اہم معاملات ابھی تک خبر بننے کی بجائے ایک راز ہی ہیں۔ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے پیچھے چھپے اِن رازوں سے پردہ اٹھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہی وہ معاملات ہیں جن کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ سامنے نہ آنے والے انہی خفیہ معاملات کے حوالے سے کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں جن کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ ملا اختر منصور پر حملے سے پہلے امریکہ نے اپنے ٹارگٹس کو ہلاک کرنے کا ہمیشہ یہ جواز دیا کہ ’’جو امریکی مفادات اور امریکہ کے خلاف کاروائی کرے گا، امریکہ اُس کے خلاف کاروائی کرے گا‘‘ لیکن ملا اختر منصور پر حالیہ حملے کے بعد اپنی کاروائی پر جواز پیش کرنے کا امریکی لہجہ وسیع ہے۔ یعنی باراک اوباما نے کہا کہ ’’جو امریکہ اور اس کی اتحادی فورسز پر حملہ آور ہوگا اُس کو امریکہ ختم کرے گا‘‘۔ انہوں نے اس بات کو مزید پھیلایا کہ ’’جو کوئی بھی اقوامِ عالم کے لئے خطرہ ہوگا، امریکہ اُس سے نمٹے گا‘‘۔ امریکہ کی اس بات سے اور کوئی فائدہ اٹھائے نہ اٹھائے بھارت ضرور فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ بھارت افغانستان میں امریکہ کا فوجی اتحادی نہ سہی اِس خطے میں امریکہ کا قریبی عزیز ضرور ہے اور بھارت کا پہلا ہدف پاکستان ہے۔ اقوامِ عالم کے لئے خطرہ بننے والے کسی بھی خطرے کو کاؤنٹر کرنے والی حالیہ امریکی پالیسی نہ جانے سب کے لئے پالیسی شفٹ ہے یا صرف پاکستان کو کاؤنٹر کرنے کے لئے یہ شفٹ کی گئی ہے۔ ملا اختر منصور مبینہ طور پر ایران سے آرہے تھے اور اُن کا ایران آنا جانا پہلے سے موجود تھا۔ کیا یہ سوچا جاسکتا ہے کہ ایران نے ملا اختر منصور کی مخبری کی ہو یا ایران کے کندھے پر بندوق رکھ کے بھارت نے چلائی ہو؟ اگر ایسا ہے تو اس سے بھارت کئی فائدے اٹھا سکتا ہے۔ مثلاً ایران اور پاکستان کے درمیان پہلے سے ٹھنڈے تعلقات مزید خراب کرنا، ایران اور طالبان کے درمیان دشمنی بڑھانا اور افغان حکومت کا ہدف مروا کر افغانستان پر دوستی کا احسان جتلانا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ عرصے قبل پاکستان نے بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پکڑا۔ اُس کی گرفتاری کے حوالے سے بعض مبینہ خبریں یہ تھیں کہ اس بھارتی جاسوس کو طالبان نے پکڑکر پاکستان کے حوالے کیا۔ ملا اختر منصور کی مبینہ ہلاکت کے بعد یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ملا اختر منصور نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرنے میں کوئی مرکزی کردار ادا کیا تھا اور کیا ملا اختر منصور کو بھارت نے امریکہ کے ذریعے اس کے کئے کی سزا دلوائی؟ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں کیا سِول ملٹری ریلیشن میں بگاڑ آسکتا ہے؟ تواس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر سٹریٹیجک معاملات براہِ راست سٹیبلشمنٹ ڈیل کرتی ہے۔ اسی لئے ملا اختر منصور پر حملے کے حوالے سے سِول ملٹری ریلیشن میں فوری کھنچاؤ آنے کا امکان کم ہے۔ البتہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں فریقین کے درمیان تناؤ کا امکان ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سِول حکومت زیادہ جمہوری بننے کی کوشش کرسکتی ہے اور سٹیبلشمنٹ اپنے سٹریٹیجک مفادات کے تحت کام کرے گی۔ مثلاً آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں ڈرون حملے کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس نوعیت کے حملے دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے نقصان دہ ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کاوشیں، قربانیاں اور کامیابیاں غیرمتزلزل ہیں، ایسے حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف اور امن عمل کے لئے نقصان دہ ہیں‘‘۔ کچھ ایسی ہی بات وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں آئی ایس پی آر کی مذکورہ پریس ریلیز سے ایک دن پہلے کی تھی۔ چوہدری نثار سِول حکومت کے سِول وزیر داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات کو اپنی سیاست پر بالاتر رکھتے ہیں۔ بہرحال اس معاملے پر جنرل راحیل کی تشویش امریکہ کے لئے ضرور غور طلب ہوگی۔ پاک آرمی کے سربراہ کا بیان صرف بیان نہیں بلکہ کچھ اہم حقائق کی بنیاد پر ایک ثبوت ہوتا ہے۔ پاک آرمی کے پاس وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو بھارت کی کسی بھی چالاک سٹریٹیجک حرکت کو سمجھ سکتی ہیں اور کاؤنٹر کرسکتی ہیں۔ انگریزی بول چال میں کسی مرد کے نام کے ساتھ مسٹر کا لفظ لگانا مہذب پن کی نشانی ہوتی ہے لیکن اگر کسی شخص کے لئے نفرت کا اظہار کرنا ہوتو اس کے نام کے ساتھ مسٹر نہیں لگایا جاتا۔ اس کی بڑی تاریخی مثال جرمن ڈکٹیٹر ’’ہٹلر‘‘ کی دی جاسکتی ہے۔ جب بھی انگریزی بولنے والے کسی ملک کا کوئی بھی سربراہ یا اہم لیڈر ہٹلر کا نام لے گا تو اس کے ساتھ مسٹر کا لفظ نہیں لگائے گا۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ہٹلر قابل نفرت شخصیت تھی۔ اسی طرح جب امریکہ کی خصوصی فورس نے مئی 2011ء میں اسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان میں سیکرٹ آپریشن کیا اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی اطلاع امریکی صدر باراک اوباما نے اُس وقت میڈیا پر دی تو انہوں نے اپنی مختصر تقریر کے دوران پانچ مرتبہ اسامہ بن لادن کا نام لیا مگر ایک دفعہ بھی نام سے پہلے مسٹر نہیں لگایا۔ گزشتہ دنوں جب مبینہ امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور ہلاک ہوئے تو ان کی ہلاکت کی تصدیق بھی امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی مختصر تقریر میں کی لیکن حیرانگی کی بات یہ تھی کہ امریکی صدر اوباما نے جب بھی ملا اختر منصور کا نام لیا تو نام کے ساتھ مسٹر لگاکر انہیں ’’مسٹر منصور‘‘ کہا۔ امریکی نفسیات اور تاریخی پس منظر کے مطابق امریکی اپنے دشمنوں کو کبھی بھی مسٹر کہہ کر نہیں پکارتے تو پھر ملا اختر منصور کو ’’مسٹر منصور‘‘ کیوں کہا گیا؟ امریکی صدر کی اتنی اہم تقریر میں کیا یہ ٹائپنگ کی غلطی تھی؟ کیا ملا اختر منصور امریکہ کا براہ راست دشمن نہیں تھا؟ کیا امریکہ نے ملا اختر منصور کو مارکر اس خطے میں اپنے کسی عزیز دوست کو راضی کیا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں