موجودہ صورتحال

image

 

ہر بار لکھنے سے پہلے سوچتا ہو ں کہ اس بار کچھ اچھا لکھوں گا جس میں کو ئی ہنسی خو شی کی بات ہوکسی مثبت پہلوکو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے لیکن بندہ کرے بھی تو کیا کرےجب آپ کے چہرے پر اداسی ،آنکھو ں میں نمی ،ذہن میں پریشانی اور دل میں درد بھرا ہو تو پھر نہ تو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آتی ہے اور نہ ہی آنکھو ں میں خوشی کی چمک ایسے میں آپ کو وجودہ صورتحال کے بارے میں ہی لکھنا پڑتا ہت اور پھر ہم پر ہمارے حکمرانوں کی کچھ خاص کر م نوازی ہے کہ معاملات بھی اتنے الجھے ہو ئے ہیں کہ آپ کو روزانہ د یکھنا پڑتا ہے کہ کس موضوع پر لکھا جائے ایک طرف تو لوگ سیلاب سے تباہ و برباد ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ہمارے سیاستدان اپنی سیاست چمکا رہے ہیں سیلاب کا یہ سلسلہ کو ئی نیا بھی نہیں ہے یہ ہر سال ایسے ہی تباہی مچاتا ہے اس پر ایک مکمل کالم لکھ چکا ہو ں اور اپنے اس سے پہلے کالم میں بھی اسکا ذکر کیا تھاجب لوگوں کے گھر بار مو یشی اور کاروبار تباہ ہو جاتے ہیں تو ہم سب مدد کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہم کونسی صدی اور کس سیارے پر رہتے ہیں کہ سالہاسال سے یہ سلسلہ چل رہا ہے لیکن ہم اسکا کو ئی بندوبست بھی نہیں کر سکے حالانکہ اگر اسکا حل نکال لیا جائے تو پاکستان کے آدھے مسائل بھی حل ہو جائے کیو نکہ اگر اسی پانی کو ڈیم کے ذریعے استعمال کر لیا جائے تو بجلی کا بحران حل ہو سکتا ہے اگر یہ ہو جائے تو ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے لیکن ہم نیو کلیئر ہتھیار تو بنا سکتے ہیں البتہ ڈیم بنانے والا کام ہمارے بس کا نہیں اب تھوڑی سی بات دھاندلی کمیشن کی بھی کر لیتے ہیں اسکا تاریخی فیصلہ بھی آچکا ہے جس میں ایک شخص کو کہا گیا کہ جنا ب آپ کے دل میں سراخ ہے آپکو کینسر بھی ہے ،دماغی توازن بھی ٹھیک نہیں رہا اور آپ ٹانگو ں پر چل بھی نہیں سکتے لیکن پریشانی کی کو ئی بات نہیں اللہ کا بہت شکر ہے کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں اور گھر بھی جا سکتے ہیں ایسا معجزہ تو صرف پاکستان میں ہی پیش آسکتا ہے کیو نکہ بحثیت قوم ہم بھی اتنے پاک صاف ہیں کہ اللہ تعالی کی پاکستانی قوم پر خاص مہربانی ہے کہ جتنے بھی معجزے دنیا میں پیش آسکتے ہیں وہ سر زمین پاکستان پر ہی آئے گے اور اب تو حکومت اس بات کو ماننے کے لئے بھی تیا ر نہیں ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو ئی ہے تو اصلاحات کیسی اب تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کے ساتھ جس طرح کا منافقانہ رویہ اختیا ر کیا جا رہا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے وہی لو گ جو کہتے تھے کہ انکو اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے وہی آج گلی محلے کے آوارہ لوگو ں کی طرح ان کے اوپر آوازیں کس رہے ہیں اب جب کہ تحریک انصاف دھاندلی ثابت کرنے میں ناکا ہو ئی ہے تو انکو بھی چائیے کہ خیبر پختونخواہ کو مثالی صوبہ بنانے میں زور لگائے اور قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے اس اسمبلی کو تسلیم کر لیں کہ اب ہم نے اسی میں کام کرنا ہے اور اجلاس سے پہلے اچھے بچوں کی طرح ہو م ورک کر کے آیا کرے کیو نکہ اس سے پہلے ڈاکٹر عارف علوی اور اسد عمر کی ہی کچھ کارکردگی نظر آتی ہے انکو چاہئے کہ اپنے نئے لوگو ں کو بھی تربیئت دیں انکے ذمے بھی کام لگایا جائے تاکہ انکو بھی سیکھنے کا مو قع ملے شفقت محمود اور شیری مزاری سے بھی کام لینا چاہئے پھر شفقت محمود کا کافی تجربہ بھی ہے انکو چاہئے کہ تنخواہ اور سرکاری مراعات لینے کی بجائے ملک کی بہتری کے لئے محنت اور لگن سے اپنا کردار ادا کریں اور محترم قریشی صاحب سے بھی گزارش ہے کہ اپنی قائدانہ صلاحیت کے صحر سے باہر نکلے اور اسمبلی میں کارکردگی پر زور لگائے یہ کام خان صاحب کے لئے ہی رہنے دیں تو اچھا ہے جاوید ہاشمی صاحب پر آجکل میڈیا بڑا مہربان ہو رہا ہے اور مو صوف بیٹھ کر الزام پہ الزام لگا رہے ہیں
ہاشمی صاحب کہہ رہے تھے ہمیں تو بتایا ہی نہیں جاتا تھا کہ پیسہ کہا سے آرہا تھا انکی خدمت میں اتنا ہی عرض کرو ں گا کہ جب آپ برطانیہ تشریف لائے تھے تو جن لوگو ں نے آپ کو اتنی عزت بخشی وہی لوگ تحریک انصاف کا اثاثہ ہیں جہاں سے تحریک انصاف جو پیسہ جا رہا ہے اور متحدہ قومی مومنٹ والے اسمبلی میں بڑاشور مچا رہے ہیں ظاہر ہے انکو بھی تکلیف ہے کہ تحریک انصاف والے پاکستان سےاب برطانیہ میں بھی انکا پیچھا کر رہے ہیں وہاں وہ پہلے ہی کافی مشکلات سے گزر رہے ہیں انکی خدمت میں یہی عرض ہے کہ آپ لوگ ہی تھے جو دھرنے میں قادری صاحب کو ٹرکو ں میں کھانا دینے کے لئے گئے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

advertise