موٹاپا اور گردوں کے امراض! تحریر:اختر سردار چودھری ،کسووال

Facebooktwittergoogle_pluslinkedinrssyoutubeinstagramby feather

گردوں کے امراض کے عالمی دن 9 مارچ 2017ء کے موقع پر گردوں کے فیل ہونے کی و جوہا ت ،علامات ،علاج اورپرہیز کے بارے ایک معلوماتی خصوصی تحریر
موٹاپا اور گردوں کے امراض!
akhtar-sardar-chصحت مند گردوں کے لئے مثبت طر ززندگی اپنائیں !
انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرالوجی اور نیشنل فیڈریشن آف کڈنی فاؤنڈیشن نے 2006 ء میں گردوں کا عالمی دن منانے کی ابتدا ء کی تھی، دنیا میں 126 ممالک میں یہ دن مارچ کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے ۔اور ہر سال ایک نئے تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے ،امسال اس کا تھیم ہے ،گردوں کے امراض اور موٹاپا،صحت مند گردوں کے لئے مثبت طر ززندگی اپنائیں ۔یعنی موٹاپے پر کنٹرول کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔اس سال 2017 ء کویہ دن 9 مارچ کو منایا جا رہا ہے ۔اس دن کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر طبی تنظیمیں، ہسپتالوں میں گردوں کی بیماریوں کے متعلق سمینارز، ورکشاپس، کانفرنسز اور واک کا اہتمام کر تی ہیں۔
اللہ سبحان تعالیٰ نے انسان کو دو گردوں سے نوازا ہے ۔یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے، پیٹ کی طرف، کمرمیں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں ۔گردہ11 سینٹی میٹر لمبا،کم و بیش7 سینٹی میٹر چوڑا اور 2 یا 3 سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے ۔ہر گردہ میں 10 لاکھ سے زائد نالی دار غدود،نیفران،یا فلٹر(جھلی) ہوتے ہیں ،گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1500 لیٹر خون گزرتا ہے ۔گردوں کا کام جسم سے فاسد ،نقصان دہ،ضرورت سے زائد مادوں کو خارج کرنا ہے ۔
گردے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں ،مثلاََجسم میں کیلشیم ،پوٹاشیم ا ور فاسفورس کی مقدار کے علاوہ پانی اور دیگر نمکیات وغیرہ کا ایک حد تک جسم میں رہنا ضروری ہوتا ہے اس کی کمی و بیشی سے بہت امراض جنم لیتے ہیں ،انسان زندہ نہیں رہ سکتا ،گردوں کا کام ان مادوں ،نمکیات اور پانی میں توازن قائم رکھنا ہے ۔گردے جسم کے لیے ایسے بہت سے مفید ہارمون پیدا کرتے ہیں ،اگر یہ ہارمون جسم میں کم ہو جائیں تو خون کی کمی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے ۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں50 کروڑ افرادگردے کے ا مراض میں مبتلا ہیں ،جن میں سالانہ 8 فیصدکااضافہ ہورہا ہے۔پاکستان میں ہر دسواں شخص گردوں کی بیماری کا شکار ہے ۔یعنی پاکستان میں 2 کروڑکے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔
وجوہا ت !
گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہا ت ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں ۔گردے کی جھلی کی سوزش،جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹرکرنا ہے ،یہ جھلی اگر کام نہ کرے ، کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتیں ہیں ,جس سے گردہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔اس سے پیشاپ کے اندرچربی یا خون آنا شروع ہو جاتاہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے ۔دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے ،اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماََ10 تا 15سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے ۔اس لیے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔ اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے بھی گردے خراب ہو جاتے ہیں ،بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے ۔
موسم گرما میں جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،کم پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور موسم سرما میں سردی کی وجہ سے کم پانی پیا جاتا ہے ،جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جو گردوں میں پتھری کا سبب بنتا ہے ،یہ پتھری پیشاب کے ذریعہ خارج نہیں ہو سکتی ،گرودوں کی جھلی میں زخم بنتے ہیں ،جو سوزش کا باعث بن جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ گردوں کے فیل ہونے کی طرف لے جاتے ہیں ۔یعنی پانی کی کمی گردوں کے فیل ہونے کا تیسرا بڑا سبب ہے ۔جھلی کی سوزش ،شوگر،بلڈ پریشر،پانی کی کمی وغیرہ دیکھا جائے تو یہ سب پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے علاوہ ازیں پانی کا صاف نہ ہونا بھی اس میں شامل ہے ۔
دنیا بھر میں کی گئی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ موٹاپا ہی گردوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے،جس کی وجہ زائد خوراک،بسیار خوری جبکہ طرز زندگی،جنک فوڈز،مرغن غذائیں،ناقص آئل ،گھی کا استعمال،زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام ،ورزش نہ کرنا ،پیدل نہ چلنا،جیسی وجوہات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔
علامات!
اگر کسی کو درج ذیل علامات میں سے کوئی علامت محسوس ہو تو اسے گردوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ لازمی کروا لینا چاہیے ۔کھانے کی خواہش کا ختم ہو جانا ،یاداشت کی کمزوری ،متلی اور قے کا آنا ،چڑچراپن،تھکاوٹ کا محسوس ہونا ،چہرے کا رنگ پیلا ہونا ،خشک جلد،رات کو بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں رکاوٹ وغیرہ کا ہونا ،شوگر کا مرض ہونا،بلڈ پریشر کی کمی یا زیادتی کا ہونا وغیرہ ۔دردہ گردہ میں آدمی ایسے تڑپتا ہے جیسے مچھلی بناں پانی کے جب ایسا کسی کو درد ہو تو گردہ کے مقام پر فوراََ گرم پانی سے ٹکور کریں ،مولی کا نمک چٹائیں ، تمباکو کو ابال کر نیم گرم مقام درد پر باندھ دیں اور ڈاکٹر کے پاس مریض کو لے جائیں خیال رہے نیم حکیم کے پاس نہیں ۔الٹراساونڈ کروائیں ۔پھر ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق عمل کریں ۔
پرہیز!
ایسی تمام غذائیں جن میں فولاد زیادہ پایا جاتا ہے، ان سے پرہیز کریں مثلاََ گوشت،چاول،مکئی،وغیرہ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی ،کولاکے مشروبات ،شراب نوشی،وغیرہ سے پرہیز کریں ۔موٹاپا،زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا،ورزش نہ کرنے والے افراد پر دیگر امراض کی طرح گردوں کے فیل ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں ۔اس لیے صبح دو گلاس تازہ اور صاف پانی پینا ،ہلکی پھلکی ورزش کرنا،دن میں بھی پانی پینا ،کھانا کھانے کے فوراََبعد پانی نہ پینا چاہیے ،رات کو سونے سے گھنٹا بھر پہلے دو گلاس پانی پینا چاہیے ،قبض نہ ہونے دیں ،اسی طرح دیگر حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے بہت سی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔مختصر صاف پانی کا زیادہ استعمال،ہر قسم کے نشہ سے پرہیز ،متوازن غذا،موٹاپے پر کنٹرول کرنے سے کافی حد تک اس مرض سے بچا جا سکتا ہے ۔
علاج!
یہ بات بہت قابل توجہ ہے کہ جب تک گردے 80 یا 90 فیصد تک تباہ نہ ہو چکے ہوں اس سے پہلے مریض کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا وہ اپنا روز مرہ کا کام کرتا رہتا ہے ،ایک گردہ ناکارہ بھی ہو جائے تو بھی دوسرا کام کرتا رہتا ہے ،اسی طرح یہ بات بھی توجہ چاہتی ہے کہ جب گردے ایک بار مکمل ناکارہ ہو جائیں تو کوئی دوائی یا علاج اس کو صحیح حالت میں نہیں لا سکتا ۔اس کا علاج پیوند کاری ہی ہے ۔گردوں کی بیماری کا علاج اس کی اقسام اور سٹیج کے مطابق کیا جاتا ہے ۔عام طور پر 50 فیصد گردوں کے فیل ہونے کا سبب شوگر،بلڈ پریشر،گردوں کا انفیکشن وغیرہ بنتا ہے، اگر ان کا علاج کیا جائے تو اس سے گردوں کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔گردوں میں پتھری ہو تو اس کا علاج شعاعوں سے ،آپریشن سے ممکن ہے ،لیکن مکمل طور پر گردوں کے فیل ہونے کی صورت میں گردوں کی پیوندکاری ہی اس کا علاج ہے، جس میں گردہ دینے والے اور لینے والے کا بلڈ گروپ ایک ہونا ضروری ہے گردہ دینے والے کاجتنا قریبی تعلق ہو گا اس کی پیوندکاری اتنی کامیاب ہو گی ۔

258 total views, 2 views today

share

Share to Google Plus
Share to MyWorld
[Total: 0    Average: 0/5]

Leave a Reply

Your email address will not be published.

advertise