دیر میں واقع جی ایچ کیو ہسپتال کی کہانی ۔۔۔۔ تحریر رانا ساجد سہیل

Facebooktwittergoogle_pluslinkedinrssyoutubeinstagramby feather

blue NA
گزشتہ عام انتخابات میں کے پی کے میں عوام نے عمران خان کے حق میں فیصلہ دیا ظاہر ہے کہ لوگوں کو تحریک انصاف اور عمران خان کے وعدے پر یقین تھا اسی لئے صوبہ کی لگام خان صاحب کے ہاتھ میں دی ، ( لگام ) اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے حکمران ہمیں اسی قابل سمجھتے ہیں کہ ہمارے مقدر کی ڈوری ان کے ہاتھ میں ہو اور یہ جسطرح ، جب چاہے اسی لگام سے گھسیٹینا شروع کر دیں میں کے پی کے کے عوام سے معذرت چاہتا ہوں کہ میرا مقصد کسی قسم کی دل آ زاری کرنا ہرگز نہیں ۔بلکہ ایک افسوس ناک حقیقت بیان کرنا ہے جسکی وجہ سے ان کے اپنےپختون بہن بھائی مشکل حالات میں ہیں۔ دیر سے ایک دوست نے رابطہ کیا جو کہ تبدیلی کا سپاہی ہے کہ ہم بڑی مصیبت میں ہیں آپ برائے مہربانی اس پر کچھ لکھے تاکہ خان صاحب تک ہماری آواز پہنچے اور ہمارے دکھوں کا کوئی ازالہ ہو میں نے ساری بات غور سے سنی جب بات مکمل ہوئی تو میں نے گزارش کی کہ میں آپکا نہایت مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا لیکن ہماری آواز اتنی بڑی نہیں ہے کہ بنی گالہ کے اند ر پہنچ جائے یہ تو بنی گالہ کی دیوار سے ٹکراتے ہی دم توڑ جائے گی اور پھر خان صاحب اور پی ٹی آئی پر تنقید کرنے کا مطلب ہے لفافہ صحافت ، لیکن کیا کرے پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہیں کہ شائد کہیں کوئی امید کی چھوٹی سی کرن پیدا ہو جائے اور اگر انکے مسائل میں کمی ہو جائے تو کوئی دعا ہی دے گا اگر کبھی پاکستان واپس جانا پڑا تو وہاں دعا ہی کام آئے گی کیونکہ دوا تو ملتی نہیں ۔
یہ کہانی جی ایچ کیو ہسپتال دیر کی ہے جو کہ نیا خیبرپختونخواں میں آتا ہے یہ علاقہ پہاڑیوں پر مشتمل ہے زیادہ تر لوگوں کے مکانات کچے ہیں لیکن ہسپتال کی اراضی کسی بھی دوسرے محکمے سے کافی زیادہ ہے ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کے لئے خوبصورت اور بڑے گھر بنے ہوئے ہیں ایسے میں جی ایچ کیو ہسپتال میں دو بھائی ڈاکٹر ہیں جو کہ ڈاکٹر کم اور ڈون زیادہ کہلواتے ہیں جن کے نام نظر الاسلام اور محمد اسلام ہیں یہ اسی ٹاون کے رہنے والے ہیں انکا گھر ہسپتال سے آدھے کلومیٹر پر ہے یہ مہینے کے لاکھوں کماتے ہیں لیکن اپنا گھر ابھی تک کچا رکھا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے ہسپتال کے گھروں پر ہی قبضہ کیا ہوا ہے اور کئی سالوں سے وہاں مسقل طور پر مقیم ہیں کوئی شخص آج تک انکا تبادلہ نہیں کر وا سکا اگر کسی نے کروایا بھی تو انھوں نے گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا اب اگر کو ئی ڈاکٹر باہر سے آئے گا تو ظاہر ہے اسے بیوی بچوں کے لئے رہائش تو چائیے اور یہ اپنے گنڈوں ، بد معاشوں کی مدد سے انھیں تنگ کرتے ہیں کہ وہ خود ہی بھاگ جاتے ہیں کیونکہ انھیں علاقے کی با اثر شخصیات کی مکمل حمائت حاصل ہے کئی دہائیوں سے وہاں پر جماعت اسلامی اور کبھی پیپلز پارٹی کا اقتدار رہا ہے اب بھی دیر سے قومی اسمبلی کے ممبرصاحبزادہ طارق اللہ ہے جو کہ جماعت اسلامی کا پارلیمانی لیڈر بھی ہے پھر صوبائی ممبر اور وزیر بلدیات عنائت اللہ خان بھی انھی کی جماعت سے ہے بلدیات میں بھی انھی کا راج ہے اور وہ با اثر شخصیات بھی یہی لوگ ہیں جو نہ تو پولیس یا کسی دوسرے متعلقہ ادارے کو کاروائی کرنے دیتے ہیں بلکہ جماعت کے لڑکے آواز اٹھانےوالے کی خوب پٹائی بھی کرتے ہیں ، اس نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی سیٹیں پچاس ہیں لیکن وہاں صرف پندرہ یا سولہ ڈاکٹرز موجود ہیں کیونکہ یہ وہاں کسی نئے ڈاکٹر کو رہنے ہی نہیں دیتے اور دو نمبر طریقے سے تنخواہیں خرد برد کرتے ہیں اس نے ایک اور حیران کن بات بتائی کہ پچھلے سال ہسپتال کو تین کروڑ کا فنڈ ملا جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے ذاتی اکاونٹ میں رکھ کر بنک سے سود کی مد میں منافع کماتے رہے اور ہسپتال میں مشینری اور دوائیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لقمہ موت بنتے رہے اور جب یہ سکینڈل پکڑا گیا تو چند دن کے بعد معاملے کو دبا دیا گیا اس نے بتایا کہ ایک شخص نیم بے ہوشی کی حالت میں ایک بچی اٹھائی ہوئی تھی دو پہر کا وقت تھا لیکن ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا لوگوں نے شور مچایا اور اسے ہیڈ ڈاکٹر کے دفتر میں لے گئے اس نے بچی کو وہی اپنے میز پر لیٹاتے ہوئے چیک اپ کیا اور ایمر جنسی طور پر کچھ ادویات دی اور بچی تھوڑی دیر بعد ہوش و حواص میں آ گئی اور وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا کہ اگر اسکو نہ دیکھا جاتا تو شائد وہ کبھی بچی سے دوبارہ بات نہ کر سکتا اور وہ ایک یاد بن کر رہ جاتی جب لوگوں نے ہیڈ ڈاکٹر پر پریشر ڈالا کہ ہسپتال میں لوگوں سے جانوروں سے بد تر سلوک کیا جاتا ہے تو ڈاکٹر نے جواب دیا کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے میری بات تو ہسپتال کا چپڑاسی بھی خوشی سے نہیں سنتا یہ سب ملے ہوئے ہیں کوئی انکے خلاف کاروائی کرنے کو بھی تیار نہیں ہے سب ڈرتے ہیں ، ایک لیڈی ڈاکٹر صاحبہ بھی ہیں جو زچہ بچہ سنٹر کی انچارج ہیں دوسرے ڈاکٹروں کی طرح یہ بھی بارہ بجے کے بعد اپنے پرائیویٹ کلینک پر چلی جاتی ہیں جو بھی حاملہ عورت آتی ہے پہلے تو جلدی کسی کو چیک نہیں کیا جاتا پھر کہا جاتا ہے کہ یہاں ہمارے پاس تو کوئی دوائی نہیں ہے آپ میرے کلینک پر آ جائیں کچھ دن پہلے یہ ساری عورتوں کو اکھٹا کر کے کلینک پر لیجا رہی تھی کہ کچھ نو جوانوں نے شور مچایا تو انھوں نے ہیڈ ڈاکٹر کو کال کی مجھے حراصاں کیاجا رہا ہے جس پر ڈاکٹر نے کہا کہ آپ اس وقت ڈیوٹی چھوڑ کر بنا بتائے کہا جا رہی ہیں اور اسے شرمندگی اٹھانا پڑی ، ذرا اور سن لیں ایک شخص دور دراز سے آیا اسکی بیوی کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی اسی لیڈی ڈاکٹر نے دوائیوں کے پیسے مانگے اس نے کہا کہ میرے پاس پرچی کٹوائی ہوئی ہے آپ پیسے کیوں مانگ رہی ہیں اور میں نہائت ٖغریب انسان ہوں اگر ہوتے تو دے بھی دیتا مو صوفہ نے پولیس کو بلا کر مقدمہ درج کر وا دیا کہ میرا قیمتی وقت ضائع کیا ہے اور نو لاکھ کا ہتک عزت کا دعوہ بھی کر دیا اور وہ غریب شخص جو بیوی کا علاج نہ کر وا سکا سب بیچ باچ کے ابھی تک عدالتوں کے دھکے کھا رہا ہے اس کہانی کا بھانڈا گزشتہ روز تب پھوٹا جب ان ڈاکٹرز نے بہت بڑی تعداد میں ایکسپائر ادویات چوری چپکے جلانے کی کوشش کی ادویات کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ کئی گھنٹے دھواں نکلتا رہا اور ہسپتال کے قریب ہی رہنے والے پولیس آفیسر کو شک ہوا جب اس نے آکر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ ڈاکٹر صاحبان ساری مہنگی ادویات اپنے پرائیویٹ کلینک پر بیچتے تھے اور لوگوں کو جھوٹ بولا جاتا تھا کہ ہسپتال میں ادویات نہیں ہیں ۔لیکن ابھی تک انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی۔
اسکے علاوہ اس نے تعلیم کے حوالے سے بھی شکوہ کیا کہ لڑکیوں کا ایک ہی ہائی سکول ہے اور تعداد اتنی زیادہ ہے کہ بہت سی بچیوں کو داخلہ ہی نہیں ملتا لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ سے ایک ایک کالج ہے جو کہ سال میں تین سے چار مہینے کھلتا ہے کبھی گرمی و سردی کی چھٹیاں تو کبھی سیکیورٹی کی وجہ سے کہاں جاتا ہے کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں انکا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اپنے بچوں کی تو حفا ظت کر لیتا ہے یا وہ بیرون ملک ہی رہتے ہیں لیکن ہماری بچیوں کی تعلیم کا ذمہ دار کون ہےاور اگر کھلتا ہے تو اساتذہ ہی پورے نہیں آتے مفت میں تنخواہیں لی جا رہی ہیں لڑکیوں کے کالج کی ایک ہی بس ہے جو سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کئ ماہ سے بند ہے اور بچیاں کالج آنے سے قاصر، میں نے ان صاحب سے پوچھ لیا کہ آپ کے صوبے میں تو تبدیلی آئی ہے آپ نے کسی کو شکائت کی تو انھوں نے سارا غصہ میرے اوپر ہی نکا لا کہ آپ تو برطانیہ میں بیٹھ کر باتیں کر رہیں ہیں آپ کو نہیں پتا کہ پاکستان میں کیا کچھ ہوتا ہے جس سے بات کرو وہ یہی کہتا ہے الٹا ہم سے ہی سوال پوچھنا شروع کر دیتا ہے اگر کوئی سنوائی ہوئی ہوتی تو میں پھر آپ سے کیو ں کہتا ہسپتالوں میں مریض مر رہے ہیں بچیاں ہماری سکول نہیں جا سکتی ،جان ہماری محفوظ نہیں اور ہمیں تبدیلی کے طعنے دئے جاتے ہیں میں نے نہایت عاجزی اور شرمندگی سے عرض کیا کہ میرا مطلب وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں کال بند کی اور اسکی باتیں سن کر لکھنے پر مجبور ہو گیاکیونکہ اسکی آواز میں غم و غصہ ، درد اور بے بسی کو سمجھ سکتا ہوں۔

2,583 total views, 1 views today

share

Share to Google Plus
Share to MyWorld
[Total: 1    Average: 5/5]

Leave a Reply

Your email address will not be published.

advertise